• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی کرکٹرز صرف سینٹرل کنٹریکٹس بچانے کیلئے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں: احمد شہزاد

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر احمد شہزاد کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کے کئی اسٹار کرکٹرز اپنی مرضی سے نہیں بلکہ صرف سینٹرل کنٹریکٹس بچانے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، فخر زمان اور سلمان علی آغا سمیت کئی نمایاں کھلاڑی حالیہ پریذیڈنٹ ٹرافی میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے ہیں، جبکہ بابر اعظم بھی آئندہ راؤنڈ میں ٹورنامنٹ کا حصہ بننے والے ہیں۔

احمد شہزاد نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے پروگرام میں اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا ہے کہ ان کھلاڑیوں کی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی انتخاب نہیں بلکہ سینٹرل کنٹریکٹس کا نتیجہ ہے۔

سابق کرکٹر نے کہا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹس میں کھلاڑیوں کے لیے مخصوص تعداد میں ڈومیسٹک میچز کھیلنا لازمی قرار دیا گیا ہے، بصورتِ دیگر وہ سینٹرل کنٹریکٹ کے اہل نہیں ہوں گے۔

اُنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں استعمال ہونے والی پچز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میچز میں غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں رنز بن رہے ہوں تو اس نظام کا مقصد پورا نہیں ہو گا۔

احمد شہزاد نے کہا کہ ہمیں ایسی پچز کی ضرورت ہے جہاں بالرز کو بھی مدد ملے تاکہ بلے باز اپنی تکنیکی خامیوں کو دور کر سکیں اور بین الاقوامی کرکٹ کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں تیار ہوں۔

انہوں نے ماضی میں سیالکوٹ اور راولپنڈی کے بعض مقامات پر ملنے والی پچز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا مقصد صرف رنز بنانا نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کے لیے تیار کرنا بھی ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے 27-2026ء کے لیے مرکزی معاہدوں کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے روایتی اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز کے بجائے فارمیٹ کی بنیاد پر 5 ٹریکس متعارف کروائے ہیں۔

نئے نظام کے تحت کھلاڑیوں کے لیے فٹنس اور میڈیکل ٹیسٹ کے علاوہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مخصوص شرکت اور کارکردگی کے معیار پر پورا اترنا بھی ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق سینئر ٹریکس کے لیے صرف وہ کھلاڑی اہل ہوں گے جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران کم از کم 4 ٹیسٹ، 6 ون ڈے یا 6 ٹی 20 انٹرنیشنل کھیلنے کی شرط بھی پوری کی ہو گی، جب کہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے مختص ٹریک ڈی پر یہ شرط لاگو نہیں ہوتی۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید