سینیٹر چوہدری جعفر اقبال میرے بھائیوں جیسے دوست ہیں۔ دوستوں کے ساتھ خوشی اور دکھ کی سانجھ ہوتی ہے۔ جعفر اقبال کے صاحب زادے محمد عمر پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔ ہمیں اس ایم پی اے صاحب کی شادی میں دو تین دن مصروف رہنا پڑا۔ سیاست دانوں کی شادی اگر سیاست دانوں کے ہاں ہو تو ماحول اور بھی دوبالا ہو جاتا ہے، ہر طرف سیاست زیر بحث ہوتی ہے۔ دولہے کا ذکرہو چکا، دلہن راولپنڈی کے چوہدری تنویر کی صاحب زادی تھیں سو اس شادی پر بہت سے سیاست دانوں، کاروباری شخصیات سمیت عسکری لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ سب اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خوشی کے اس مرحلے پر اکٹھے تھے۔ یہاں میری ملاقات ایک معروف سرمایہ کارگروپ کے چیئرمین سردار تنویر الیاس سے بھی ہوئی۔ یہ دنیا کا ایک بڑا سرمایہ کار گروپ ہے جس نے پاکستان میں کئی جگہوں پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ سردار تنویر الیاس نے میرے ایک پرانے کالم کا حوالہ دیا اور کہنے لگے کہ ’’آپ نے راولاکوٹ پر کالم لکھا، وہاں کے نامی گرامی لوگوں کا تذکرہ کیا، میرا ذکر کیوں نہیں کیا؟‘‘ ان کا گلہ جائز تھا۔ دراصل جب میں راولاکوٹ کے بارے میں کالم لکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں وہاں کے سیاست دان، شاعر، ادیب اور عسکری لوگ آئے یا پھر وزارت خارجہ کے دو مشہور لوگ۔ میرا دھیان اس طرف بالکل نہیں گیا تھا کہ دنیا کی اہم سرمایہ کار کمپنی کے چیئرمین سردار تنویر الیاس کا تعلق بھی راولاکوٹ سے ہے۔‘‘
محمد عمر کے ولیمے کے روز طاہرالقادری نے دھرنا ختم کیا مگر ساتھ یہ کہہ دیا کہ اب دھرنے کو پورے ملک میں پھیلا رہا ہوں۔ ہمیں یہ خبر تقریب کے دوران ملی جب میں محمد عمر کے ماموں ذکاء اشرف کے ساتھ کھڑا تھا۔ اب آتے ہیں موسم کی تبدیلی کی طرف … موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد سے دھرنا ختم کر دیا حالانکہ انہوں نے انقلاب مارچ کے آغاز کے وقت لاہور میں بڑے دعوے کئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد سے جو بھی واپس لوٹ آئے اسے شہید کر دینا۔ اب جب وہ اپنے مقاصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو رہے تھے تو انہوں نے شہادت سے بچنے کا طریقہ یہی ڈھونڈا کہ یہی کہا جائے کہ اب پورے ملک میں دھرنا ہو گا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے علم پر کوئی شک نہیں مگر آپ کو یاد ہو گا کہ انہوں نے اس دوران کئی مرتبہ پینترے تبدیل کئے۔ پہلے انہوں نے انتخابی سیاست کے خلاف محاذ گرم کیا پھر انتخابی سیاست کو تسلیم کیا اور کہا کہ ہم بہ طور پارٹی الیکشن میں حصہ لیں گے۔ اسی طرح کئی باتیں ہیں شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ قادری صاحب عید سے دس روز پہلے دھرنا ختم کرنے والے تھے پھر کہیں یہ طے ہوا کہ عید سے چار روز پہلے دھرنے کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس سارے کھیل پر صاحب زادہ حامد رضا نے پانی پھیر دیا۔ انہوں نے چوہدری برادران کے ذریعے پریشر بڑھایا کہ ابھی دھرنا ختم نہیں کرنا۔ قادری صاحب وقتی طورپر تو ٹل گئے مگر وہ اس طے شدہ بات سے ادھر ادھر نہ ہو سکے جو رحیق عباسی، خرم نواز گنڈاپور اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی ملاقات میں طے ہوئی تھی۔ اس ملاقات کی پوری داستان باخبر لوگوں کو مل چکی ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں پوری گفتگو بھی شامل ہو۔ کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ ہو سکتا ہے قادری صاحب نے حصول مقاصد کی نیت سے حکمت عملی بدلی ہو مگر اب اس تبدیل شدہ حکمت عملی میں چوہدری برادران، صاحب زادہ حامد رضا اور مجلس وحدت المسلمین شامل نہیں ہوں گے۔ ڈاکٹر قادری محرم سے قبل ایک دھرنا کا ایبٹ آباد میں دیں گے۔ اس دھرنے میں آپ کو صاحب زادہ حامد رضا نظر نہیں آئیں گے۔ قادری صاحب کا مؤقف یہ ہے کہ اسلام آباد کے دھرنے سے پیغام مکمل ہو چکا ہے، اب اس پیغام کو شہر شہر اور نگر نگر پہنچانا ہے اس لئے اب مختلف شہروں میں دھرنے ہوں گے۔
جو لوگ ڈاکٹر طاہر القادری کے اعلان کے بعد بہت خوش ہیں انہیں یہ بات مدنظر ضرور رکھنی چاہئے کہ ابھی عمران خان اسلام آباد ہی میں ہیں اور وہ اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔ وہ تو اپنی بات پر وہاں بھی اڑے رہے تھے جہاں بڑے بڑوں کی اڑی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی، نہیں تو اتنا ہی کافی ہے کہ جہاں طاہر القادری نے تین گھنٹے اور بیس منٹ کا لیکچر دیا تھا اس لیکچر میں اصلاحات کا تذکرہ بھی تھا، نظام کی بہتری کی ایک تصویر بھی تھی۔ قادری صاحب اسلام آباد سے چلے گئے مگر تصویر زندہ ہے۔ اس کی زندگی کی ایک جھلک جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے تازہ ترین فرمان میں نظر آ رہی ہے کہ انتخابات سے پہلے اصلاحات ہونی چاہئیں۔
پیپلز پارٹی ایک جلسہ کر کے بیٹھ گئی ہے، تحریک انصاف کے جلسوں کا سفر جاری ہے۔ مسلم لیگ (ق) جنوبی پنجاب سے آغاز کر رہی ہے، جماعت اسلامی کے امیر سرگرم دورے کر رہے ہیں، طاہرالقادری کے بہ قول دھرنے شہر شہر ہوں گے۔ ماحول گرم ہے، رہی سہی کسر پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم نے پوری کر دی ہے۔ الطاف حسین نے واضح کر دیا ہے کہ اب ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی کے راستے جدا ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ ایم کیوایم کس وقت حکومتوں سے الگ ہوتی ہے۔ جس طرح پرندوں کو زلزلے سے پہلے پتہ چل جاتا ہے اسی طرح ایم کیو ایم کو سیاست میں زلزلہ آنے سے پہلے خبر ہو جاتی ہے۔ موسم تبدیل ہو رہا ہے مگر پیارے پڑھنے والے یاد رکھنا کہ صرف قادری کو نہیں سب کو اسلام آباد سے جانا ہو گا۔ عمران خان کو بھی اور جن کے جانے کی بات عمران خان کرتے ہیں انہیں بھی جانا ہو گا۔ اصلاحات ہوں گی پھر کہیں انتخابات ہوں گے۔ سیاست دانوں نے خود اپنا کام خراب کیا ہے، سیاست دان اپنے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کر لیتے تو اچھا تھا، وہ تصویری نمائشوں میں رہے۔ انہوں نے سنجیدگی سے کچھ نہ کیا۔اس دوران مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) میں بھی کئی گروپ بن گئے۔ کہیں یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ ایک حقیقی مسلم لیگ ہونی چاہئے۔ ستر مسلم لیگیوں کے بعد اب پتہ نہیں حقیقی مسلم لیگ میں سے کیا برآمد ہوتا ہے؟ بات چل رہی ہے اور مسلم لیگ کا مزاج یہ ہے کہ یہاں بات چلتی نہیں، چلائی جاتی ہے، چلانے والے نظر نہیں آتے، بس ان کی باتوں پر عمل ہوتا ہوا نظر آتا ہے، موسم بدل رہا ہے پیارے! چلو ایسے موسم میں ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کی شاعری سے دل بہلاتے ہیں کہ:
مال و دولت سے ہمیں کوئی سروکار نہیں
ہم تو درویش محبت ہیں، خریدار نہیں
ہم نے تو ہر کیف میں کھو کر تمہیں محسوس کیا
پھر یہ الزام کہ ہم تیرے پرستار نہیں
ہم نے ہر دور میں چھڑکا ہے صلیبوں پہ لہو
کون کہتا ہے کہ ہم صاحب کردار نہیں