صدیق مکرم! وطن عزیز کے یوم آزادی کی مناسبت سے آپ نے اس اہم موضوع پر قلم اٹھایا اور ساکنان کنج قفس کو تحریک ہوئی کہ صبا کے ہاتھ شوق گریہ کے کچھ نشان سوئے گلزار روانہ کئے جائیں۔ ہم آشفتہ سروں کے شغل نم دیدہ کا شکوہ تو آپ نے بھی کیا ہے۔ یہ مکالمہ مگر اب واقعات اور نتائج کی جدلیات میں تاریخ کے ان مباحث کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں آپکا ایجاز بیان درویش کے طولِ ملال سے الجھ جائیگا۔ سو آج یہ جاری مکالمہ ختم کرتے ہیں۔ سندھی میں کہتے ہیں، توھانجو اسانجھو دوستی سجی زندگی جو معاملو آھی ۔ عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے۔ مرحوم غلام کبریا تو آپ کو یاد ہونگے۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں انجینئرنگ کالج کے ابتدائی گریجوٹیس میں سے ایک تھے۔ ہمارے فراموش کردہ محسنوں میں شمار ہوتے ہیں۔ نوجوانی میں پروفیسر کرار حسین اور اختر حمید خان سے صحبت رہی تھی۔ پاکستان میں حقیقی صنعتی ترقی انکے دل میں سمائی تھی۔ پاکستان آ کر لاہور کے بریڈ لا ہال میں بیس برس تک ملی تکنیکی ادارہ چلایا۔ جہاں نوجوانوں کو مفت پیشہ ورانہ ہنر سکھائے جاتے تھے اور پڑھانے والے معاوضہ لینے کے روادار نہیں تھے۔ غلام کبریا کے قلم سے پاکستان کی معیشت اور صنعتی ترقی پر نصف درجن گراں قدر کتابیں نکلیں۔ ایک کتاب کا عنوان تھا۔Pre-independence Indian Muslim mind set۔ مسلمانوں کا ذہنی رویہ ابتدائی عمر ہی سے غلام کبریا کے غور و فکر کا محور تھا۔ انکے خیالات کا خلاصہ جاننا ہو تو انتظار حسین کے افسانے ’ہندوستان سے ایک خط‘ کا ایک جملہ دیکھئے۔’ہم نے دیار ہند میں صدیاں بسر کیں۔ حکومتیں بھی کیں، محکوم بھی رہے ‘۔ صاحب یہ’ حاکمیت اور محکومی‘ کے مراق ہی نے مسلم ہندوستان کی جڑیںکھوکھلی کیں۔ مذہبی شناخت سے اسی غیر متوازن شغف نے مسلمان ذہن کو جدید فکر سے مخاصمت بخشی۔ مذہبی پیشوائوںکی سرپرستی کبھی سیاسی ہتھکنڈہ تھی مگر اب اسکی پرچھائیاں عدل کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچ گئی ہیں۔ حبیب مکرم! آپ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ترقی اور فی کس آمدنی کی ناہمواری کے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ معیشت آپ کا شعبہ ہے ۔ تاریخ البتہ یہ جانتی ہے کہ سمندر کے راستے برصغیر پہنچنے والے سورت ، مدراس اور کلکتہ میں اترے تھے۔ انگریزوں کی آمد سے قبل بھی ہندو دربار اور تعلقہ داری سے لاتعلق اور بیوپار میں مشاق تھا۔ ہندو ذہن نے جدیدسیاسی ڈھانچوں کو مفید مطلب جان کر اپنایا۔ جنگ پلاسی اور 1857 کے آندولن میں ٹھیک سو برس پڑتے ہیں۔ معاشی اسرار و رموز میں سو برس کا وقفہ تاریخ میں نسل در نسل اثرات چھوڑتا ہے۔ ہمارے ساتھ یہ المیہ رہا کہ مسلم لیگ نہ تو معروف معنوں میں سیاسی جماعت تھی اور نہ تحریک آزادی کی علم بردار۔ آپ عالمی جنگ کے دوران بنیادی سیاسی بدلائو کا ذکر کرتے ہیں۔ محض یہ دیکھ لیجئے کہ مغربی پاکستان میں کون سربرآوردہ سیاسی رہنما 1945 ءسے پہلے مطالبہ پاکستان میں شریک تھا۔ کانگریس تو تحریک خلافت کے برسوں سے گائوں اور تحصیل کی سطح پر باقاعدہ تنظیم رکھتی تھی۔ اس کی قیادت میں فکر و نظر کا تنوع بھی تھا اور سیاسی مبادیات پر ذہنی یکسوئی بھی۔ پاکستان کے حصے میں برطانوی ہند کی 21فیصد آبادی ، 18فیصد معاشی وسائل اور 35فیصد فوج آئی۔ دہلی کے سائوتھ بلاک میں بیٹھے بابو لوگ عبوری حکومت کے دوران ہی مسلم لیگ کی قیادت پر کاٹھی ڈال چکے تھے۔ پاکستان نے کمزور سیاسی بنیاد، طاقتور انتظامیہ اور لاکھوں مہاجرین کی آباد کاری کے سہ گونہ بوجھ تلے سفر شروع کیا ۔ ان حالات میں وجودی بقا کا سوال ہی سرفہرست تھا۔ اونٹ کے کوہان پر کسی کی نظر نہیں گئی۔ شمال مغربی قبائلی علاقوں میں سیاسی جوڑ توڑ کے شناورا سکندر مرزا کے سیکرٹری دفاع ہوتے ہوئے دسمبر 1949 ء میں جنگ شاہی طیارے کی تباہی کو حادثہ ماننا باور نہیں ہوتا۔ یہ تو معلوم حقیقت ہے کہ اسکندر مرزا نے سنیارٹی میں دسویں نمبر پر آنے والے ایوب خان کو آرمی چیف بنانے کیلئے لیاقت علی خان کو قائل کیا۔ دستور ساز اسمبلی کو آئین بنا کر نئے انتخابات کرانا تھے۔ اس اسمبلی کے بیشتر ارکان زرعی اصلاحات اورنئے انتخابات سے یکساں طور پر خائف تھے۔ مارچ 1954ء میں مشرقی بنگال کے انتخابات نے سیاسی ممکنات کا منظر مزید واضح کر دیا۔ مشرقی پاکستان کے چیف سیکرٹری عزیز احمد طبعاً وائسرائے کا مزاج اور بلند سیاسی عزائم رکھتے تھے۔ اس پر غلام محمد اور مشتاق گورمانی کے گٹھ جوڑ نے گویا گرہ باندھ دی۔ لیاقت علی خان کی شہادت سیاسی قتل کا کلاسیکی نمونہ تھی اور اس سازش کے کردار جانے پہچانے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں کہ لیاقت علی خان کے ساتھ ہی عبدالرب نشتر بھی سیاسی منظر سے غائب ہو گئے۔ اکتوبر 1954ء میں غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑی تو نئی کابینہ میں ایوب خان نے وزیر دفاع اور اسکندر مرزا نے وزیر داخلہ کے روپ میں رونمائی دی۔ درحقیقت 1951ء کی ابتدا ہی سے حقیقی حکومت ایوب خان اور اسکندر مرزا کے ہاتھ میں تھی اور وہ شبانہ روز سازشوں سے سیاسی عمل کی بے توقیر ی سے جمہوریت کا خواب جھٹلا رہے تھے۔ ون یونٹ کا خاکہ ایوب خان نے تیار کیا تھا جسے اسکندر مرزا نے ری پبلکن پارٹی کی مدد سے پورا کیا۔ پاکستان کی تاریخی وفاقی اکائیوں کیساتھ زور آوری کا یہ کھیل نیا نہیں۔ سیٹو اور سینٹو کے معاہدوں میں غیر شفاف شمولیت نے قومی خودمختاری سرمایہ دار بلاک کے پاس رہن رکھ دی۔ پاکستان ایک جمہوری ملک کی بجائے سکیورٹی اسٹیٹ بن گیا۔ عسکری آنکھ سیاسی عمل کی نزاکتیں نہیں سمجھتی۔ آپ نے ترسیلات زر اور جی ڈی پی میں تقابل کا ذکر چھیڑا ۔ ہمارے سوا دنیا میں صرف گوئٹے مالا ایک ایسا ملک ہے جس کی ترسیلات زر برآمدات سے زیادہ ہیں لیکن گوئٹے مالا کا حجم پاکستان سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمارےلیے بہترین راستہ ہم عصر دنیا سے شراکت ہے۔ ہم ادبدا کر انحرافی پگڈنڈی کی طرف لپکتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہماری سیاست دھند آلود اور عوام غریب ہیں۔ عوام اور ریاست میں رشتہ کمزور ہے۔ مفتوحہ میڈیا کے بے رس ترانوں سے قطع نظر، ہمارے بنیادی مسائل آبادی کا پھیلائو، کمزور پیداواری بنیاد، سیاسی انتشار اور ہم عصر تعلیم سے محرومی ہیں۔ ہر غیر شفاف ریاست کی طرح ہم بھی خارجہ محاذ پر کامیابیوں کے تاشے بجاتے ہیں لیکن داخلی معیشت مضبوط کئے بغیر وہ امکان حقیقت مجاز میں نہیں بدل سکتا جس کے تعاقب میں آپ اندھیری رات میں گھنے جنگلوں کے سفر پر نکلتے ہیں۔