اولمپئن بیڈمنٹن پلیئر ماحور شہزاد ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے جاپان روانہ ہو گئیں۔
ماحور شہزاد نے پہلی مرتبہ 2 سال 3 ماہ کی بیٹی کو چھوڑ کر قومی سطح کی ذمے داری نبھانے کے لیے جانے کو اپنی زندگی کا مشکل ترین تجربہ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کے لیے کھلاڑیوں کو سمجھوتے اور قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔
ایشین گیمز کے لیے جاپان روانگی کے موقع پر اولمپئن بیڈ منٹن پلیئر ماحور شہزاد نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا ہے کہ 2 سال 3 ماہ کی بیٹی سے پہلی مرتبہ جدا ہو رہی ہوں، یہ میری زندگی کا مشکل ترین گڈ بائے ہے، پاکستان کی نمائندگی کے لیے سمجھوتہ کرنا اور قربانی دینا پڑتی ہے۔
’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں ماحور شہزاد نے کہا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی ماں کے لیے بچے کو چھوڑنا اور کھیل پر فوکس رکھنا آسان نہیں، میرے لیے یہ پہلا تجربہ ہے، میری والدہ حور العین میری بیٹی کا خیال رکھیں گی۔
اولمپئن ماحور شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نمائندگی میرے لیے باعثِ فخر ہے، اور اس اعزاز کے لیے کچھ بھی قربان کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایشین گیمز کے بیڈمنٹن ایونٹ میں ماحور شہزاد اور محمد علی لاروش پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔