آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیارکرتی جارہی ہے کہ اس پیچیدہ اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں حکمرانی کے چیلنج پر کیسے پورا اترا جائے۔ اچھی حکمرانی یا گڈ گورننس عمومی بات نہیں رہی ہے بلکہ مربوط عوامل کا نتیجہ ہے جس کے لئے ایک درست حکمت عملی اور نئے نظام کی ضرورت ہے۔ سوشل ازم، سرمایہ داری اور اس سے وابستہ جمہوریت انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مغرب میں فلاحی ریاست اور جمہوری آزادی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے جیسا عمل سمجھی جارہی ہے۔ حکومتیں بتدریج جمہوریت کے اصولوں سے انحراف میں ہی ریاست کی بقاء محسوس کررہی ہیں۔ انسان کی آئندہ سرنوشت میں یہ انداز حکمرانی اور نظام ایک تباہ کن ضرب لگانے کے سوا کوئی کردار ادا کرتا نظر نہیں آرہا۔ اگلی دہائی کا سب سے بڑا چیلنج حکومتوں کو ٹھیک کرنا ہے۔ کئی صدیوں سے مغرب سیاسی نظام کا سرچشمہ ہے۔ سولہویں صدی کو ہم مغرب اور ایک لحاظ سے تاریخ انسانی کے نئے دور کا آغاز سمجھیں تو آج چار صدیاں گزرنے کے بعد اس نظام میں خستگی اور داخلی کمزوری کے آثار واضح ہیں۔ سیاسی نظام قابل حکومتیں فراہم نہیں کررہا ہے۔ نااہلی بجٹ خسارہ اور نفس پرستی قانون سازی میں اہم کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ ہر جگہ جمہوریت غیر حقیقت پسندانہ عوامی توقعات میں اضافہ کررہی ہے جس سے پیدا متناقص

مطالبات ریاست اور حکومت کو افراتفری کا شکار کررہے ہیں۔ حکومتیں دیر پا منصوبہ بندی کے بغیر بے قاعدگی اور محض الیکشن میں کامیابی کی بنیاد پر چلائی جارہی ہیں۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ چین جہاں آئندہ الیکشن کے چکروں میں پڑنے کے بجائے دیرپابنیادوں پر مبنی سوچ اور عمل بنیادی کردار ادا کرتے ہیں بہتر انداز میں ترقی کررہا ہے۔ بیشتر جمہوری ممالک میں سیاسی رہنما عوامی مطالبات کو نظام پر گنجائش سے زیادہ بوجھ ڈالنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے جائز اور ناجائز طریقے سے حکومت سے ناراض کرتے چلے جاتے ہیں جس سے حکومتیں جمود اور تعطل کا شکار ہوجاتی ہیں۔
اس تیز رفتار دنیا میں ایک ہفتہ بھی طویل مدت شمار ہوتا ہے لیکن پاکستان پچھلے تین ہفتوں سے ایسے ہی تعطل اور جمود میں مبتلا ہے۔ تبدیلی اور انقلاب کے نام پر اونچے درجے کی ڈرامہ بازی جاری ہے۔ ایک کو انقلاب چاہئے اور ایک کو تبدیلی لیکن دونوں پرجوش رہنماؤں کے پاس کوئی متبادل نظریہ ہے نہ فکر نہ نظام۔ عمران خان کے مطالبات کا مرکز و محور وزیراعظم نوازشریف کا استعفیٰ ہے وہ نوازشریف کے سرمایہ دارانہ نظام کو عمران خان کے سرمایہ دارانہ نظام سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے وطن عزیز میں کیا عظیم انقلاب رونما ہوگا سیاسی مفکرین حیران ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری شیخ الاسلام ہیں اور اسلام کی تشریح اور توضیح کی پر مبنی سینکڑوں کتابوں کے مصنف لیکن اس فرسودہ نظام سے نجات کے بعد وہ کس نظام کے تحت انقلاب برپا کریں گے ملاحظہ فرمائیے۔برطانوی نشریاتی ادارے سےبات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ: ’’وہ نہ تو آمریت چاہتے ہیں اور نہ ہی دینی ریاست جس چیز نے ان کے ذہن کو اپنی گرفت میں لیا ہے وہ اس طرز کی جمہوریت ہے جو امریکہ کینیڈا برطانیہ اور یورپی یونین میں رائج ہے‘‘۔جس نظام کے قویٰ خود مغرب میں تحلیل ہورہے ہیں انسانی سوالات اور لحظہ بہ لحظہ بدلتی ہوئی دنیا میں جس کی ناکامی ظاہرہورہی ہے شیخ الاسلام پاکستان میں اس کا تجربہ کرنا چاہ رہے ہیں۔
نامور امریکی ماہر اقتصادیات ڈیرون ایکمو گلو Daron Acemo Glu قرار دیتے ہیں: ’’جن قوموں کی قیادت اور اجتماعی حالت یہ ہو کہ ان میں تین برائیاں سرایت کرجائیں ان کی زوال پذیری یقینی ہے۔ لالچ، خودغرضی اور ماضی کو فراموش کرنے کی عادت‘‘۔ یہ زرداری حکومت کے اواخر کی بات ہے جب ڈاکٹر طاہر القادری فلاپ کنٹینر ڈرامہ کرکے واپس کینیڈا تشریف لے گئے تھے۔ لیکن کسی کو یاد نہیں اور آج ایک بار پھر محروم انسانوں کو نجات بخش نعروں سے نوازتے ہوئے ملک کو درہم برہم کرنے کے درپے ہیں۔ لالچ اور خودغرضی کو بے شرمی سے کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں تو ایئرکنڈیشنڈ کنٹینروں میں انقلاب برپا کرتے قائدین کے طرز عمل کو دیکھ لیجئے ایک طرف آسمان سے بارش کی صور ت میں برستے مصائب ہیں تو دوسری طرف شرکائے دھرنا جن کی قیادت اپنے عشرت کدوں میں محو آرام ہیں۔ سیاسی رومان اور مذہبی استحصال کس طرح انسانوں سے خراج وصول کرتا ہے اہل دھرنا کو دیکھ لیجئے۔ ملک کے بڑے حصوں میں بارشوں نے طوفان اٹھادیا ہے ڈیڑھ سو سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ بستیاں تاراج اور شاہرائیں ادھڑی پڑی ہیں۔ لیکن کپتان کے نزدیک تمام مسائل کا حل نوازشریف کا استعفیٰ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کے مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ پورا بھی ہوجائے کیا فرق پڑے گا نظام تو یہی رہے گا۔ جس کی تبدیلی کی بات کوئی نہیں کررہا حالانکہ اس نظام سے خود اہل یورپ بیزار ہوچکے ہیں۔دھرنوں کی مشکل سے نکل جانے اور سیلاب کی آفتوں پر قابو پانے کے بعد بھی نوازشریف حکومت کے مسائل کم نہیں ہوں گے۔ اس نظام کے داخلی تضادات کسی بھی حکومت کو دل جمعی سے اپنے منصوبوں کو بروئے کار لانے کا موقع نہیں دیتے۔ خطے میں جمہوریت کے حوالے سے بھارت کی مثال دی جاتی ہے۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس کی جمہوریت عوام کے بنیادی حقوق ادا کرنے میں ناکام ہے۔ حکمرانی کا چیلنج ہو یا بہتر حکومت کی تشکیل انسانیت کو درپیش تمام مسائل کا حل صرف اسلام کے پاس ہے۔ اسلام سے عدم توجہ عدم التفات انسان کے آج اور کل کے لئے نقصان دہ ہوگا دنیا کی اس حیرت افزہ وسعت میں یہی انسان کی بے قرار وح کو ثبات بخش سکتا ہے وگرنہ انسانیت کی خیر نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں