• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھنا چاہیے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان—فائل فوٹو
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان—فائل فوٹو

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کا کہنا ہے کہ اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ نئے عدالتی سال کا آغاز انصاف کی فراہمی کے عزم کی تجدید کا دن ہے، آئین کی پاسداری سے ہی معاشرے میں استحکام ممکن ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کا کہنا ہے کہ آئین میں اختیارات اور حدود کا واضح تعین کیا گیا ہے، وفاقی آئینی عدالت آئینی معاملات پر اپنی ذمے داریاں باخوبی نبھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی اُمور میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا ضروری ہے، وفاقی آئینی عدالت نے مختصر عرصے میں کئی اہم مقدمات کے فیصلے سنائے، ٹیکنالوجی کا استعمال ادارہ جاتی استعداد اور شفافیت کو بڑھاتا ہے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، بلا امتیاز آئینی انصاف ہماری بنیادی ترجیح رہنی چاہیے، مقدمات کی سماعت کے لیے تقرری شفاف انداز میں کی جاتی ہے، عدلیہ کی آزادی کسی بھی معاشرے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ بیرونی دوروں اور سرگرمیوں سے عدالتی شعبے میں تعاون بڑھایا جا رہا ہے، بار ایسوسی ایشنز اور دیگر وفود کے وفاقی آئینی عدالت کے دورے بھی اہم ہیں، وفاقی آئینی عدالت تفویض کردہ آئینی ذمے داریاں پختہ عزم کے ساتھ نبھاتی رہے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ بار اور بینچ کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا، نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

قومی خبریں سے مزید