• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کیس میں سُپر میڈیکل بورڈ بنانے کیلئے درخواست کی تصدیق

میر رضا کیس کی جوڈیشل کمیشن میں سماعت کے دوران تفتیشی ٹیم کی جانب سے سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دینے کی تصدیق ہوگئی۔

جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ کیا سپر میڈیکل بورڈ بنایا جا رہا ہے؟ اسپیشل سیکریٹری شہریار میمن نے جواب دیا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کی طرف سے درخواست ملی ہے، جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔

کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ 6 اگست کو سندھ حکومت بہت ایکٹِو ہوگئی تھی، اتنی تیزی کبھی سڑکوں کی مرمت اور گٹروں کے لیے بھی دکھائیں، وہاں بھی لوگ مر رہے ہوتے ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے شہریار میمن کو کہا کہ غیر قانونی طور پر میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا یہ سب آپ کے کیریئر میں آپ کا پیچھا کرے گا۔

ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللّٰہ سومرو سے کمیشن نے پوچھا کہ موبائل فون نالے سے ملا تو شادی ہال کے قریب کا بیانیہ کیوں بنایا گیا؟ دنیا خودکشی کا بیانیہ چلارہی تھی، آپ نے تصحیح کیوں نہیں کی؟ اتنےاہم شواہد کے ساتھ کھیل رہے تھے، کیا پولیس نے فون اَن لاک کرنے کی کوشش میں بلاک کیا؟

سمیع اللّٰہ سومرو نےجواب دیا کہ ان کی ٹیم نے کوشش نہیں کی، ممکن ہے سی ٹی ڈی نے کی ہو، سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ چھ دن تک کیس کی تحقیقات اُن کے پاس رہیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ یہی چھ دن ہیں جب کیس خراب ہوا، آپ سب کچھ ماتحت افسران پر ڈال رہے ہیں، آپ ایس ایس پی ہیں، خیال کریں کیریئر یہیں ختم نہ ہوجائے۔

کمیشن نے ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللّٰہ سومرو سے سوال کیا کہ میر رضا کے رقم مانگنے کے اسکرین شاٹس کا آپ کو علم ہے؟ سمیع اللّٰہ سومرو نے کہا کہ  میں نے صارم کا 3 اگست کو انٹرویو کیا تھا، کمیشن نے پوچھا کہ صارم نے بیان میں بتایا تھا کیا گفتگو کا مزید ریکارڈ بھی پولیس کو دیا تھا، وہ تفصیلات آپ تک نہیں پہنچی؟ 

سمیع اللّٰہ سومرو نے بتایا کہ میں نے صرف رقم والا اسکرین شاٹ دیکھا تھا، صارم کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، بیان 17 اگست کو ریکارڈ کیا گیا۔

کمیشن نے پوچھا کہ اخبار میں کسی احمد راجہ سے 80 لاکھ روپے کا ذکر ہے، وہ کون ہے؟ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ ایس ایس پی ایسٹ نے بتایا تھا شاید واچ سے معلومات ملی تھی، کمیشن نے پوچھا کہ 3 کروڑ کا اسکرین شاٹ میڈیا پر کیسے لیک ہوا؟ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ اسکرین شارٹ ایس ایس پی ایسٹ اور ان کو ایس ایچ او فیروز آباد نے بھیجا تھا، کمیشن نے پوچھا کہ علی شاز کا وائس نوٹ اے ایس پی ندا نے آپ کو بھیجا؟ جس پر سمیع اللہ سومرو بولے کہ مجھے علم نہیں انہوں نے کسی اور کو بھیجا یا نہیں۔

جوڈیشل کمیشن نے پوچھا کہ علی شاز کا کہنا ہے کہ وائس نوٹ اے ایس پی ندا کو بھیجا، کیا کوئی جن ہیں جنہوں نے میڈیا کو وائس نوٹ بھیجا۔ 

سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ اے ایس پی ندا نے بتایا کہ علی شاز نے مزید 20 افراد کو لانے کا کہا جن سے رضا نے پیسے مانگے۔

کمیشن نے پوچھا کہ علی شاز کی تحقیقات اور قرض کے بیانیے میں شمولیت رہی ہے، علی شاز کا بیان 24 اگست تک کسی نے ریکارڈ نہیں کیا، اے ایس پی ندا نے صرف ایک اسکرین شاٹ آپکو بھیجا، اے ایس پی ندا نے آپ کو بس کے نیچے پھینک دیا، علی شاز اتنے اچھے دوست تھے کہ لاش ملنے کے دن باکو چلے گئے، ان کے بھائی اے ایس پی شاہ زیب فیروز آباد تھانے کے آس پاس گھومتے رہے، 8 ماہ پرانا وائس نوٹ آپ کو بھیج کر آپ پر لیک کرنے کا الزام لگایا گیا۔

سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ مجھے علم نہیں تھا کہ وائس نوٹ آٹھ ماہ پرانا ہے، کمیشن نے کہا کہ آپ کو کیس کبھی بلیک میلنگ یا مالی دباؤ کا نتیجہ لگا؟ جس پر سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ رضا کے دوستوں نے بتایا کہ نو ماہ پہلے فیملی مالی دباؤ کا شکار تھی، تحقیقات میں بلیک میلنگ یا بھتے کے کوئی شواہد نہیں ملے، کمیشن نے پوچھا کہ تحقیقات میں کرپٹو ٹریڈنگ میں نقصان سے متعلق کچھ معلومات ملی؟ سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ کرپٹو ٹریڈنگ کی معلومات دوستوں سے ملی تھیں۔

کمیشن نے پوچھا کہ اے ایس پی ندا کا کیس سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، انکو کیس میں ہر جگہ لے جانا عجیب لگا۔

سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ صرف منگیتر سے گفتگو کے دوران بطور خاتون افسر مقرر کیا تھا، جس پر کمیشن نے پوچھا کہ  آپ نے اے ایس پی ندا کو خواتین سے گفتگو کے علاوہ کوئی اور ٹاسک دیا؟، سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ انٹرویوز میں وہ ہمارے ساتھ تھیں لیکن کوئی ٹاسک نہیں دیا تھا۔

کمیشن نے کہا کہ  ان کو آپ کیوں لیکر گھوم رہے تھے، اے ایس پی لوگوں سے شواہد بھی لے کر دے رہی ہیں، اے ایس پی ندا این سی سی آئی اے کے پاس بھی گئیں،  پولیس سرجن سے میٹنگ میں بھی اے ایس پی موجود تھیں، ایسا لگتا ہے اے ایس پی سب پر نظر رکھنے کیلئے موجود تھیں، جس پر سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ 4 اگست کو اے آئی جی کال آئی کہ پولیس سرجن کو پوسٹ مارٹم پر تحفظات ہیں، پولیس سرجن سے پانچ اگست کو ملاقات کی، ملاقات میں ایس ایس پی زبیر نذیر اور اے ایس پی ندا بھی شریک تھیں، مجھے تب تک ندا کا علی شاز یا شاہ زیب سے کنکشن کا معلوم نہیں تھا۔

سمیع اللّٰہ سومرو نے بتایا کہ 4 اگست کو پولیس سرجن سے بات کی، میٹنگ میں ہم نے قبر کشائی کی بات کی، پولیس سرجن سے کہا فیملی کی اجازت کے بغیر قبر کشائی نہیں ہو سکتی، جس پر کمیشن نے کہا کہ  کس نے آپ کو کہا کہ فیملی کو اعتماد نہیں تھا، جواب میں سمیع اللّٰہ سومرو بولے کہ پہلی ملاقات میں والد کے بیان اور والدہ کی ڈانٹ سے تاثر ملا۔

میر رضا کی والدہ مریم نے کمیشن کو بتایا کہ ہمارا اعتماد ایس ایچ او عدیل افضال پر نہیں تھا، وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پولیس کے پاس قبر کشائی کی درخواست کا اختیار ہے، پولیس خود بھی قبر کشائی کی درخواست دے سکتی تھی۔

سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ جیو فینسنگ کے لیے 21 جولائی کو لکھا گیا تھا، جب تک تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ تھا تب تک رپورٹ نہیں آئی تھی، کمیشن نے پوچھا کہ کیا آج تک جیو فینسنگ کی رپورٹ نہیں آئی؟ سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ  مجھے علم نہیں، کمیشن نے پوچھا کہ آپ نے فوٹیج میں نظر آنے والی گاڑیوں یا لوگوں سے متعلق کوئی تحقیقات نہیں کی، سمیع اللہ سومرو بولے کہ چارج سنبھالنے سے پہلے ایس ایس پی ایسٹ نے تحقیقات کی تھی، ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔

کمیشن نے سمیع اللہ سومرو سے پوچھا کہ  آپ کو گیسٹ ہاؤس ملازمین مشکوک نہیں لگے؟ ایس ایچ او گیسٹ ہاؤس سے پیسے لیتا رہا اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اسی علاقے میں متعدد گیسٹ ہاؤس ہیں جہاں غیر اخلاقی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والے 5 افراد میں سے ایک عمر کوٹ بھاگ گیا تھا، سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ  4 افراد سے تفتیش میں کچھ مشکوک نہیں ملا، جس پر کمیشن نے کہا کہ ہو سکتا ہے پانچواں بندہ مشکوک ہو اس سے تحقیقات کیوں نہیں کی گئی؟ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ سی سی ٹی وی میں موٹر سائیکل سوار شخص کا سراغ نہیں لگایا جاسکا، کمیشن نے پوچھا کہ گیسٹ ہاؤس کا مالک کون ہے؟ سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ  گیسٹ ہاؤس کی اونر خاتون ہیں جنہوں نے کسی کو دیا تھا، گیسٹ ہاؤس کے 9 ملازمین کے انٹرویوز کیے۔

کمیشن نے کہا کہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا پولیس نے کسی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی کیسے خراب ہوئی؟ سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ ایس ایچ او فیروز آباد کے پاس گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر موجود تھا، جس پر کمیشن نے کہا کہ عدیل افضال نے تو بیان میں ڈی وی آر سے انکار کیا، ڈی وی آر کی ضبطگی کا میمو بھی ہمارے سامنے نہیں آیا۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ فیملی کے مطابق گیسٹ ہاؤس میں رضا کی تصویر دکھانے پر 3 افراد بھاگ گئے تھے، گیسٹ ہاؤس ملازمین سے تفتیش کے دوران فیملی کو شناخت کیلئے نہیں بلایا گیا۔

سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ گیسٹ ہاؤس کے عقبی دروازے سے کیمروں میں آئے بغیر جائے وقوع تک جایا جا سکتا ہے۔

کمیشن نے پوچھا کہ کیا گیسٹ ہاؤس کسی طاقتور فرد کا ہے؟ آپ کی پوری تحقیقات پیسے کے اردگرد گھومتی رہی، سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ چھ روز کی تحقیقات کے دوران قتل کے محرکات نہیں ملے، جس پر کمیشن نے کہا کہ میر رضا کو ایسے غلط پیش کیا گیا جیسے وہ سب سے پیسے مانگ رہا تھا، صحافیوں کی تحقیقات میں 3 کرپٹو اکاؤنٹس کی نشاندہی سے بریک تھرو ہوسکتا تھا۔

جبران ناصر نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے رپورٹ میں سامنے کی گولی لگنا قرار دیا، خودکشی قرار نہیں دیا، موجودہ تحقیقاتی ٹیم بھی قتل یا خودکشی پوسٹ مارٹم سے چیک کرنے میں لگی ہے، کمیشن نے کہا کہ جیسے گھوڑے کو بلائنڈرز پہنایا جاتا ہے تاکہ وہ صرف سامنے دیکھے، یہ بھی یہی کررہے ہیں، کون لوگ تھے جو فیملی پر کیچڑ اچھالتے رہے، سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ میں میڈیا پر کبھی نہیں آیا نہ بیان دیا۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ فیملی کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی، ڈاکٹر اسامہ سے سی ایم ہاؤس ملاقات میں ایس ایس پی سمیع اللہ موجود تھے۔

کمیشن نے پوچھا کہ ڈاکٹر اسامہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس کیوں بلایا گیا تھا؟ 

سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ کو کیس کی بریفنگ دینی ہے۔

سیکریٹری صحت بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، مزید کارروائی پیر تک ملتوی کردی گئی۔

قومی خبریں سے مزید