• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان کا غیر ملکیوں کیلئے قوانین سخت کرنے کا فیصلہ، مستقل رہائش مزید مشکل

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

جاپان نے غیر ملکیوں کے لیے مستقل رہائش کے قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان کے نئے قوانین کے تحت درخواست گزاروں کو جاپان کی اوسط گھریلو آمدنی سے زیادہ سالانہ آمدن، جاپانی زبان پر عبور اور 30 سال کی پنشن ادائیگی کے مساوی رقم کا ثبوت دینا ہو گا۔

نئی شرائط یکم اکتوبر سے مرحلہ وار نافذ ہوں گی اور بعض درخواستوں پر آئندہ سال اپریل سے عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔

جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کو خود کفیل اور مستحکم زندگی گزارنے کے قابل ہونا چاہیے تاہم طویل عرصے سے جاپان میں مقیم غیر ملکیوں کو خدشہ ہے کہ نئی شرائط ان کے مستقل قیام کو مشکل بنا دیں گی۔

جاپان میں غیر ملکی باشندوں کی تعداد 2025ء کے اختتام تک ریکارڈ 4.12 ملین یعنی مجموعی آبادی کا تقریباً 3 فیصد ہو گئی تھی جبکہ ملک کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق سخت امیگریشن پالیسی غیر ملکی کارکنوں کے لیے جاپان کی کشش کم کر سکتی ہے۔

یہ تبدیلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب جاپان میں غیر ملکیوں کے خلاف عوام کے منفی جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ 

ایک حالیہ سروے میں 56.3 فیصد جاپانی شہریوں نے مزید غیر ملکیوں کو قبول کرنے کی مخالفت کی ہے جبکہ 2024ء میں یہ شرح 35.6 فیصد تھی۔

دائیں بازو کی جماعتوں کے بڑھتے اثر و رسوخ اور ’جاپان فرسٹ‘ جیسے نعروں کے درمیان طویل عرصے سے مقیم بعض غیر ملکی اب مستقل رہائش مسترد ہونے کی صورت میں جاپان چھوڑنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید