27 ستمبر اب صرف ایک احتجاج کی تاریخ نہیں رہی۔ یہ پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا دن بنتا جا رہا ہے جس کے گرد حکومت کی انتظامی تیاری ،پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی، عدالتوں کی مداخلت اور طاقت کے مراکز کی خاموشی سب ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پہنچے گی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر پہنچ گئی تو کیا حاصل کرے گی اور اگر راستے میں روک دی گئی تو کیا کھوئے گی یا حاصل کر لے گی۔پی ٹی آئی نے 27ستمبر کا اعلان بنیادی طور پر عمران خان کی رہائی ان کے مقدمات میں پیش رفت اور ان تک رسائی کے مطالبے کیساتھ کیا ہے۔ پارٹی کی قیادت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مقصد اسلام آباد پر قبضہ یا اڈیالہ جیل پر دھاوا نہیں بلکہ سیاسی دباؤ پیدا کرنا ہے۔
لیکن سیاست میں نعرے اور عملی مقصد ہمیشہ ایک نہیں ہوتے۔ ایک بڑی احتجاجی تحریک کا اصل مقصد صرف حکومت سے ایک مطالبہ منوانا نہیں ہوتا بلکہ یہ دکھانا بھی ہوتا ہے کہ پارٹی اب بھی سڑک پر عوام کو متحرک کرنیکی صلاحیت رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کے اپنے ابتدائی منصوبے میں مختلف صوبوں سے قافلوں کی آمد اور بعض شہروں میں شٹر ڈاؤن تک کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ پارٹی نے اس مارچ کے پہلے دن کے اخراجات کا تخمینہ 45کروڑ روپے اور اس کے بعد روزانہ تقریباً ایک کروڑ 45لاکھ روپے لگایا تھا۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی اسے محض ایک روایتی جلسہ نہیں سمجھ رہی۔ وہ اسے ایک ایسی قومی موبلائزیشن بنانا چاہتی ہے جسکے ذریعے حکومت کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہو اور پارٹی کے اندر موجود بے یقینی بھی کسی حد تک ختم ہو۔ عمران خان تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں اور پارٹی کی سب سے بڑی سیاسی طاقت آج بھی انہی کی شخصیت ہے۔ اسلئے 27ستمبر کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ قیادت یہ ثابت کرے کہ عمران خان کی جسمانی غیر موجودگی کے باوجود تحریک کی سیاسی توانائی ختم نہیں ہوئی۔
چنانچہ یہاں پی ٹی آئی کے سامنے سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے۔ کیا وہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد تک لا سکتی ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں پر ایسا سیاسی دباؤ پیدا ہو جسے نظر انداز کرنا مشکل ہوجائے؟ اسکا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔ پچھلے احتجاجی تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت بھی اس مرتبہ زیادہ تیار دکھائی دیتی ہے۔ راولپنڈی میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف ایم پی او کے تحت نظربندی کے احکامات سامنے آئے ہیں جبکہ اسلام آباد پولیس نے ایک ہزار کنٹینرز تک کا انتظام مانگا ہے۔
حکومت کی حکمت عملی بظاہر واضح ہے۔ اسلام آباد کو احتجاج کا میدان بننے سے پہلے ہی انتظامی طور پر محفوظ کیا جائے، راستے محدود کیے جائیں ممکنہ کارکنوں کی پیشگی گرفتاری یا نظربندی کی جائے اور احتجاج کو دارالحکومت کے حساس علاقوں تک پہنچنے سے روکا جائے۔ لیکن حکومت کیلئے اصل خطرہ صرف ہجوم نہیں بلکہ اس کارروائی کی سیاسی تصویر ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور رکاوٹیں لگتی ہیں تو پی ٹی آئی کے پاس اپنے بیانیے کیلئے ایک تیار جملہ ہوگا کہ حکومت سیاسی احتجاج سے خوفزدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا تازہ حکم حکومت کیلئے ایک طرح سے قانونی حدود بھی متعین کرتا ہے۔ عدالت نے سیاسی احتجاج کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال سے روکا ہے جبکہ آج ہی عدالت نے بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں یا گرفتار نہ کرنے کے معاملے پر بھی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔
یوں حکومت کے سامنے دوہرا امتحان ہے۔ اسے احتجاج کو کنٹرول بھی کرنا ہے اور ایسا کرتے ہوئے یہ تاثر بھی نہیں دینا کہ پرامن سیاسی سرگرمی کو مکمل طور پر جرم بنا دیا گیا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے سامنے بھی اتنا ہی مشکل امتحان ہے۔ اگر وہ پرامن احتجاج کی حدود میں رہتی ہے تو حکومت پر اخلاقی اور سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر احتجاج سڑکوں کی بندش ،تصادم یا سرکاری املاک کے نقصان میں بدلتا ہے تو حکومت کا سخت انتظامی کارروائی کا جواز مضبوط ہوجائے گا۔
یہاں ایک اور اہم پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کی سیاست گزشتہ چند ماہ میں ایک طرف احتجاج اور دوسری طرف مفاہمت کے ممکنہ اشاروں کے درمیان چلتی رہی ہے۔ اگست میں عمران خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار بخاری نے کہا تھا کہ اگر عمران خان رہا ہوتے ہیں تو وہ فوج یا آرمی چیف سے محاذ آرائی نہیں کریں گے۔ اسی دوران پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کی احتجاجی کال بھی برقرار رکھی۔ اس تضاد کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ پارٹی ایک طرف دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہے اور دوسری طرف مستقبل کے کسی سیاسی راستے کو مکمل طور پر بند بھی نہیں کرنا چاہتی۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ’’اسٹیبلشمنٹ کیا سوچ رہی ہے‘‘ کا سوال آتا ہے۔ اس وقت دستیاب عوامی شواہد سے کسی خفیہ فیصلے یا حتمی حکمت عملی کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ البتہ بیرونی تجزیوں میں یہ ضرور زیر بحث ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ایک طرف پی ٹی آئی کے ساتھ طویل سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے اور دوسری طرف کسی ممکنہ مفاہمت کے امکانات بھی زیر بحث رہے ہیں۔ متعدد قومی تجزیہ کاروں نے بھی ستمبر کے سیاسی منظرنامے کو اسی تناظر میں دیکھا ہے۔ لیکن اسے کسی حتمی پالیسی یا فیصلے کا ثبوت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔میرے خیال میں 27ستمبر کو پی ٹی آئی کی اصل کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ کتنے لوگ اسلام آباد پہنچے۔ تین سوال زیادہ اہم ہوں گے۔ کیا پارٹی ملک کے مختلف حصوں میں بیک وقت سیاسی سرگرمی پیدا کر پاتی ہے؟ کیا احتجاج پرامن رہتا ہے؟ اور کیا اس احتجاج کے بعد حکومت کو سیاسی یا مذاکراتی سطح پر کوئی نیا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے؟ اگر مارچ بڑا ہو مگر مطالبات پر کوئی پیش رفت نہ ہو تو یہ طاقت کا مظاہرہ ضرور ہوگا مگر فوری سیاسی نتیجہ الگ سوال رہیگا۔ اگر مارچ محدود رہے لیکن حکومت سخت کارروائی سے بچنے کیلئے مذاکرات کی طرف جائے تو سیاسی اثر تعداد سے مختلف نوعیت کا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح حکومت کیلئے بھی صرف سڑکیں بند کردینا کامیابی نہیں ہوگی۔ اگر شہر بند رہے،کاروبار متاثر ہو، گرفتاریاں بڑھیں اور احتجاج کا بیانیہ حکومت کے خلاف عوامی غصے میں تبدیل ہوجائے تو انتظامی کنٹرول سیاسی حل نہیں دے سکے گا۔ دوسری طرف اگر حکومت عدالتی احکامات کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کو محدود رکھتی ہے اور شہری زندگی بھی معمول کے مطابق رہتی ہے تو اس کے پاس اپنی حکمت عملی کو قانون کی عمل داری کے طور پر پیش کرنے کی گنجائش ہوگی۔
پاکستان کی سیاست میں سڑک کبھی آخری منزل نہیں رہی۔ سڑک عموماً میز تک پہنچنے کا راستہ بنتی ہے۔ 27ستمبر کی اصل کہانی بھی شاید یہی ہو کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر کتنے لوگ پہنچتے ہیں سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ اس دن کے بعد سیاسی میز پر کون بیٹھتا ہے، کس ایجنڈے کیساتھ بیٹھتا ہے اور کس دباؤ کے تحت بیٹھتا ہے۔