وجاہت مسعود صاحب نے اپنے دو کالموں (5 ستمبر اور 12ستمبر ) میں اِس کم مایہ کو جن مہربان الفاظ سے نوازا، اُنکا بار اٹھانا آسان نہیں۔ رومی کی بانسری سے کلام اٹھایا اور اِس خاکسار کو ”مغتنم“ جانا حالانکہ یہ رعایت اُن کے ظرف کی شہادت ہے، فقیر کی بساط کی نہیں۔ قبلہ وجاہت نے چار دفعہ اس معاملے پر قلم اٹھایا اور ہر بار مکالمے کو نئی رفعت عطا کی۔ ان سے نیاز کا یہی رشتہ ہے کہ وہ خاکسار کو اوقات سے بڑھ کر سکھائیں۔ سو پہلے شکر، پھر گزارش۔
جنابِ وجاہت نے کانگریسی وزارتوں کے دفاع میں وائسرائے لنلتھگو کو گواہ کیا ہے۔ 1935ء کے قانون نے تعلیم، پولیس اور تقرریاں منتخب وزیروں کے سپرد کیں، اور خود لنلتھگو نے 22جون 1937ء کو لکھ دیا کہ گورنر صاحبان روزمرہ معاملات میں دخل نہ دینگے ۔ پیرپور اور شریف رپورٹوں کو لیگ کا پرو پیگنڈا کہہ کر شاہی تحقیقاتی کمیشن سے انکار کرنے والا لنلتھگو 22فروری 1940ء کو لکھتا ہے کہ مسلمان کانگریسی وزارتوں کی واپسی شکایات کے ازالے کے بغیر قبول نہ کرینگے (Linlithgow to Zetland, 22 Feb 1940)۔ اصولِ قضا کا مسلّمہ قاعدہ ہے: جو گواہ خود اپنی بات کاٹے، اُس کی کوئی بات حجت نہیں رہتی۔ در اصل کانگریسی وزارتوں کا مزاج پہلے دن سے ہندو اکثریت پسندی کے خمیر سے اٹھا تھا۔ بہار ہی کو لیجیے۔ ڈاکٹر سید محمود وزارتِ عظمیٰ کے سب سے مضبوط امیدوار تھے، مگر کرسی سری کرشن سنہا کو ملی اور اِس کی وجہ کسی لیگی کے پرچے میں نہیں، خود آزاد کی زبانی ہے کہ سید محمود کو محض اِسلئے دور رکھا گیا کہ صوبے کا ہندو حلقہ ناراض نہ ہو جائے (India Wins Freedom, 1959)۔ یہ کسی جاہل ہجوم کا نہیں، سیکولرزم کی علم بردار جماعت کی ہائی کمانڈ کا فیصلہ تھا۔جب وفادار کو بھی مذہبی شناخت پر روکا جائے تو دراڑ سے انکار کیونکر ممکن ہو؟ یو پی میں مخلوط وزارت اِس شرط پر ٹوٹی کہ لیگ اپنا وجود کانگریس میں ضم کر دے ۔ یہ شراکت نہیں، ادغام کا مطالبہ تھا۔ جانبِ والا ، سکندر حیات، فضل حق اور سعد اللہ کا قصہ کومے تک نہیں، فل اسٹاپ تک پڑھیے ۔جولائی 1941ء میں یہ جناح کی مرضی کے بغیر وائسرائے کی کونسل میں جا بیٹھے، اور اگست ڈھلتےڈھلتے اُسی بے کرسی بیرسٹر کے حکم پر مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے۔
وجاہت صاحب نے پیش کردہ ہندوستانی حقائق کو ”ناقابل تردید“ مان کر آئینہ وطن کی جانب موڑ دیا۔ درست کہا کہ شیشے کے گھر والے کو یاد رہے کہ اُس کا اپنا گھر کتنا شفاف ہے۔ فقیر اِس سے نظر نہیں چراتا۔ اِس گھر میں اپنے مسیحی اور ہندو ہم وطنوں کے ساتھ جو ہوا، اُس پر دل دکھتا ہے اور نظر جھکتی ہے ، جوزف کالونی اور جڑانوالہ کی کوئی تاویل نہیں۔ مگر نوحہ پڑھتے ہوئے بھی ایک باریک فرق ملحوظ رہے۔ ریاست دو طرح ذمہ دار ٹھہرتی ہے: ایک وہ جو خود اپنی پالیسی اور قانون سے کسی طبقے کو محکوم بنائے دوسری وہ جو ہجوم کو بروقت روکنے میں ناکام رہے۔ پہلا جبر ہے، دوسرا کوتاہی۔ شرمندگی دونوں پر، مگر نوعیت ایک نہیں۔ اور جہاں ریاست نے خود رخ متعین کیا، وہاں دونوں ملکوں کا فرق کھل کر سامنےآ گیا۔ اُس پار ریاستی سرپرستی میں بابری مسجد گرا دی گئی اور اُس کی پونے تین ایکڑ زمین مندر کو دے دی گئی۔ اِس پار ریاست نے کرتار پور کا دروازہ کھولا اور نارووال میں بابا گورو نانک کا تین ایکڑ کا آستانہ بیالیس ایکڑ تک وسیع کر کے دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنا دیا۔ ہمارا داغ زیادہ تر وہاں ہے جہاں ہجوم اٹھا اور ریاست بروقت روک نہ سکی مگر اُس پار جنرل ضمیر الدین شاہ اور سنجیو بھٹ گواہ ہیں کہ گجرات کے مسلم کش فسادات ریاست کی مکمل سرپرستی میں ہوئے۔
وجاہت صاحب کا یہ اشارہ بھی بجا کہ گیارہ اگست کی تقریر کا وعدہ قراردادِ مقاصد کے بعد وہ نہ رہا جو کہا گیا تھا۔ فقیر کو اس سے مفر نہیں مگر جو بات حضرت کا استغاثہ ہے، وہی فقیر کے مقدمے کی تصدیق بھی ہے: غلبہ ہر گھر میں اپنا رنگ دکھاتا ہے، سرحد کے اُس پار بھی اور اِس پار بھی۔ اور اِسی لیے وہ امکان جو اکثریتی بھارت نے اپنی اقلیت کو نہ دیا، اِس گھر میں ہر شناخت کو دینا سب سے پہلے ہم پر حجت ہے۔ جہاں تک وجاہت صاحب کا وہ اشارہ ہے کہ خود اِس دیس کا ایک بازو نصف صدی پہلے جدا ہو گیا، اِس فقیر کے مقدمے کی تردید نہیں، اُس کی تصدیق ہے۔ عقیدہ وہاں مشترک تھا، پھر بھی شناخت کی ایک اور دراڑ نے جنم لیا۔ اِس لیے کہ دراڑ محض مذہب کی نہیں، غلبے کی ہوتی ہے۔ غلبہ ضم ہونے کی دعوت دیتا ہے اور اُسے وحدت کا نام دیتا ہے۔ جسے دریا اپنانا کہتا ہے، قطرے کیلئے وہ فنا ہے، وحدت نہیں۔ جہاں ایک گروہ دوسرے کی زبان اور نمائندگی کو ماننے سے انکار کر دے، وہاں مشترک ایمان بھی بند نہیں باندھ پاتا۔ سو یہ باب وہی سبق دہراتا ہے جو فقیر تین نشستوں سے عرض کر رہا ہے: دراڑ کا ماخذغلبے کی خواہش ہے،عقیدے اور زبان کی شناختیں ایسے غلبے سے انکار کے اوتار ہیں۔
وجاہت صاحب نے رومی کی بانسری سے آغاز کیا : وہ نَے جو نیستان سے کاٹی گئی اور جدائی کا نالہ کرتی ہے۔ مگر بانسری اُس دن نہیں کٹی جب لکیر کھنچی۔ وہ اُس دن کٹی جب اقلیت نے اپنی زبان اور نمائندگی کی فریاد رکھی اور اکثریت کے رہنما نے اُسے ”اصل مسئلہ ہی نہیں“ کہہ کر رد کر دیا۔ یہ فقیر کا الزام نہیں وہ الفاظ ہیں جو نہرو نے 1938ء میں جناح کے نام اپنے شائع شدہ خط میں لکھے۔ گویا ہمارے حقوق کی بریدگی کا عمل اُس خط سے ہوا جسکے لکھاری نہرو خود تھے۔ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق / آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا۔ پاکستان اُس بریدگی کا نالہ تھا، بریدگی نہیںاور یہی نالہ ڈھاکہ میں دوبارہ اٹھا کیونکہ ایک اور غالب گروہ اپنے بھائیوں کے معاملے میں منصف بننے کی بجائے فریق بن گیا۔ وجاہت صاحب نے آئینے کا رخ موڑا ہے، فقیر پہلے اپنا آئینہ صاف کرتا ہے، سر جھکاتا ہے اور پھر اُس پار دیکھتا ہے۔ مگر فقیر کا جھکا ہوا سر ہندوتوا کی بریت کی دلیل نہیں۔ بانیانِ پاکستان کا احسان کہ اُنہوں نے بصیرت کی آنکھ سے وہ منظر سات دہائیاں پہلے دیکھ لیا جس تک سچر اور کنڈو اعداد کے راستے بہت بعد میں پہنچے۔
وجاہت صاحب کا سولہ ستمبر کا کالم پڑھ کر ہمیں برٹرینڈ رسل کے شاگردِ رشید وِٹگنسٹائن یاد آئے ، جنھوں نے اپنے رسالۂ منطق و فلسفہ (Tractatus Logico-Philosophicus) کا خاتمہ ایک ہی جملے پر کیا تھا: جس پر بات نہیں ہو سکتی، اُس پر خاموش رہنا چاہیے۔ دلیل کا میدان اور ہے، چٹکلہ بازی کا اور۔ اور جہاں مکالمہ پہلے سے دوسرے کی طرف سرکنے لگے، وہاں منطق کا تقاضا بحث نہیں، سکوت ہے۔ سو یہ خاکسار وہیں رکتا ہے جہاں دلیل رکتی ہے: نہ ایک قدم پیچھے، نہ ایک قدم آگے۔ وطن سے محبت کسی مباحثے کی محتاج نہیں، سو یہ خاکسار اپنے کام کاج کی طرف لوٹتا ہے، اِس یقین کے ساتھ کہ بحث تھمے تو تھمے، وجاہت صاحب سے نیاز کا رشتہ سلامت رہے گا۔