• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف بی آر نے 9 ارب 41 کروڑ روپے کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ فراڈ کا سراغ لگا لیا


فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) نے 9 ارب 41 کروڑ روپے کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ فراڈ کا سراغ لگا لیا۔ 85 ٹیکس دہندگان نے پرانے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں غیر ظاہر شدہ اثاثے شامل کیے، 85 افراد نے 2014 سے 2019 کے ٹیکس سالوں کے گوشوارے غیر قانونی طور پر تبدیل کیے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ غیر ظاہر شدہ اثاثوں میں نقدی، سونا، پرائز بانڈز، جائیداد اور کاروباری سرمایہ شامل ہیں۔ ایف بی آر کے ڈیٹا تجزیے سے 9 ارب 41 کروڑ روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا، ویلتھ اسٹیٹمنٹ پانچ سال بعد نظرثانی کرنے پر قانوناً پابندی عائد ہے۔

85 ٹیکس دہندگان نے مارچ 2025 سے جون 2026 تک ویلتھ اسٹیٹمنٹس تبدیل کیے، لاہور کے ٹیکس دہندہ نے 2026 میں 2015 کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں جعلی فنڈز ظاہر کیے۔ لاہور کے شہری نے 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی فنڈز ظاہر کیے، ٹیکس دہندہ نے فرضی فنڈز آگے منتقل کرکے 7 جائیدادیں خریدیں، 7 جائیدادوں کی مالیت 6 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد ہے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ شہری کے فرضی فنڈز کے ذریعے خریدی گئی جائیدادوں کا ذریعہ آمدن ثابت نہ ہو سکا۔ لاہور کیس میں مبینہ ٹیکس چوری 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ ملک بھر میں 48 ٹیکس جرائم کی فوجداری تحقیقات شروع کردی گئی، منی لانڈرنگ کیس ٹیکس دہندہ اور فراڈ میں ملوث معاونین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، باقی کیسز میں بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ ٹیکس نظام میں جعل سازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی، فراڈ میں ملوث افراد کو جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید