• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان آئی ایم ایف مذاکرات: اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی تیاری پر کام شروع

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی تیاری پر کام شروع کر دیا گیا، جبکہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف مشن کی وزارتِ خزانہ کے حکام سے آج دوبارہ ملاقات ہوگی۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم سندھ نے مرکز کی شوگر پالیسی کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دے دیا ہے، سندھ کے اختلاف کے باعث شوگر پالیسی تاحال طے نہیں ہو سکی۔

آئی ایم ایف نے آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف صارفین کو وزیرِ اعظم کی جانب سے فیول سبسڈی دینے پر رضامند ہو گیا ہے، تاہم اس نے سبسڈی سے مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد مزید نہ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ فیول سبسڈی صرف چھوٹی گاڑیوں تک محدود رکھی جائے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے حکام کے ساتھ آئی ایم ایف مشن کی آج دوبارہ ملاقات ہو گی، جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیرِ پیٹرولیم کریں گے۔

مذاکرات میں گیس کے ٹیرف اسٹرکچر اور گیس کے شعبے میں گردشی قرضے کے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن آج وزارتِ نجکاری کے حکام سے بھی ملاقات کرے گا، جس میں ڈسکوز کی نجکاری اور لائن لاسز کے معاملات پر بات چیت ہو گی۔

دوسری جانب آئی ایم ایف مشن کے ایف بی آر کے ساتھ مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں۔

تجارتی خبریں سے مزید