پاکستان 54 سال بعد عالمی توانائی فورم گیس ٹیک 2026 کا حصہ بن گیا۔
تھائی لینڈ کے بینکاک انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ ایگزیبیشن سینٹر (بائٹیک) میں 14 سے 17 ستمبر تک جاری کانفرنس و نمائش کے منتظمین کے مطابق پاکستان کی کسی کمپنی کی یہ پہلی شرکت ہے۔
گیس ٹیک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کانفرنس میں 7 ہزار مندوبین، ایک ہزار نمائش کنندگان اور 150 ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔ کانفرنس اور نمائش کے دوران 50 ہزار شرکاء کی آمد متوقع ہے۔
یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (یو جی ڈی سی) 54 سالہ تاریخ میں پہلی پاکستانی کمپنی ہے جس نے نمائش میں اپنا اسٹال قائم کیا ہے۔
بینکاک میں جیو نیوز سے گفتگو میں یو جی ڈی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غیاث عبداللّٰہ پراچہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نجی شعبے کو 35 فیصد گیس مختص کرنے کی پالیسی گیس سیکٹر میں ڈی ریگولیشن کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی غیر ملکی سرمایہ کاری، براہِ راست کاروباری شراکت داریوں اور نجی گیس تقسیم کاری نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں کمی لانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت گیس کی تقسیم سرکاری کمپنیوں ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے پاس ہے، تاہم یو جی ڈی سی امریکی اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کے اشتراک سے نجی نیٹ ورکس قائم کرنے کی خواہاں ہے۔
ان کے مطابق نجی شعبے کے نیٹ ورکس سے گیس نقصانات کم ہوں گے اور صارفین کو سستی گیس ملے گی۔
غیاث پراچہ نے بتایا کہ یو جی ڈی سی تین غیر فعال گیس فیلڈز کو فعال کر چکی ہے اور ایگزون موبل، قطر انرجی، کونوکو فلپس اور ٹرافیگورا سمیت عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری سے حکومت کو ٹیکس اور ٹرانزٹ فیس کی مد میں آمدن حاصل ہوگی جبکہ توانائی کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔
تھائی لینڈ میں پاکستان کی سفیر سعدیہ قاضی نے یو جی ڈی سی کے اسٹال کا دورہ کیا اور گیس ٹیک میں پاکستانی کمپنی کی شرکت کو عالمی سطح پر پاکستانی کاروباری شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان کے توانائی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور کم کاربن حلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
کانفرنس اور نمائش کے اختتام تک دنیا کی مختلف گیس کمپنیوں کے درمیان گیس کی تلاش پیداوار تقسیم اور ترسیل سمیت گیس کی درآمد اور برآمد سے متعلق اربوں ڈالر کے معاہدے متوقع ہیں۔