• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: انتخابات کے موقع پر امیدواروں کیساتھ ناروا سلوک کے واقعات

—فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا
—فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا

انتخابات کے موقع پر ترقی پذیر ممالک میں امیدواروں کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات تو عام ہیں، لیکن اب برطانیہ میں بھی ایسے مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔

الیکشن کی نگرانی کرنے والے ادارے الیکٹورل کمیشن کے مطابق رواں برس مقامی انتخابات کے موقع پر 55 فیصد امیدواروں کو ہراساں کیے جانے یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ گزشتہ برس یہ شرح 47 فیصد تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہراساں کیا جانا سب سے عام مسئلہ تھا اور 39 فیصد امیدواروں کو اس کا سامنا کرنا پڑا، امیدواروں نے مخالف سیاسی جماعتوں کے ارکان اور عام لوگوں کی جانب سے زبانی بدسلوکی، سڑک پر پیچھا کیے جانے اور بعض صورتوں میں جسمانی تشدد کی شکایات بھی کیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک امیدوار نے بتایا کہ اسے مکا مارنے اور اس پر تھوکنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم صرف 15 فیصد امیدواروں نے ایسے واقعات کی پولیس کو رپورٹ کی۔

رپورٹ میں بتایا ہے کہ لیبر اور ریفارم یو کے کے نصف سے زائد امیدواروں کو بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ گرین پارٹی کے امیدواروں میں یہ شرح 43 فیصد رہی، کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کے امیدواروں میں یہ شرح بالترتیب 26 اور 22 فیصد تھی۔

الیکٹورل کمیشن کے چیف ایگزیکٹیو وجے رنگا رانجن نے کہا ہے کہ اگر امیدواروں کی حفاظت میں بہتری نہ لائی گئی تو لوگ مستقبل میں انتخابات میں امیدوار بننے سے گریز کریں گے، الیکٹورل کمیشن نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ توہین آمیز اور بدسلوکی پر مبنی مواد کو زیادہ تیزی سے ہٹائیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید