پاکستان کی صنعتی ترقی بنیادی طور پر بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی ٹیکنالوجی، مشینری اور خام مال یعنی کیمیکلز، ڈائیز و دیگر اسیسریز پر منحصر ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کی برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا بڑا حصہ دوبارہ انہی ممالک میں واپس چلا جاتا ہے جنہیں ہم اپنی مصنوعات یا خدمات برآمد کرتے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں نوجوانوں پر مشتمل آبادی کا بڑا حصہ روزگار، مہارت اور پیداواری صلاحیت کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں اگر تعلیمی ادارے ایسے نوجوان تیار کرتے رہیں گے جن کی قابلیت اور انڈسٹری کی ضرورت میں واضح فرق ہو گا تو ڈگری یافتہ افراد کی تعداد بڑھنے کے باوجود معیشت کو نہ ہی مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت میسر آ سکے گی اور نہ ہی نئی ٹیکنالوجی یا مشینری کے حوالے سے ہمارا دیگر ممالک پر انحصار کم ہو سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے درمیان مضبوط اور مسلسل رابطہ محض ایک تعلیمی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہ اقدام صنعتی ترقی، برآمدات اور روزگار کی فراہمی کیلئے لازمی ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ شماریات کے لیبر فورس سروے 25-2024 میں افرادی قوت، روزگار، بے روزگاری، تعلیم اور تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت سمیت لیبر مارکیٹ کی متعدد چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ملک کا موجودہ معاشی منظرنامہ بھی یہ واضح کرتا ہے کہ صنعتی شعبے کی پیداواری صلاحیت اور مسابقت بڑھانے کیلئے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ اس کے باوجود ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم اور روزگار کے درمیان تعلق ابھی تک اتنا مضبوط نہیں ہو سکا جتنا ایک جدید معیشت کیلئے ضروری ہے۔ یونیورسٹیاں طالب علموں کو جو کچھ سکھاتی ہیں ضروری نہیں کہ وہی مہارتیں صنعتوں میں فوری طور پر درکار بھی ہوں۔ ورلڈ بینک، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور یونیسکو کی مشترکہ تحقیق بھی اس عالمی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان سمیت کئی کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں یونیورسٹیوں بلکہ حتیٰ کہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن کے اداروں کے پروگرام لیبر مارکیٹ کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق زیادہ تر تعلیمی ادارے اور ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرز طلبہ کو وہ مہارتیں فراہم کرتے ہیں جنہیں پڑھانے یا سکھانے کی ان کے پاس صلاحیت موجود ہوتی ہے حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ طلبہ اور کاروباری اداروں کی ضرورت کے مطابق افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دیں۔پاکستان کی صنعتی ترقی کیلئے بھی یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہم نوجوانوں کو وہ سکھا رہے ہیں جسکی ہماری صنعتوں کو ضرورت ہے یا انڈسٹری کو ہر سال نئے گریجویٹس کو اپنی ضروریات کے مطابق دوبارہ تربیت دینا پڑتی ہے۔ یہ فرق صرف روزگار کی فراہمی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ جب کسی فیکٹری یا کاروباری ادارے کو انجینئر، ٹیکنیشن، مشین آپریٹر، کوالٹی کنٹرول ماہر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ماہر یا صنعتی آٹومیشن کی تربیت رکھنے والا شخص نہیں ملتا ہے تو کمپنی کو نئی افراد قوت کی بھرتی اور تربیت پر اضافی لاگت کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں برآمدی مسابقت بھی کمزور ہوتی ہے۔اس مسئلے کا مؤثر حل یہ ہے کہ تعلیم اور صنعت کے درمیان اشتراک عمل کیلئے بامعنی نظام تشکیل دیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں صنعت کے نمائندوں کو نصاب سازی، کورس ڈیزائن اور طلبہ کی عملی تربیت میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح طلبہ کیلئے انٹرن شپ، اپرنٹس شپ اور آن جاب ٹریننگ پروگرام بڑھانے کے ساتھ ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو تعلیمی پروگرام کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ مثال کے طور پر ٹیکسٹائل حب ہونے کے ناطے اگر فیصل آباد میں یونیورسٹیاں اور ٹیکنیکل ادارے مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ساتھ مستقل شراکت داری قائم کریں تو طلبہ کو سپننگ، ویونگ، ڈائنگ، اپیرل، کوالٹی کنٹرول، انڈسٹریل انجینئرنگ، آٹومیشن اور ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی طرح انجینئرنگ ادارے صنعت کے حقیقی مسائل کو اپنے پراجیکٹس اور ریسرچ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اس سے انڈسٹری کو مقامی سطح پر کم لاگت میں درپیش مسائل کے تکنیکی حل میسر آ سکیں گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی صنعت صرف روایتی فنی مہارتوں سے نہیں چل رہی بلکہ آٹومیشن، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیٹا اینالسز، ڈیجیٹل ڈیزائن، سائبر سکیورٹی، انرجی کنزرویشن اور ماحول دوست پیداواری نظام تیزی سے صنعتی عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان حالات میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا نوجوانوں کو صرف آج کی ملازمتوں کیلئے تیار کرنا ہے یا انہیں بدلتی ہوئی صنعتی ضرورتوں کے ساتھ خود کو مسلسل ہم آہنگ کرنے کے قابل بھی بنانا ہے۔ اس کیلئے ایک ایسا نظام درکار ہے جس میں نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی نئی ٹیکنالوجی، نئی مشینری اور بدلتی ہوئی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپنی مہارت بہتر کر سکیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں کسی حد تک کام ہو رہا ہے اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن انڈسٹری کے اشتراک سے اسکلز ٹریننگ کے مختلف پروگرام چلا رہا ہے۔ تاہم اصل کامیابی ٹریننگ حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد کی بجائے ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد روزگار کے حصول، آمدنی میں اضافے، پیداوار میں بڑھوتری اور کیرئیر میں ترقی سے ظاہر ہو گی۔ اس حوالے سے تمام تر ذمہ داری تعلیمی اداروں پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ اس سلسلے میں انڈسٹری کو بھی آگے آنا چاہئے۔ اگر انڈسٹری چاہتی ہے کہ اسے مارکیٹ کے مطابق تربیت یافتہ افرادی قوت ملے تو اسے بھی تعلیمی نظام میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ صنعتی اداروں کو انٹرن شپ، اپرنٹس شپ اور آن جاب ٹریننگ پروگرام میں شمولیت کے مواقع بڑھانے ہوں گے۔ علاوہ ازیں صنعتی ادارے جدید لیبارٹریز اور ٹریننگ سنٹرز قائم کرنے کیلئے تعلیمی اداروں سے اشتراک کرکے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تیاری میں مدد بھی کر سکتے ہیں۔