• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانوں کی جگہ لینے والے روبوٹس پر ٹیکس عائد ہونا چاہیے: بل گیٹس کی تجویز

بل گیٹس---فائل فوٹو
بل گیٹس---فائل فوٹو 

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے تجویز دی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس جب انسانوں کی جگہ کام کریں تو کمپنیوں سے اس خودکار کام پر بھی ملازمین کے برابر پے رول ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے۔

امریکی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ حکومت کو کام کی ایک اجرت مقرر کر کے اس پر یکساں ٹیکس عائد کرنا چاہیے، چاہے وہ کام انسان کرے یا مشین۔ 

ان کے مطابق انسانی ملازمین سے وصول ہونے والے فیڈرل انشورنس کنٹری بیوشنز ایکٹ کے تحت ٹیکس کی طرح خودکار کام پر بھی ٹیکس لیا جا سکتا ہے جس سے سوشل سیکیورٹی اور میڈی کیئر جیسے سرکاری پروگراموں کے لیے آمدنی برقرار رہے گی۔

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا روبوٹس کے ذریعے اخراجات کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرے کو ہر شعبے میں انسانی محنت کی جگہ فوراً مشینوں کو اختیار کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔

ان کے مطابق خودکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ سماجی تحفظ، کارکنوں کی مدد اور دوبارہ تربیت کے پروگراموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بل گیٹس گزشتہ کئی برس سے مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں کو لاحق خطرات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں، گزشتہ سال تقریباً 6,000 الفاظ پر مشتمل ایک مضمون میں انہوں نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے دفتری ملازمتیں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ روبوٹکس کی ترقی کے ساتھ مزدور طبقے کی ملازمتیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

بل گیٹس نے پہلی بار 2017ء میں روبوٹس پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور تقریباً 10 سال بعد بھی بل گیٹس اس مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں تاہم ان کے مطابق یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں بلکہ وسیع تر حکمتِ عملی کا ایک حصہ ہے۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کی منصفانہ تقسیم کے لیے ٹیکس نظام میں تبدیلی کی حمایت کرنے والی ٹیکنالوجی کی دنیا کی دیگر اہم شخصیات بھی موجود ہیں۔ 

اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈی نے بھی مضبوط ٹیکس پالیسیوں پر زور دیا ہے جبکہ اوپن اے آئی نے بھی مصنوعی ذہانت سے متاثر ہونے والے روزگار کے تناظر میں خودکار کام سے متعلق ٹیکس کو وسیع پالیسی فریم ورک کا حصہ بنانے کی تجویز دی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید