آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے قیام سے 23سال پہلے کی بات ہے، برعظیم ابھی تقسیم نہیں ہوا تھا ہندوستان کے ضلع ناگپور میں ہندو مسلم فسادات زوروں پر تھے مسلم لیگی زعما اور کانگریسی رہنما بھی کوشش کرچکے تھے یہ 1924کی بات ہے گاندھی جی نے ڈاکٹر سید محمود سے کہا کہ وہ ناگپور جائیں اور ہندو مسلم جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کریں ڈاکٹر سید محمود نئے نئے جرمنی سے پی ایچ ڈی کرکے آئے تھے پٹنہ میں وکالت کرتے تھے بہار کے رہنے والے تھے، تحریک خلافت کے دنوں میں سیاست کے میدان میں اترے کانگریس کے ممتاز رہنما ہوگئے ہندوستان کی تقسیم کے بعد بھارت کی صوبائی اور مرکزی حکومتوں میں کئی بار وزیر رہے مصر میں بھارت کے سفیر بھی رہ چکے بڑے حوصلے والے دور اندیش تھے بلا کے دلیر بھی مگر ناگپور ہندو مسلم فسادات ختم کرانے جانے کیلئے تیار نہ ہورہے تھے انہیں دراصل مولانا شوکت علی کی کاوشوں کا علم تھا جو اس سلسلے میں ناکام ہوچکی تھیں وہ ابھی لیت و لعل سے کام لے ہی رہے تھے کہ زبدۃ الحکماء حکیم اجمل نے ایک علاج دریافت کرتے ہوئے ڈاکٹر سید محمود سے کہا کہ سارے نسخے آزمائے جاچکے ہیں اب روحانی علاج کو دیکھئے بفضل تعالیٰ افاقہ ہوگا حکیم اجمل نے کہا کہ ’’ڈاکٹر صاحب ناگپور جائیں اور وہاں ایک اللہ کے ولی ہیں جنہیں لوگ مجذوب سمجھتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے وہ دراصل جذب سے

گزر کر استغراق کی منزل کو پہنچے ہوئے ہیں وہ علاقے میں بابا تاج الدین ناگپوری کے نام سے شہرت رکھتے ہیں ان سے ہندو مسلم فسادات کے خاتمے کی دعا کرائیں آپ کامیاب لوٹیں گے۔‘‘
ڈاکٹر سید محمود نے لکھا کہ ’’میں ناگپور پہنچا تو پتہ چلا کہ بابا تاج الدین راجہ بھونسلہ کے قلعہ میں مقیم ہیں راجہ ان کا عقیدت مند ہے بابا جی شام کو گاڑی پر قلعے سے نکلتے ہیں عقیدت مند گاڑی کے ساتھ دو تین میل تک دوڑتے رہتے ہیں بابا جی کچھ بولتے جاتے ہیں اور ہر کوئی اپنے مطلب کے معنی اخذ کرتا جاتا ہے،شام ہوئی بابا جی حسب عادت نکلے تو ہزاروں لوگوں نے قلعے کے باہر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے وہ گاڑی کے ساتھ دوڑے تو میں اپنی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ان کے پیچھے ہولیا دور بہت دور جاکر جب ہجوم کم ہوا تو میں اپنی گاڑی سے نکلا اور بابا تاج الدین کی گاڑی کے ساتھ دوسرے عقیدت مندوں کی طرح دوڑنا شروع کردیا۔ بابا تاج الدین نے کہا کیا چاہتا ہے؟ مکہ مدینہ جانا ہے!! میں نے دوڑتے ہوئے کہا انگریزوں کی غلامی اب برداشت نہیں ہوتی وہ مسلسل ہندوئوں اور مسلمانوں کو لڑاتے رہتے ہیں کیا یہ یہاں سے نکل جائیں گے بابا جی نے کہا ہاں چلے جائیں گے!! میں نے عرض کی آپ کی موجودگی میں بابا جی ناگپورمیں ہندو مسلم جھگڑا ہو یہ تعجب کی بات نہیں ہندو بھی آپ سے اتنی ہی عقیدت رکھتے ہیں جتنی مسلمان رکھتے ہیں دعا فرمائیں ناگپور میں امن ہو بابا جی نے کہا ہاں ہاں امن ہوگا بند کرا دیتے ہیں جھگڑے قریب سے کچھ مسلمان قائدین گزر رہے تھے میں نے انہیں مخاطب کرکے کہا دیکھو بابا حکم دے رہے ہیں ہندو مسلم جھگڑا ختم کرو وہ لوگ بابا کے قریب آئے احکامات لئے اور اگلے ہی روز ناگپور میں امن ہوگیا حتیٰ کہ قیام پاکستان کے بعد تک کبھی ناگپور میں ہندو مسلم فسادات نہیں ہوئے۔‘‘
بابا تاج الدین ناگ پوری کی کرامتوں کے حوالے سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں ولی کے واسطے کرامت اتنی ہی ضروری ہے جتنا نبی کے واسطے معجزہ، اور پھر جو عرش پر مقبول ہوجائے فرش والے اسے سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں، بابا تاج الدین ناگپوری اس وقت بہت بڑے مجمع میں تشریف فرما تھے جب ان کا وصال ہوا اس روز ناگپور میں بے تحاشہ بادل برسے وہ پیر کا روز تھا مغرب کا وقت اگست کی 17سن 1925ء تھا 26 محرم الحرام 1344ھ پورا شہر غم میں ڈوب گیا تھا رنگ و نسل اور مذہب و مسلک کی عامیانہ سوچ سے بلند ہوکر سارے کے سارے ایک سالک کو ولی کو رخصت کرنے آگئے تھے ہندو بھی تھے مسلمان بھی عاشقان رسولﷺ بھی تھے اور اللہ کو نہ ماننے والے لادین بھی اندوہ کی کیفیات میں برابر کے شریک تھے وہ ایک ولی کی موت نہیں وصال تھا جدائی نہیں ملاپ تھا اگلے روز ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کے ساتھ ساتھ فوج کو بھی طلب کرنا پڑا تھا جنازہ شہر سے باہر بیربٹ لے جایا گیا جو آج تاج آباد شریف کے نام سے بھارت میں معروف ہے جنازے کی نماز اس وقت کے ایک جید عالم مولوی محمود علی ندوی لکھنوی نے پڑھائی تھی۔بابا تاج الدین سے عقیدت رکھنے والے اپنے نام کے ساتھ تاجی لکھتے ہیں تاجی سلسلے میں وراثت یا سجادہ نشینی نہیں ہے جو کوئی مرید عمل علم اور مرتبے میںیکتا ہو وہ اس سلسلے کو آگے لے کر چلتا ہے تصوف کے چشتیہ سلسلے سے جڑے ہوئے ہیں بیعت کرتے وقت نماز پنجگانہ میں باقاعدگی کے علاوہ کثرت سے درود شریف پڑھنے کی ہدایت کی جاتی ہے،بابا تاج الدین ناگپوری کے وصال کے بعد ان کے بڑے خلیفہ عبدالکریم جنہیں بابا تاج ناگپوری یوسف شاہ کہا کرتے تھے بابا جی نے یوسف شاہ تاجی کو اپنے سلسلے کی اشاعت پر خاص طور پر مامور کیا تھا۔قیام پاکستان کے بعد یوسف شاہ تاجی مسلمانوں کی اس مملکت میں آکر بسنا چاہتے تھے جس کی پیشنگوئی حضرت بابا تاج الدین ناگپوری نے 1924ء میں کی تھی، پاکستان کی پاک اور پوتر مٹی بابا یوسف شاہ تاجی کیلئے آسودگی کا باعث بنی اور 1948ء میں پاکستان ہجرت کے تیسرے دن وہ وصال فرما گئے ان کی کراچی کے قبرستان میں میوہ شاہ میں تدفین ہوئی،ذہین شاہ تاجی صاحب کا مدفن بھی کراچی میں میوہ شاہ کا قبرستان ہی ہوا آپ بابا عبدالکریم یوسف شاہ تاجی کے خلیفہ تھے، بابا ذہین شاہ تاجی پاک و ہند کے بڑے لکھاریوں، شاعروں اور ادیبوں اور صوفیوں میں سے تھے وہ ایک روشن خیال بزرگ صاحب ادراک ولی اور عربی فارسی کے باکمال استاد اور محقق تھے، جوش ملیح آبادی بڑی باقاعدگی سے آپ کے پاس روزانہ حاضری دیا کرتے تھے، جوش صاحب نے بابا ذہین شاہ تاجی کے علمی، قلمی اور روحانی کام پر دو سو صفحات کا دیباچہ لکھا تھا جو الگ سے کتابی شکل میں شائع ہوا، پاکستان کے نامور محقق اور نقاد پروفیسر حسن عسکری اور سلیم احمد کا شمار بابا ذہین شاہ تاجی کے شاگردوں میں ہوتا ہے ۔
بابا تاج الدین ناگپوری کو خراج تحسین پیش کرنے اور تاجی سلسلے کی ترویج و اشاعت کیلئے بابا ذہین شاہ تاجی نے کراچی سے ایک ماہنامہ ’’تاج‘‘ 1956ء سے جاری کیا تھا جو آج تک بڑی باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔ بابا ذہین شاہ تاجی نے اردو سے محبت کرنے والوں کیلئے کئی ایک عربی اور فارسی کی نایاب کتابوں کا ترجمہ اور تشریح کی ہے۔ جن میں ابن عربی کی فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم شامل ہیں، تاج الاولیاء آپ کا لاجواب اور تاریخی تذکرہ ہے، علامہ اقبال اکیڈمی لاہور سے ’’منصور حلاج‘‘ کا نایاب نسخہ مستعار لے کر اردو میں کتاب الطواسین کے نام سے ترجمہ کیا، آیات جمال ’’آپ کے اردو کلام کا ایک ضخیم مجموعہ ہے، جو بڑے سائز میں ہے بابا ذہین شاہ تاجی کی علمی قلمی اور روحانی نگارشات کی ایک طویل فہرست ہے بابا ذہین شاہ تاجی نے اپنے بعد اپنے ایک عقیدت مند اور دوست جناب بابا انور شاہ صاحب کو اپنا مشن سونپا جو کراچی میں کاروباری دنیا میں Cotton King کہلاتے تھے کپاس کے بہت بڑے تاج تھے مگر 1962ء سے ذہین شاہ تاجی سے ملاقات کے بعد اپنے والد حسن علی پیر بھائی کے کاروبار سے علیحدہ ہوکر ذہین شاہ تاجی کی ارادت مندی میں چلے گئے پھر جب جولائی 1978ء میں بابا ذہین شاہ تاجی کا وصال ہوا تو بابا انور شاہ صاحب تاجی ان کے نقیب ہوئے جن کا وصال 1994ء میں ہوا میوہ شاہ کے اس قبرستان میں بالترتیب یوسف شاہ تاجی، بابا ذہین شاہ تاجی اور بابا انور شاہ تاجی کے مزار مرجع و خلائق ہیں ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں، پاکستان میں تاجی سلسلے کے چوتھے خلیفہ حضرت بابا محمد عاطف شاہ تاجی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں