وفاقی آئینی عدالت نے قیدیوں کو نجی اسپتال میں علاج کی سہولت دینے کے معاملے میں سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی کیس کا ریکارڈ طلب کرلیا۔
سپریم کورٹ اور دیگر ہائیکورٹس میں اس نوعیت کے دیگر مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔
عدالت کے تحریری حکم کے مطابق اٹارنی جنرل نے استدعا کی جیل سہولیات سے متعلق عدالتی اختیار سماعت، آئین اور قانون کا معاملہ تشریح طلب ہے۔
موجودہ درخواست اور ایسی ہی درخواست پر 18اگست کو سپریم کورٹ نےحکم جاری کیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا سپریم کورٹ نے ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا، آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس تو فوجداری نوعیت کا ہے، ہمارے پاس کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف آیا ہے، سپریم کورٹ کا حکم تو ابھی عبوری ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اصل سوال تو اختیار سماعت کا ہے، سوال یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کا کیس اب کون سن سکتا ہے۔