• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: اسنیپ چیٹ پر 17 سالہ لڑکی کو ورغلا کر زیادتی، 3 افغان شہریوں سمیت 4 افراد کو سزا

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

برطانیہ کے شہر برسٹل میں 17 سالہ لڑکی کو اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطے میں لا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں 3 بالغ افغان شہریوں اور ایک 17 سالہ لڑکے کو مجموعی طور پر 36 سال قید کی سزائیں سنا دی گئیں۔

پولیس کے مطابق 21 سالہ مہراب صافی نے نومبر 2025ء میں برسٹل میں کرسمس شاپنگ کے دوران متاثرہ لڑکی سے ملاقات کی تھی، بعد ازاں اسنیپ چیٹ پر متاثرہ لڑکی سے رابطہ برقرار رکھا اور نامناسب تصاویر بھیجنے کے لیے کہا، پھر چند روز میں مہراب صافی اور 19 سالہ سلمان حبیب خیل نے ٹیکسی کے ذریعے لڑکی کو برسٹل بلایا، جہاں اسے مہراب صافی کے گھر لے جایا گیا۔

پولیس کے مطابق گھر پہنچنے کے بعد لڑکی کو شراب پلائی گئی اور پھر مہراب صافی، حبیب خیل، 19 سالہ اول احمد زئی اور ایک 17 سالہ لڑکے نے کئی گھنٹوں تک لڑکی کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ کی جانب سے گمشدگی کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس مہراب صافی کے گھر پہنچی، لڑکی کو بازیاب کروایا گیا اور 17 سالہ ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق 3 بالغ ملزمان موقع سے فرار ہو کر برطانیہ سے فرانس چلے گئے تھے، بعد ازاں انہیں فرانس سے گرفتار کر کے برطانیہ واپس لایا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کے موبائل فونز سے واقعے اور جنسی جرائم سے متعلق عدالتی کارروائی کے بارے میں معلومات تلاش کیے جانے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

عدالت نے مہراب صافی کو 15 سال قید، سلمان حبیب خیل کو 9 سال اور اوّل احمد زئی کو بھی 9 سال قید کی سزا سنائی ہے، جبکہ 17 سالہ لڑکے کو 3 سال قید کی سزا دی گئی۔

چاروں کو جنسی جرائم کے مجرموں کے رجسٹر میں بھی شامل کیا گیا ہے اور بچوں سے رابطے پر پابندی سے متعلق احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

عدالت میں متاثرہ لڑکی کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں اس نے کہا کہ واقعے کے بعد اس کی زندگی، تعلیم اور سماجی سرگرمیوں پر گہرا اثر پڑا۔

پولیس کے سینئر تفتیشی افسر میٹ کیبل نے کہا ہے کہ ملزمان نے ایک کم عمر اور غیر محفوظ لڑکی کو نشانہ بنایا، جسے پہنچنے والے صدمے کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید