حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آج مذاکرات کا پہلا اجلاس ختم ہو گیا، کل دن 2 بجے دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔
مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر چیمبر میں، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہوئے۔
حکومتی وفد میں طلال چوہدری، محسن نقوی، شیری رحمٰن، رانا ثناء اللّٰہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری جبکہ اپوزیشن کی جانب سے علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ مذاکرات میں شامل ہوئے۔
اس موقع پر خیبر پختون خوا میں قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتِ حال پر وزیرِ داخلہ نے بریفنگ دی۔
حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے درمیان نمازِ جمعہ کا وقفہ لیا گیا، نمازِ جمعہ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعا کی گئی، دعا خصوصی طور پر پارلیمنٹ کی مسجد کے امام نے کروائی۔
مذاکرات کا احوال
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ماحول کئی بار کشیدہ ہوا اور فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت نے اپوزیشن سے باضابطہ طور پر لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، حکومت نے اپوزیشن کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کروائی۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے کہا ہے کہ لانگ مارچ، دھمکیاں دینا اور اڈیالہ جیل پر حملے کی بات کرنا درست نہیں، مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی کرنا ہو گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے فریقین پر افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن قیادت اور محمود خان اچکزئی کا مؤقف بیرسٹر گوہر نے حکومتی ٹیم کے سامنے رکھا، پہلے سیشن میں محسن نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے گفتگو کی جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تر خاموش رہے۔
عدالتی معاملات پر مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی سمیت حکومتی اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل کروایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے دیگر قائدین کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔