وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں آٹے کی قیمتیں مستحکم اور گندم کی دستیابی سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا۔
کراچی میں وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری سمیت دیگر شریک ہوئے، اس موقع پر 15 اکتوبر سے سرکاری گندم جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سرکاری گندم 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلو گرام بوری کےحساب سے جاری ہوگی، اس اجراء کا مقصد آٹے کی قیمتیں مستحکم کرنا اور صارفین کو ریلیف دینا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومتی اقدام کا فائدہ آٹے کی کم قیمتوں کی صورت میں صارفین تک پہنچایا جائے۔
اجلاس کے شرکاء کو دی گئی بریفنگ میں محکمہ خوراک نے بتایا کہ صوبائی ذخائر میں اس وقت 3 لاکھ 46 ہزار 414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاسکو سے 1 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن گندم صوبائی ذخائر میں شامل کی جائے گی جبکہ درآمد شدہ گندم سے 3 لاکھ میٹرک ٹن صوبائی ذخائر میں شامل ہوگی۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی ڈویژن میں اس وقت 1 لاکھ 35 ہزار 948 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، پاسکو ذخائر سے حیدرآباد ریجن کےلیے 30 ہزار میٹرک ٹن گندم مختص کی جائے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ میرپورخاص، شہید بینظیرآباد ریجنز کےلیے 60 ہزار میٹرک ٹن گندم مختص کی گئی ہے، اضافی گندم ذخائر سے مارکیٹ میں رسد بہتر ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ اضافی گندم سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر قابو پانےمیں مدد ملے گی، کراچی میں ریٹیل آٹے کی قیمت 165 سے 170 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ یکم اکتوبر کو کراچی میں گندم 12 ہزار 400 روپے فی 100 کلو گرام تھی جبکہ فی کلو قیمت 160 تا 165 روپے تھی، گندم اور آٹےکی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے۔