فلائی دبئی کی پرواز ایف زی 1073 کے دوران بوئنگ 737 میکس طیارہ ایک انتہائی خطرناک صورتِحال سے دو چار ہونے کے باوجود محفوظ لینڈنگ میں کامیاب رہا، حالانکہ دوران پرواز ایک موقع پر طیارہ تقریباً 32 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے جا رہا تھا۔
یہ خطرناک صورتِ حال اس وقت پیش آئی جب دورانِ پرواز شریک پائلٹ نے کپتان سمیت پرواز کے کنٹرول کو خطرے میں ڈال دیا، پہلے طیارہ انتہائی تیزی سے نیچے کی جانب آیا پھر طیارے نے دوبارہ بلندی حاصل کی اور بلندی پر جانے کے بعد پھر ایک بار نیچے آیا۔
مسافروں اور طیارے میں موجود دیگر تربیت یافتہ پائلٹس کی مداخلت سے صورتِ حال پر قابو پایا گیا اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں باحفاظت لینڈ کیا گیا۔
فلائٹ ٹریکنگ کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق طیارہ ایک مرحلے پر تقریباً 690 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ گیا، جو اس ماڈل کی معمول کی زیادہ سے زیادہ آپریٹنگ رفتار سے بھی زیادہ تھی۔
ماہرین کے مطابق زمین کے لحاظ سے رفتار اور ہوا میں حقیقی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بوئنگ 737 میکس کی مضبوط ساخت، متعدد حفاظتی نظام اور طیارے کی سرٹیفکیشن کے دوران انتہائی حالات میں کیے جانے والے ٹیسٹوں نے اس کی بقا میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ مسافر طیاروں کو معمول کی حدود سے کہیں آگے بھی مختلف دباؤ اور رفتار کے حالات میں آزمایا جاتا ہے تاکہ غیر معمولی صورتِ حال میں ان کی برداشت کا اندازہ ہو سکے۔
اس واقعے میں طیارے کے ریڈار کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو کہ ماہرین کے مطابق انتہائی سنگین صورتِ حال ہو سکتی ہے، خاص طور پر لینڈنگ کے دوران، لیکن طیارہ پھر بھی انتہائی خراب حالات میں کیے جانے والے ٹیسٹوں کی وجہ سے محفوظ طور پر تبوک پہنچ گیا۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی انتہائی خطرناک صورتِ حال میں طیاروں کی محفوظ لینڈنگ کو یقینی بنانے کے لیے ابھی مزید ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
