• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو درپیش معاشی مسائل میں بڑھتا ہوا قرض، سست رفتار صنعتی ترقی، بیروزگاری، سرمایہ کاری میں کمی اور برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا اہم ہیں۔ ان مسائل کا حل ایسے معاشی نظام کی تشکیل میں پوشیدہ ہے جو سرمایہ کاری کو فروغ دے، صنعتوں کے قیام کو آسان بنائے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے۔ اس سلسلے میں حکومتی طریقہ کار اور کاروباری ماحول میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں جس کیلئے چین کے شہر شینزن کا ماڈل اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ چین نے چند دہائیوں میں اپنی معیشت کو جس تیزی سے تبدیل کیا ہے اس میں ’شینزن ماڈل‘ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا شہر جو چین کی صنعتی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، جدید انفراسٹرکچر اور برآمدات کے فروغ کی نمایاں مثال ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون پہلے ہی وسعت پا رہا ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے اور رابطہ کاری کے منصوبوں پر توجہ دی گئی جبکہ دوسرے مرحلے میں صنعتی، زرعی، تکنیکی اور سائنسی تعاون کو اہمیت حاصل ہے۔ یہی وہ شعبے ہیں جو پاکستان کی معیشت کو محض درآمدات اور قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے پیداوار، برآمدات اور روزگار کی بنیاد پر مستحکم کر سکتے ہیں۔تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے خصوصی اقتصادی زونز کا قیام اور انہیں فعال بنانا ضروری ہے۔ ان اقتصادی زونز کو محض زمین مختص کرنے، عمارتیں تعمیر کرنے یا افتتاحی تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انکی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ان میں کتنی صنعتیں قائم ہوئیں، کتنا سرمایہ آیا، کتنے افراد کو روزگار ملا، مقامی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں کتنا اضافہ ہوا اور برآمدات میں کیا بہتری آئی ۔

خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ایسی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس سے صنعتوں کے قیام اور کاروبار کی توسیع میں آسانی میسر آئے۔ اس کے برعکس اگر یوٹیلٹی سروسز کی فراہمی غیر یقینی ہو، سرکاری محکموں سے منظوری حاصل کرنے میں مہینوں لگ جائیں، ٹیکس معاملات پیچیدہ ہوں اور سرمایہ کاروں کو ایک محکمے سے دوسرے محکمے کے دفاتر کے چکر لگانے پڑیں تو پھر سرمایہ کاری میں اضافہ اور اقتصادی ترقی ممکن نہیں ۔ بدقسمتی سے یہ بات حقیقت ہے کہ سی پیک کے تحت بننے والے زیادہ تر اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔

ان حالات میں شینزن ماڈل پر عملدرآمد کرکے صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس ماڈل کا بنیادی مقصد ہی سرکاری منظوریوں کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ اس سلسلے میں 24 گھنٹے خدمات کی فراہمی کے نظام اور ون ونڈو آپریشن جیسی سہولیات متعارف کروائی گئیں تاکہ سرمایہ کاروں کو مختلف خدمات کیلئے متعدد دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے ایک ہی مقام پر ضروری سہولتیں فراہم ہوں۔ پاکستان میں بھی کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد کو مختلف محکموں سے اجازت نامے، رجسٹریشن، ٹیکس سے متعلق دستاویزات اور دیگر منظوریوں کیلئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی نوعیت کی معلومات مختلف اداروں کو بار بار فراہم کرنا پڑتی ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف کاروباری لاگت بڑھتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر حقیقی معنوں میں مربوط ون ونڈو نظام قائم کیا جائے جہاں کاروبار کی رجسٹریشن، ٹیکس، زمین، یوٹیلیٹی کنکشن اور متعلقہ اجازت ناموں کے معاملات ایک مربوط طریقہ کار کے تحت نمٹائے جائیں۔ درخواستوں کی منظوری کیلئے واضح مدت مقرر ہو، کارروائی کی نگرانی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جائے اور غیر ضروری تاخیر کی صورت میں متعلقہ افسران کو جوابدہ بنایا جائے۔ اس ماڈل کے تحت اگر خصوصی اقتصادی زونز مؤثر انداز میں کام کریں تو وہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، نئی صنعتیں قائم کرنے اور برآمدی شعبے کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس سے ٹیکس محصولات میں اضافہ، ہنرمند افرادی قوت کی طلب اور روزگار کی فراہمی کے نئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہماری نوجوان آبادی ملک کیلئے ایک بڑا سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کیلئےاسے تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صنعتی ترقی کے بغیر نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو معیاری روزگار فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلے میں خصوصی اقتصادی زونز میں ٹیکسٹائل، فرنیچر، انجینئرنگ، زرعی پراسیسنگ، ٹیکنالوجی اور دیگر پیداواری شعبوں کو فروغ دے کر انہیں مقامی تعلیمی اداروں اور فنی تربیت کے مراکز کے ساتھ منسلک کرنا ہو گا تاکہ صنعت کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کی جا سکے۔

اسی طرح شینزن ماڈل کے اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو بجلی، پانی، انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی تجارت سے متعلق سہولتیں فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان میں بھی صنعتی ترقی کیلئے انہی اصولوں پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔ خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی اور پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی، مؤثر ٹرانسپورٹ، جدید گودام، کسٹمز سہولتیں اور برآمدی منڈیوں تک بہتر رسائی یقینی ہو گی تو صنعتیں یہاں منتقل ہوں گی اور نئی سرمایہ کاری بھی آئے گی۔ اس کیساتھ ساتھ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے معاملات میں شفافیت اور پالیسیوں کا تسلسل بھی ضروری ہے تاکہ سرمایہ کار طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکیں۔ اس طرح سی پیک کے دوسرے مرحلے کو صنعتی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور روزگار کی فراہمی بڑھا کر معاشی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر ہم نے یہ موقع بھی ضائع کر دیا تو یہ خطرہ موجود رہے گا کہ بڑے منصوبے اور سرمایہ کاری کے مواقع ہونے کے باوجود انتظامی رکاوٹیں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل ملکی ترقی کی راہ میں حائل رہے۔

تازہ ترین