پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف میکرو اکنامک استحکام کے کچھ اشارے نظر آ رہے ہیں اور دوسری طرف کاروبار، صنعت، برآمد کنندگان، سرمایہ کاروں اور عام شہریوں کیلئے معاشی حالات اب بھی مشکل ہیں۔ مالی سال 2026ءمیں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7فیصد رہی جو کہ گزشتہ چار سال کی بلند ترین شرح ہے لیکن روزگار پیدا کرنے، معیار زندگی بہتر بنانے اور معیشت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنے کیلئے یہ شرح نمو انتہائی ناکافی ہے۔ دوسری طرف ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 17.93 ارب ڈالر پر جمود کا شکار رہیں جبکہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری تقریباً 34فیصد کم ہو کر 1.64ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے 2035ءتک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ اس منزل تک پہنچنے کیلئے ہمارے پاس روڈ میپ کیا ہے۔ اسکا جواب حکومت یا اسکی کسی معاشی پالیسی میں نہیں بلکہ معیشت کے پورے ڈھانچے کی تبدیلی میں پوشیدہ ہے۔حکومت میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے کیلئے مسلسل کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف پروگرام نے بھی مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے استحکام میں مدد دی ہے۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی مالیاتی اور ادارہ جاتی صورتحال میں بہتری کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم اس مالیاتی استحکام کا نتیجہ نئی فیکٹریوں، ٹیکنالوجی، روزگار اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کی صورت میں نظر نہیں آ رہا ہے۔ حکومت کو معاشی استحکام کو پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرناہوگااور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے ایک قابل اعتماد سیاسی و معاشی ماحول بنیادی ضرورت ہوتا ہےجس کیلئے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کیا جانا چاہئے تاکہ اگلے پانچ، دس یا بیس سال کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ علاوہ ازیں ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف حاصل کرنے کیلئے برآمدی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ ناگزیر ہے۔ اگرچہ طویل عرصے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری برآمدات میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ رہی ہے لیکن یہ شعبہ بھی گزشتہ چند سالوں سے جمود کا شکار ہے۔ اس لئے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو صرف زیادہ مقدار میں کپڑا برآمد کرنے کی بجائے ویلیو ایڈیشن، ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، ٹیکنالوجی، برانڈنگ اور عالمی سپلائی چینز میں زیادہ مضبوط کردار ادا کرنے کیلئے اپنی استعداد اور صلاحیت بڑھانا ہوگی۔ اس کیساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی برآمدات میں تنوع لانے اور ان کی بنیاد کو وسیع کرنے پر بھی توجہ دینی ہو گی۔ اس حوالے سے ہمارے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سروسز، دواسازی، انجینئرنگ، پراسیسڈ فوڈ، کیمیکل، فرنیچر، جم اینڈ جیولری اور فیشن کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کے وسیع مواقع اور استعداد موجود ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی صنعتی ترقی میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کی بنیادی وجہ گردشی قرضہ، ترسیل و تقسیم کے نقصانات، بجلی و گیس کی چوری اور کیپسٹی پیمنٹس کا اضافی دباؤ ہے جس کا براہ راست اثر صنعتی پیداواری لاگت اور برآمدی مسابقت پر پڑتا ہے۔ ان حالات میں اگر پاکستانی مصنوعات کو بنگلہ دیش، ویتنام، چین، بھارت اور دیگر ممالک سے مقابلہ کرنا ہے تو صنعت کو قابلِ اعتماد اور مسابقتی قیمت پر توانائی فراہم کرنا ہو گی۔ توانائی پالیسی کا مقصد صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسی بجلی فراہم کرنا ہونا چاہیے جس کی قیمت اور دستیابی قابل بھروسہ اور مسابقتی ہو۔
پائیدار معاشی ترقی کے لیے ٹیکس نظام کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ موجودہ صورتحال میں دستاویزی معیشت پر ٹیکس کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہو چکا ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت کے بڑے حصے کو تاحال مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ کا حصہ نہیں بنایا جا سکا ہے۔ اگر پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے تو ضروری ہے کہ ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے کے لئے نئے شعبوں اور غیر دستاویزی معیشت کو ترجیحی بنیادوں پر ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرض کے درست استعمال کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے لیا گیا قرض غیر پیداواری شعبوں اور اقدامات پر خرچ ہو رہا ہے۔ اگر یہ قرض پانی، توانائی، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلی، زراعت اور دیگر پیداواری شعبوں میںاستعمال کیا جائے تو مستقبل میں ان شعبوں سے پیدا ہونے والی معاشی بہتری سے ان قرضوں کی باآسانی ادائیگی ممکن ہے۔
علاوہ ازیں ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف حاصل کرنے کیلئے پالیسیوں میں تسلسل بھی ضروری ہے۔ اگر حکومتیں تبدیل ہونے سے سیاسی ترجیحات تبدیل ہوتی رہیں گی تو ہم ’’بوم اینڈ برسٹ‘‘ کے اسی چکر میں پھنسے رہیں گے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس لئے برآمدی ترقی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرمایہ کاری کا تحفظ، مالیاتی ذمہ داری اور انسانی سرمائے کی ترقی کی بنیادی پالیسیوں کو سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہے۔ پاکستان کے پاس یہ تبدیلی لانے کی بنیاد موجود ہے لیکن اس کے لیے استحکام سے آگے بڑھنا ہو گاصرف جی ڈی پی کی شرح نمو میں اضافہ، مالیاتی نظم و ضبط یا ریٹنگ میں بہتری کافی نہیں ہے۔ حکومت کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت قرضوں سے نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت میں اضافے سے بنتی ہے۔ پاکستان کو قرضوں سے آزادی نہیں بلکہ بقا کیلئے قرض لینے کی مجبوری سے آزادی حاصل کرنا ہوگی۔