وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے حوالے سے غور و خوض مکمل ہو گیا، ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگے گی۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات، دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کے تعاون سے مشروط ہوں گے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس معمول کی بات ہے، کسی ایک اجلاس کو خاص طور پر منینشن کرنا کہ کوئی حتمی فیصلہ ہورہا ہے اس کی تصدیق نہیں کروں گا، کوئی فیصلہ کن اجلاس کی بات ابھی حتمی نہیں نہ کوئی اطلاع ہے، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق جو غور حکومت نے کرنا تھا وہ پورا ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ ایمرجنسی لگانے یا نہ لگانے میں کیا کردار ادا کرتی ہے، وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا ہر صورت میں خاتمہ کرنا ہے، صوبائی حکومت کیلئے بہتر ہے کہ تعاون کرے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں حصہ لے، صوبائی حکومت الگ تھلگ رہتی ہے تو دوسرا آپشن ایمرجنسی کا نفاذ ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئین کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ پورے صوبے کے لیے ہے 12 اضلاع کیلئے نہیں، 12اضلاع جو شدید متاثر ہیں وہاں غیرمعمولی انتظامات وقت کا تقاضا ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں، اس سے بڑے مارچ اسلام آباد کی طرف لائے گئے اور ان کو روکا گیا، لانگ مارچ کو ڈیل کرنا ہمیں آتا ہے، وفاقی حکومت کی تیاری مکمل ہے، یہ بات غلط ہے کہ حکومت لانگ مارچ روکنے کیلئے ایمرجنسی لگانا چاہتی ہے، اتفاق ہوسکتا ہے کہ ایمرجنسی کی بات لانگ مارچ کے وقت منظر عام پر آئی ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایمرجنسی سے متعلق ہماری صفوں میں کافی عرصے سے گفتگو چل رہی ہے، واقعات بڑھ رہے ہیں، جوان شہید ہورہے ہیں بہت کوشش کی گئی کہ صوبائی حکومت کو آن بورڈ لیا جائے، ذہنی اور عملی طور پر وفاقی حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ دہشت گردوں کو مزید وقت نہیں دیا جاسکتا، یہ فیصلہ حتمی طور پر ہوچکا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اٹل فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں اتفاق نہیں کہ مولانا کو وہ ثالث مقرر کرنے پر تیار ہے یا نہیں، پی ٹی آئی کو یقین دہانی کروانا ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کریں گے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کے معاملے پر ممکنہ حتمی فیصلے کے لیے کل اعلیٰ سطح کے اجلاس کا امکان ہے۔ جس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لینے اور ان رپورٹس کی بنیاد پر سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگانے کی تجویز زیر غور آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تجویز پر بھی غور ہوگا کہ خیبر پختونخوا میں اہم اختیارات وفاق کے سپرد کردیے جائیں۔ اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔