• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی حکومتی نگراں ادارے کی ہتھیاروں کے ذخائر متاثر ہونے کی تصدیق

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی حکومتی نگراں ادارے کی جاری ہونے والی رپورٹ میں باضابطہ طور پر تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ کئی ماہ کی براہِ راست جنگ کے بعد امریکی فوج کو اسٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی اور جدید ہتھیاروں کی فراہمی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع، محکمہ خارجہ اور ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے انسپکٹر جنرلز کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی رپورٹ میں پہلی بار امریکی حکومت کی جانب سے اہم گولہ بارود کے ذخائر میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصانات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں شامل ماہرین کے اندازوں کے مطابق دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والی کمپنیوں کو جدید میزائلوں اور دفاعی میزائلوں کے ذخائر کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے میں 3 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

رپورٹ میں امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے وسیع پیمانے پر نقصانات کی بھی تفصیلات دی گئی ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں موجود امریکی اڈوں پر سیکڑوں عمارتیں اور دیگر ڈھانچے تباہ یا متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق حملوں میں درجنوں امریکی طیاروں اور ڈرونز کو بھی نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید