• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین: ’گریویٹی-1‘ راکٹ نے بیک وقت 9 سیٹلائٹس سمندر سے خلاء میں پہنچا دیے

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

چین کے تجارتی خلائی راکٹ گریویٹی-1 (Gravity-1 Y3) نے شنگھائی کی مشرقی سمندری حدود سے بیک وقت 9 سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں کامیابی سے پہنچا دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق راکٹ تیار کرنے والی چینی کمرشل خلائی کمپنی اورین اسپیس کا کہنا ہے کہ اس مشن نے چین کی سمندری راکٹ لانچنگ کی تاریخ میں پے لوڈ کے وزن اور مدار کی بلندی کے حوالے سے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر نے اس مشن کو انجام دیا ہے، سیٹلائٹس میں چیان فان کنستلیشن کے نئے گروپ کے سیٹلائٹس اور ایک ای یو ایچ ٹی ٹیکنالوجی ٹیسٹ سیٹلائٹ شامل تھا۔

ٹھوس ایندھن پر چلنے والے اس راکٹ میں دنیا میں پہلی بار اسٹیکڈ سیٹلائٹ لانچنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔

ٹھوس ایندھن (solid-fuel) سے چلنے والے چینی ساختہ راکٹ کی زیادہ سے زیادہ پے لوڈ لے جانے کی گنجائش 6.5 ٹن ہے۔

یہ سیٹلائٹس بیجنگ کے وقت کے مطابق صبح 6 بجے ’گریویٹی-1 وائی 3‘ کیریئر راکٹ کے ذریعے خلاء میں روانہ کیے گئے، مشن کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گریویٹی-1 راکٹ اب تک 4 سمندری لانچ مکمل کر چکا ہے اور یہ تمام لانچ کامیاب رہے ہیں۔

حالیہ سنگل مشن گریویٹی-1 کا پہلا ایسا لانچ تھا جس کا مقصد کم زمینی مدار میں قائم کیے جانے والے بڑے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کنستلیشن کے لیے سیٹلائٹس کو نیٹ ورک میں شامل کرنا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید