• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1933 سے میئر کراچی کی اوسط مدت ساڑھے تین سال ہے

لاہور (صابر شاہ) وسیم اختر نے منگل کو کراچی کے میئر کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔ نومبر 1933 کے بعد سے یعنی 83 سال میں کراچی کے دو درجن میئر اور ناظم رہے ہیں اور اس عہدے پر رہنے والوں کی اوسط مدت 3.46 سال رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق جنوری 1885 میں میونسپل کمیٹی ہوتی تھی جس کا کام روز مرہ کے امور کو سنبھالنا، ریاستی آمدنی جمع کرنا اور نجی املاک کے مالکان پر ہاؤس ٹیکس عائد کرنا تھا۔ 1910 میں ممتاز برطانوی عہدیدار سر چارلس میولس سال 1910-1911 کے لئے کراچی میونسپل کمیٹی کے پہلے صدر منتخب ہوئے. ان کے بعد غلام علی چھاگلہ صدر بنے، جن کے بیٹے احمد غلام علی چھاگلہ نے 1950 میں پاکستان کے قومی ترانہ کے دھن ترتیب دی ۔ بعد ازاں، ایک پارسی کاروباری شخصیت، جمشید نسروانجی مہتا نے 20 سال تک میونسپلٹی کے منتخب صدر کے طور پر کام کیا تھا. کراچی سٹی میونسپل ایکٹ 1933 میں نافذ کیا گیا. ابتدائی طور پر، میونسپل کارپوریشن کا انتظام ایک میئر اور ڈپٹی میئر نے چلایا جس میں انہیں 57 کونسلروں کی مدد حاصل تھی۔ میئر اور ڈپٹی میئر نے بالترتیب میونسپلٹی کے صدر اور نائب صدر کی جگہ لے لی. کراچی کے میئرز اور ضلع ناظمین کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ کراچی کے پہلے منتخب میئر جمشید نسروانجی مہتا (1886-1952) تھے۔ سندھ میں اسکاؤٹنگ کے بانی تھے۔ وہ نومبر 1933 سے اگست 1934 تک کراچی کے میئر رہے. انہوں نے روزانہ سڑکوں کی دھلائی کا حکم دیا اور منگھوپیر کے قریب جذام ہسپتال کی بنیاد رکھی۔ ان کے بعد ٹیکم داش ودھومل 30 اگست  1934 سے 3 مئی 1935 تک میئر رہے۔ پھر قاضی خدا بخش (3 مئی، 1935 سے 9 مئی 1936) شہر کے پہلے مسلمان میئر بنے جو کراچی چلڈرن سوسائٹی کے سرپرست اور سندھ مسلم کالج کے قیام میں کردار ادا کرنے والی اہم شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کے بعد خان بہادر اردشیر ماما (9 مئی  1936 تا 4 مئی  1937)، ممتاز ہندو کاروباری درگا داس اڈوانی (4 مئی  1937 تا 6 مئی  1938)، مقبول عوامی شخصیت اور  کراچی میں مسلم لیگ کے اہم رکن حاتم علوی (6 مئی 1938 تا 5 مئی 1939) معروف ناول نگار بپسی سدھوا کے والد نسبتی آر کے سدھوا (5 مئی  1939 تا 7 مئی 1940)، ماہر تعلیم اور مہاتما گاندھی کی تاریخی " تحریک عدم تعاون" کے اہم کردار لالجی میہروترا (7 مئی 1940 تا 6 مئی 1941)،  سندھ حلقہ سے بمبئی قانون ساز کونسل کے رکن اور سندھ اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر محمد ہاشم گزدر (6 مئی  1941 تا 8 مئی، 1942)  ، پارسی مؤرخ اور مصنف، سہراب کے ایچ کٹرک (8 مئی 1942 تا11 مئی 1943)، شمبوناتھ ملراج  (11 مئی 1942 سے 10 مئی 1943)  کراچی کے کاروباری شخصیت، سیاستدان اور سماجی کارکن، یوسف عبداللہ ہارون (10 مئی 1943 تا 8 مئی 1944)،  کراچی کے واحد کیتھولک میئر مینوئل مسکوائیٹا (8 مئی  1945 تا یکم مئی 1946)، وش رام داس (9 مئی 1946 تا 9 مئی، 1947)، حکیم محمود احسن (9 مئی 1947 تا25 مئی  1948)، خوجہ اسماعیلی خاندان سے تعلق رکھنے والے شاعر اور قائد اعظم محمد علی جناح کے سوانح نگار غلام علی الانا  (25 مئی  1948 تا 8 جولائی  1948)  ، سیاستدان نبیل گبول کے دادا خان بہادر اللہ بخش گبول (اپریل 1951 تا 10 جنوری، 1953) ، حبیب اللہ گروپ کے بانی خان بہادر حافظ حبیب اللہ پراچہ (1953-1954)،  سابق گورنر سندھ محمود اے ہارون (19 جنوری 1954 تا 26 مئی 1955)، ملک باغ علی (26 مئی 1955 تا 29 مئی 1956)، صدیق وہاب (30 مئی، 1956 تا 14 دسمبر، 1956)، ایس ایم توفیق (14 جون، 1958 تا 14 اکتوبر، 1958)،  اللہ بخش گبول (مئی 1961 تا اکتوبر 1962)،  سابق ایم این اے اور کالعدم بلدیہ عظمی کراچی کو موٹر وہیکل ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس جمع کرنے کا حق دلوانے والے عبدالستار افغانی (9 نومبر 1979 تا 12 فروری 1987 دو مدت کیلئے میئر بنے)، ڈاکٹر فاروق ستار (9 جنوری 1988 تا 27 جولائی 1992)، کیپٹن فہیم الزمان خان (10 اگست، 1998، تا 29 جولائی، 2000)، نعمت اللہ خان (14 اگست، 2001 تا مئی 2005) اور سید مصطفی کمال (17 اکتوبر، 2005 تا فروری 2010 تک کراچی کے میئر رہے۔ 75 سال پہلے کراچی کی آبادی 180199 ہندوؤں ، 162447 مسلمانوں؛ 17466 عیسائیوں؛ نچلی ذات کے 12632 ارکان، 5835 سکھ، 3214 جین مت کے پیروکار، 3700 پارسی، 1051 یہودی، 75 بودھ اور 36 دیگر پر مشتمل تھی۔ تاہم، کراچی شہری حکومت کے مطابق کراچی کی آبادی 1941 میں 435887 نفوش پر مشتمل تھی۔ کراچی سٹی حکومت اور حکومت پاکستان کی مردم شماری رپورٹس کے مطابق، شہر کی آبادی   1856 میں 56875،  1856 میں 56875، 1881 میں 73560، 1901 میں 136297، 1921 میں 244162، 1931 میں 300799، 1941 میں 435887، 1951 میں 1137667، 1961 میں 2044044، 1972 میں 3606746، 1981 میں 5437984 اور 1998 میں 9802134  یعنی 9.8 ملین سے زیادہ تھی۔ اکتوبر 2015 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ کراچی سال 2030 تک دنیا کا ساتواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہوگا جس کی آبادی 2 کروڑ 48 لاکھ 4 ہزار ہوگی۔ شہر کی موجودہ آبادی ایک کروڑ 66 لاکھ 2 ہزار ہے جس کی وجہ سے آج یہ سب سے زیادہ آبادی والا دنیا کا بارہواں بڑا شہر ہے۔
تازہ ترین