• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار، ایران کا دشمنوں کو سخت ردعمل کا انتباہ

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی---فائل فوٹو
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی---فائل فوٹو

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ کا خاتمہ فوجی کارروائی سے ممکن نہیں، تنازع کے سفارتی حل کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال بھی برقرار ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق غیر ملکی سفیروں کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مخالفین نے دوبارہ فوجی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تو ایران پہلے سے زیادہ طاقت ور جواب دے گا۔

عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جنگ یا نئی پابندیوں کے ذریعے مسئلے کا کوئی حل ممکن نہیں، تنازع ختم کرنے کا واحد راستہ انصاف اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی کئی ہفتوں کی شدید بمباری کے باوجود جنگ کا فیصلہ کن اختتام نہیں ہو سکا، امریکا نے حالیہ ہفتوں میں فوجی کارروائیاں محدود کی ہیں تاہم ایران پر معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازع اب آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے، ایران نے جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت محدود کر رکھی ہے جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی معاہدے پر اختلافات برقرار ہیں، گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے، جن میں ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 7 شرائط پیش کیں۔

ایران نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی، بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، تیل کے شعبے پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات پیش کیے ہیں۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا ہے کہ امریکا نے ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز کا جواب ایران تک پہنچا دیا ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کی تازہ تجویز جوہری معاملے سے متعلق اس کی سابقہ تجاویز کے مطابق ہے، ایران کی توجہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ہے اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے ایرانی تجارتی بحری آمد و رفت میں رکاوٹوں کا خاتمہ اور پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

ادھر امریکا اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کی فوجی کارروائیوں کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، تاہم ایران طویل عرصے سے جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیرِ پیٹرولیم محسن پاک نژاد نے اتوار کو ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے دیا، جسے صدر مسعود پزشکیان نے منظور کر لیا۔

نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بورد کو قائم مقام وزیر پیٹرولیم مقرر کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید