عالمی فوجداری عدالت نے پیر کو ایک فیصلے میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹس کو منظر عام پر لانے کا حکم جاری کردیا۔
ان وارنٹس کے وجود کا اعلان 8 جولائی 2025 میں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مزید دو مشتبہ افراد حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے وارنٹس بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ چاروں وارنٹس جولائی سے ستمبر 2025 کے درمیان جاری کیے گئے تھے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف نے کہا کہ یہ یقین کرنے کے لیے معقول بنیادیں موجود ہیں کہ یہ چاروں افراد انسانیت کے خلاف جرم، یعنی ظلم و ستم کا حکم دینے، اس پر اکسانے یا اسے بھڑکانے کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار ہیں۔
یہ جرم روم اسٹیچیوٹ (قانون) کے تحت انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے، جو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا بنیادی معاہدہ ہے۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے مطابق طالبان رہنماؤں پر صنفی اور سیاسی بنیادوں پر ظلم و ستم کے جرم میں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو منظم طور پر بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کرنے کے شواہد موجود ہیں۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے مطابق افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہار اور خاندانی زندگی سمیت بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔ خواتین اور لڑکیوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی سیاسی مخالف سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
آئی سی سی کے مطابق وارنٹس کو منظر عام پر لانے کا مقصد مزید جرائم روکنا اور عالمی تعاون بڑھانا ہے۔ طالبان پالیسی سے منسلک مبینہ مظالم میں قتل، قید، تشدد، ریپ اور جبری گمشدگیاں بھی شامل ہیں۔