تبدیلی میں نہیں گم گشتہ نظریہ میں ہماری بقاہے۔ صدق دل سے صف بندی کر لوں گا، اگر قرار دادِ مقاصد ، مسئلہ کشمیر اور اردوزبان کے اوپر سیاست استوار کی گئی۔ عظیم قائد ہی نے تو قراردادِ مقاصد کے نقش واضح کئے تھے، بانیان نے فقط مہر تصدیق ثبت کی، دوربین قائد جب کشمیر کو شہ رگ کا درجہ دے رہے تھے توآج ہی کے حالات سامنے تھے۔اوپرسے اردوزبان کو کس یکسوئی سے راسخ کرگئے ۔ان تین رہنمااصول کے باہر اٹھائی گیری ، منافقت ، فراڈ ، دوغلے پن کا اتوار بازارہے۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ کس کا مال بک رہا ہے اور کون دکان سمیٹنے کو۔مجرمانہ غفلت جب ملک ڈوب رہا تھا، تاریخ کا بدترین طوفان،جلو میں تاریخ کا مشکل ترین آپریشن، دس لاکھ افراد دربدر، میڈیا کی بے حسی دیدنی، مجرمانہ غفلت ہی توتھی ۔ دنیا کے کس کونے میں ایسی انہونی کہ 24 گھنٹے ، کئی ہفتے ، چند ہزار نفوس پر موقوف دھرنا، قوم دیکھنے کی پابند، ایسی اعصاب شکنی۔ مزید کام پکا،جیو جنگ کو پردہ سیمیں سے زبردستی ہٹا دیا گیا، کہ دوسرے پہلو سے قوم کومحروم رکھنا ضروری۔ فاشزم کی ایسی نظیر پہلی دفعہ۔ چند دن پہلے حافظ سعید صاحب نے بلایا گویا ضمیرہی جھنجھوڑنے کا موجب۔ تفصیلی تصویری مشاہدہ کروایا، اپنی بے حسی اور مجرمانہ غفلت ہی عیاںرہی، چیخیں قابوکیں تو آنسوئوں کی جھڑی اپنے احساسِ جرم پر رواں ،بے قابو ۔ کیا ’’فلاح انسانیت‘‘ اور ’’خدمت ِعوام‘‘ صرف جماعت اسلامی اور جماعت الدعوۃ تک ہی محدود؟ اگر آج ٹی وی 24گھنٹے سیلاب زدگان اور IDPs کے بارے میںکوریج دیتا تو کنٹینرز پر قوم کو 24 گھنٹے مصروف رکھنے والے سرچھپائے نہ چھپتے۔
حدیث مبارکہ کا ذکر باربار، میری چیئرمین تحریک انصاف سے دست بستہ گزارش کہ یہ کر کے تودیکھیں،سچ کو اپنائیں۔ یقین دلاتا ہوں باقی برائیاں دم دبا کر بھاگ جائیں گی۔ کاش لیڈر سچ بولنے کی جرات رندانہ رکھتے۔ سطحی باتوں ، جھوٹ ، دوغلاپن نے عیاں ہونا ہی تھامگر ہمیشہ سے وطن ِعزیز کی مفلوک الحال عوام ہی زد اور گرفت میں کیوں؟بھلے دنوں ، عمران خان سے سنی کہاوت ، ’’ایک دفعہ آپ اخلاص، بے غرض ، بے لوث نیت نافذ کر جائیںتو دھوکا دینا آسان رہتا ہے‘‘، اگر عمران خان کے دل ودماغ میں وزیراعظم بننے کا بیج نہ بویا جاتا تو حتمی رائے کہ عمران کے بہت سارے ایسے پہلو ابد ی نیند سوئے رہتے۔ وزیراعظم بننے کے لیے ہمہ وقت مصروف کہ ’’تخت شاہی‘‘ لب بام ،کئی دفعہ گھرو کنٹینر کی منڈیر پرڈیرہ ڈالنے کو۔شوق میں انواع اقسام کے الزامات، ہر آدمی زد میں۔ کبھی کسی کی جرات بھی تھی کہ آپ کے کردار پر انگلیاں اٹھتیں؟سادہ لوح عوام ہمہ وقت سیاسی پُرکاروں کے جھانسوں میں۔ لیڈروں کی تقلید ،مسلک کا حصہ۔ گول باغ میں بھٹوصاحب نے بھرے جلسے میں فرما دیا کہ ’’شراب پیتا ہوں، عوام کا خون نہیںپیتا‘‘۔ حد جاری ہوئی نہ احتجاج،جواباً جئے بھٹو،کے فلک شگاف نعرے سننے کو ملے۔
بادشاہ سلامت بننے کے لیے ہرفنکاری ، ہر حربہ استعمال میں۔ساڈھے تین سو سال پہلے کا مرنجان ومرنج صوفی بادشاہ، ساری زندگی سادگی کا نمونہ کتابتِ قرآن اور ٹوپیاں سی سی کر گذر اوقات میں ندرت اور قدرت ڈھونڈی۔ ایسا راسخ العقیدہ مسلمان ، کردار پر انگلی اٹھانا ممکن نہ تھا، یقین نہیں آتا کہ بادشاہ بننے کے لیے ناجائز ہتھکنڈے کیسے اور کیوں استعمال ہوئے ؟ جھوٹ، دھوکا، رشتوں کی پامالی، وعدے وعید کی دھجیاں اڑانے میں صوفی بادشاہ نے تاریخ رقم کی ، سچ کی ایسی پامالی ، صرف اقتدارکی خاطر۔ دور کیوں جائیں ماضی قریب میں شیخ مجیب الرحمٰن اور ذولفقار علی بھٹومیں اقتدار کی جنگ نے وطن عزیز کو دولخت کردیا۔ کس سانحے سے دوچار کیا ، ٹھیسوں سے میری نسل کاایک طبقہ آج تک جانبر نہ ہوسکا۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے پہلے ایسے ہی شوبز کے ٹھاٹھیں مارتے سرکس، تھیٹردیکھنے کو ملے ۔بات پرانی تکلیف دہ کہانی، فوجی فیلڈ مارشل نے شب خون مارا تو بانیان ِ پاکستان کو کرپٹ اور نااہل کا تمغہ دیا ہزار سے زیادہ سیاستدانوں کو دس دس سال کے لیے نااہل قرار دیا۔ عظیم قائد کی عظیم بہن جب سامنے آئی تو کونسی تضحیک اور گالی، جس سے نوازا نہ گیا۔ سوال یہ کہ ہر دفعہ سیاستدانوں کو گالیاں دے کر جمہوریت پر شب خون کیوں؟ مولویوں کو آڑے ہاتھوں لے کر اسلام کی بیخ کنی کیوں؟علاقائی زبانوں کی آڑ میں اردو کا ملیا میٹ کیوں؟
بلی چوہے کا کھیل عرصے سے جاری، مہرے فیلڈ کرنے سے کب اجتناب کیا جائے گا؟ کتنی دفعہ ایسی تدبیریں الٹتے دیکھ چکے۔ ایمپائر کی انگلی اٹھنے کو ،نواز شریف کی کانپتی انگلیاں چند گھنٹے میں استعفیٰ پر دستخط کرنے کو،سن سن کر کان پک گئے ہیں۔ استعفیٰ کی عبارت بھی دھرنا شرکاکو دکھا دی گئی۔ اسلام آباد میں قانون کی پامالی پرایک ٹویٹ تو تاریخ کا حصہ، ’’ سیاسی قوتوں کا باہمی معاملہ ، سیاسی طریقے سے حل کرناہوگا‘‘۔ مینار ِپاکستان پر چکا چوند جلسہ میں کیا فرمایا۔ جلسے کو چار چاند لگتے ہی اپنی ذات کو بھی درجنوں لگا دئیے،رات کا جلسہ بہت کچھ چھپا جاتا ہے۔بدقسمتی کہ پوری تقریر میں پروگرام مقصدیت ناپید، مزیدبدقسمتی کہ شرکا کو بھی اس سے غرض نہیں۔ جب سے سیاست میں قدم رکھا ، بیساکھی کی تلاش ، بیساکھی کے بغیر قدم لینا دوبھر۔اقتدار بذریعہ بیساکھی شخصیت کو داغدار ہی رکھے گا۔مزاحیہ تقریر کہ اقتدار میں آکر ایک نظام تعلیم ، بلدیاتی انتخابات وغیرہ وغیرہ دینے کی بریکنگ نیوز۔حضور کیا خبریں ہیں خیبر پختونخواہ کی ؟ کیا اچھا ہوتا کہ کارکردگی کا دفتر کھولتے اور مثال پیش کرتے۔ وہاں اقتدار کیا مصاحبین کا دل پشوری کرنے کے لیے ؟ خیبرپختونخواکی سالانہ کارکردگی کو اجاگر کر جاتے تو نواز/ شہباز کا حساب چکتا کرنے میں آسانی رہتی۔چیئرمین تک یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ اٹھارویں ترمیم نے چاروں صوبوں کو مکمل خودمختار کردیا۔ نصاب تعلیم جس نے صوبہ سرحد کے غریب مفلوک الحال پسماندہ علاقوں کے سکولوں، کالجوں کے بچوں کو نظام کا حصہ بنانا تھا، برابری کے مواقع فراہم کرنے تھے ، یکساں اورمعیاری تعلیم ہر بچے کی دسترس میںلانا تھا ، رکاوٹ کیا رہی؟ جو توپ پنجاب پر داغی جا رہی ہے وہ توپ وہاں کیوں نہیں چلی؟آج خیبر پختونخوا کے بچے اسی طرح نظام سے باہر،بی اے پاس چپڑاسی بھرتی ہونے پر مجبور،جس طرح باقی صوبوں کے نوجوان ۔ آج ملک کے طول وعرض میں پٹھان نوجوان انگریزی سکولوں کے بچوں کی جوتیاں پالش کرنے، کچرا اکٹھا کرنے ، بھٹے بھوننے اور روڑی کوٹنے میں مصروف۔ صوبہ پنجاب ایسے بے ہودہ کاموں کے لیے روزگارکا گڑھ، خبیر پختونخواکے نوجوانوں کے لیے جنت بن چکا، امڈ امڈ پنجاب کارُخ۔خدا کے واسطے اپنے صوبے کی خبر لیں ۔
پرسوں خطاب میں یہ فرمایا کہ ’’جنرل اسد درانی کے بیانِ حلفی میںسیاستدانوں کا فوج سے پیسہ لینا ثابت ہوچکا، تادیبی کارروائی ضروری‘‘، بدقسمتی سے سچ یہاں نہیں ختم ہورہا ۔ چھاج کا بولناسمجھ میں آتا ہے، چھلنی کی چیخ وپکار سمجھ سے بالاتر۔کونسا سیاستدان میدان میں جو اس نعمت غیرمترقبہ سے محروم۔ جناب کی ذات بھی گوڈے گوڈے ملوث۔ 30اکتوبر کا جلسہ منعقد ہوئے ابھی چند ماہ ہی گزرے کہ آجکل کے صدر لاہور علیم خان نے ایک ملاقات میں شکایات کا دفتر کھول دیا۔ علیم خان کے برادر نسبتی فراز صاحب بھی موجود۔ علیم خان نے کمال بے چارگی سے بتایا کہ ’’30اکتوبر لاہور کے جلسے کے اخراجات کی ایک ایک پائی میں نے چکائی ‘‘۔ یاد رہے کہ علیم خان اس وقت صاف شفاف تحریک میں شامل نہیں ہوئے تھے البتہ خزانوں کا منہ کھول کر تحریک انصاف کی طرف دھکیل چکے تھے۔ قطع نظر کہ میں نے علیم خان کو باور کرایا کہ عمران خان آپ کی طرف سے جمع شد رقم کا اعتراف پبلک کے سامنے کبھی بھی نہ کر پائیں گے۔بات چل نکلی تو سرا پکڑنا ضروری، 30 اکتوبر سے عرصہ پہلے علیم خان ایک متنازع سوسائٹی کی شروعات میں موصوف کا دور پرے کا کوئی تعلق نہیںتھا،ان کے مخالف کہتے ہیں کہ ان کی کمائی کے ذرائع پر کئی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ’’بگ باس‘‘جب بھی سیاستدانوںمیں ترسیل رقوم کا ارادہ باندھتے ہیں تو ایسے کئی انواع اقسام کے فنکار ہمہ وقت میسر، بدقسمتی کہ ایسا پیسہ تحریک انصاف کو مشکوک افراد کے ذریعے ہمیشہ ملتا رہا۔اسی شوروغوغا میں جناب جہانگیر ترین خودستائی اور ترانیوں میں حدیں پھلانگ گئے ۔ اس سے پہلے بحیثیت جنرل سیکرٹری سیدنا جاوید ہاشمی کو شوکاز نوٹس جاری کر چکے ہیں۔ آفرین آفرین اے دلنشین، موصوف نے جب 21 مارچ 2013 کے پارٹی انتخابات میں جنرل سیکرٹری کے لئےکاغذات جمع کروائے تو چیف الیکشن کمشنر جناب حامد خان صاحب نے باضابطہ نااہل قرار دے دیا۔ بدلہ لینا نہ بھولے ، خزانوں اور دھاندلیوں کے منہ کھول دئیے کہ پارٹی کے بانی مبانی جنرل سیکرٹری 16 سال کی آخری نشانی جناب عارف علوی ہاتھ ملتے رہ گئے، منہ دیکھتے رہ گئے، عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔ ادلے کا بدلہ، آج خیبرپختونخواکے قومی وسائل جناب ترین کے قدموں میں، قدم بوسی پر مجبور۔ ایک عد د جہاز، ہیلی کاپٹر اور بلٹ پروف کار نے کام دکھانا تھا،چند ماہ پہلے چیئرمین صاحب نے بذریعہ شاہی حکم بحیثیت جنرل سیکرٹری نافذ کر دیا۔بھاشن سنیں ’’مجھے کون خرید سکتا ہے، میری کون قیمت لگا سکتا ‘‘۔ گھر کا بھیدی فرماتا ہے کہ’’ ایک وزارتِ عظمی کا وعدہ آپ سے سب کچھ کروا سکتا ہے‘‘ ۔ترین صاحب پر تفصیلی بحث اس لیے کہ لاہور کے جلسے میں فرما گئے کہ ’’معافی تلافی کہ کل تک اس نظام کا کل پرزہ تھا‘‘۔ نہیں حضور نہیں، ’’رزق حلال ‘‘ کی ایک ایک پائی کاحساب دینا ہوگا۔ یہ کیسے ممکن کہ لوٹ کھسوٹ کا بڑا حصہ قبضے میں اور ہلکے پھلکے فقروں سے جان چھڑوا لیں۔ کنٹینرز پر تصویر میںنظر آنے والے دائیں سے بائیں ترتیب کے ساتھ سات نابغوں کے لیے بھی یہی مژدہ۔وزارت عظمی کا بخار صرف چیئرمین صاحب کو نہیں، ان کا تو حق بنتا ہے۔ ہمارے اپنے شاہ محمود صاحب کا خواب بھی، کئی دفعہ چکنا چور ہونے کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ شاہ جی وزرات عظمیٰ کی آس لگائے آج کل بلیوں اچھلتا دل، پہروں بے قابو۔ طبیعت کے سادہ،جب بجلی کا بل جمع کروانے پر سوال ہوا تو کمال بے اعتنائی سے فرمادیا کہ ’’ایسے غیر سنجیدہ ، غیر سیاسی سوال کا جواب نہیں دوں گا‘‘۔یہ ہے دھرنا پروگرام کی سنجیدگی کا عالم۔ چیئرمین کی غیر سنجیدگی اور غیر سیاسی سول نافرمانی اور بجلی کے بل جلانے کی حرکت کو آڑے ہاتھوں لینے میں عار نہیں۔یا اللہ! یہ منافقت ہے ، دونمبری ہے، جہالت ہے، نجات کیسے ممکن ؟
’’داغی‘‘ لفظ پر سیخ پا برادرم حامد میر سے شکوہ ۔ حضور داغی یا باغی پارٹی بدلنے سے نہیں بنتا۔ ایسوں کے لیے ’’لوٹا‘‘ مختص ۔ داغی اور باغی دونوں کے لیے متضاد جدوجہد اور ایک لمبی تاریخ موجود ہے۔ جاوید ہاشمی نے یہ اعزاز جمہوریت کی جدوجہد میں 23 سالہ قید،بہیمانہ سلوک،55 سال کی عمر میں چمڑی ادھڑوانے پر اپنے نام کیا۔جناب کے دفتر میں ایسا کوئی عمل موجود ہے تو پیش کردیںجبکہ ’’ داغی ‘‘لقب انیسویں صد ی میں اس وقت کے شاہ محمود قریشی نے مسلمانوں کے خلاف خدمت فرنگی میں اپنے نام کرایا۔ کل چیئرمین صاحب میانوالی قدم رنجہ فرمانے کو، جس جگہ جلسہ کا قصد کیا، وہ جگہ ٹوٹل ایک ایکڑ، بمشکل دس بارہ ہزار نفوس کی گنجائش ۔24 مار چ2012 کو انعام اللہ خان نے میانوالی سٹیڈیم ،جو گھڑدوڑ کے لیے مختص جگہ میں جلسہ کرکے ایک تاریخ رقم کی تھی۔ ایک اور خوشی کہ جلسہ دن کا، رات کی کیمرہ فریبی کے برخلاف نظرفریبی محدود۔ نوجوان وطن سے ایک التجا۔ آپ کا کرب اور تڑپ وطن عزیز کی قوت۔ بدمست ہونے کی نہیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بدمست رہیں گے تو قائدین کے عیوب پنہاں رہیں گے۔ قائدین کی ٹوٹل حقیقت
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانہ میں