• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ: 328 پرائمری ہیلتھ کیئر یونٹس میں ادویات کی خریداری نہ ہونے کا انکشاف

سندھ بھر میں 328 پرائمری ہیلتھ کیئر یونٹس میں رواں مالی سال کے دوران ادویات کی خریداری نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان مراکز کے لیے حکومت کی جانب سے ادویات کی خریداری اور مرمت کا بجٹ بھی بند کردیا گیا ہے۔ 

سندھ حکومت نے رواں مالی سال کے آغاز پر یکم جولائی سے تمام پرائمری ہیلتھ کیئر یونٹس کا انتظام پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو، یعنی پی پی ایچ آئی، کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پی پی ایچ آئی کے مطابق اب تک 426 یونٹس کا انتظام سنبھالا جاچکا ہے، جبکہ 328 یونٹس کی منتقلی تاحال باقی ہے۔ ان میں کراچی کے 33 یونٹس بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق باقی 328 مراکز کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کو بھی بجٹ فراہم نہیں کیا گیا، جس سے ادویات کی خریداری اور مرمت کے معاملات متاثر ہیں۔ انتظامی منتقلی میں تاخیر کے دوران ان مراکز کو فعال رکھنے کے لیے بھی کوئی واضح پالیسی موجود نہیں۔ اس معاملے پر محکمہ صحت سندھ سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ پالیسی میں ابہام سے پرائمری ہیلتھ کیئر یونٹ مشکلات سے دوچار ہیں۔

پی پی ایچ آئی کے تحت پہلے سے 1491 پرائمری ہیلتھ کیئر یونٹس کام کر رہے تھے۔ یکم جولائی سے 426 مزید یونٹس کا انتظام سنبھالنے کے بعد ادارے کے ماتحت مراکز کی تعداد 1917 ہوگئی ہے، جبکہ تمام یونٹس کی منتقلی مکمل ہونے پر یہ تعداد 2245 تک پہنچ جائے گی۔ 

سوال یہ ہے کہ باقی 328 مراکز کی منتقلی تک ادویات اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے گی؟ اور ان مراکز میں آنے والے مریضوں کا کیا ہوگا؟

صحت سے مزید