• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میٹا اور ٹیسلا آئندہ ہفتے آمدنی سے متعلق رپورٹ جاری کریں گی

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

میٹا اور ٹیسلا آئندہ ہفتے اپنی آمدنی اور مالی کارکردگی کے نتائج جاری کریں گی جن پر سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز ہیں۔

فیکٹ سیٹ کے مطابق ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں شامل تقریباً 45 کمپنیاں اب تک اپنے مالی نتائج جاری کر چکی ہیں جبکہ رواں ہفتے مزید 70 کمپنیوں کے نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔

گزشتہ ہفتے ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس میں کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے بڑھتے ہوئے قرضوں کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کم کر دی۔

میٹا بدھ کو کاروباری منڈی بند ہونے کے بعد اپنے مالی نتائج جاری کرے گی اور اس حوالے سے اجلاس بھی منعقد کرے گی۔ 

ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ میٹا کی فی حصص آمدنی گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 460 فیصد بڑھ جائے گی۔

یہ 8 ستمبر کو مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام ’میوز‘ متعارف کروانے کے بعد میٹا کے پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج ہوں گے۔ 

اس نظام کے اجراء کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت میں 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تاہم سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے کمپنی کی آمدنی پر کیا اثر پڑے گا۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیسلا کی فی حصص آمدنی گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14.5 فیصد کم رہنے کا امکان ہے جبکہ کمپنی کی مجموعی آمدنی میں بھی 1 فیصد کمی متوقع ہے۔

مالیاتی تحقیقی ادارے وولف ریسرچ کے مطابق گاڑیوں کی صنعت کے لیے مشکل سہ ماہی کے دوران ٹیسلا کی آمدنی تجزیہ کاروں کی توقعات سے کم رہنے کا امکان ہے۔

ٹیسلا کی تیسری سہ ماہی میں گاڑیوں کی ترسیل گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 فیصد کم جبکہ تجزیہ کاروں کے اندازوں سے زیادہ رہی ہے۔ 

بیسپوک انویسٹمنٹ گروپ کے مطابق ٹیسلا گزشتہ 4 سہ ماہیوں میں سے 2 کے دوران آمدنی سے متعلق تجزیہ کاروں کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید