حکومتی مذاکراتی ٹیم کی رکن اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ لگ رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں معاملات ایمرجنسی کی طرف جا رہے ہیں۔
شیری رحمان نے مذاکرات کیسے ڈیل ریل ہوئے؟ مسودوں پر اتفاق رائے کے باوجود مذاکرات کیوں کامیاب نہ ہوسکے؟ کس نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے پیروں سے زمین چھین لی؟ جب ڈرافٹ پر دستخط ہونے والے تھے تو کیا ہوا؟ سب کچھ بتادیا۔
آج رات 10 بج کر 5 منٹ پر نشر ہونے والے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو میں شیری رحمان نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی وہی کچھ کریں گے، جو انہیں وفاقی حکومت کہے گی۔
انہوں نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں معاملات ایمرجنسی کی طرف جا رہے ہیں، مسودے کا ایک حصہ انسداد دہشت گردی تعاون پر مبنی تھا۔
سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے سیاسی لوگوں کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ مکمل بند نہیں ہوتا، ہم حکومت میں نہیں اس لیے نہیں کہہ سکتی کہ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے یا بند ہوچکا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی چاہتی تھی کہ راستہ نکلے ہمارا بھی یہی خیال تھا،حکومت بھی چاہتی تھی کہ مذاکرات سے راستہ نکلے، اس کے اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔
پی پی سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ ہم نے بھی فریقین کو اچھے رویے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی، مذاکرات کے دوسرے دن اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی نے کہا ہم با اختیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو بانی پی ٹی آئی کے علاج اور ڈاکٹرکی رسائی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔