آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہم جو کہیں گے، تم نے اس کو سچ ماننا ہو گا۔ ہماری ہر بات کو تم نے صحیح تسلیم کرنا ہو گا۔ ہماری بات کے کسی حصّے پر شک کا شائبہ بھی تمہیں ذہن میں نہیں لانا ہو گا۔ اگر تم ہماری کہی ہوئی، اعلان کی گئی بات پر فوری قبولیت کا اظہار کرو گے تو تم ہمارے لئے اہم ہو اور تمہیں یہی کرنا چاہئے کہ اب وقت کی حقیقت یہی ہے۔ یہی سب سے بڑی سچّائی ہے کہ تم ہماری کہی ہوئی ہر بات کو من وعن اور فوری طور پر سچ تسلیم کر لیتے ہو۔ اب دنیا نئی ہو رہی ہے اور نئی دنیا کے خطوط ہماری کہی ہوئی باتوں سے طے پاتے ہیں اور طے پاتے رہیں گے۔ہم نے پچھلی صدی کے آخر میں کہا تھا کہ انسان چاند پر پہنچ گیا ہے۔تو وہ لوگ بہت اچھے تھے جنہوں نے فوری طور پر تسلیم کر لیا کہ انسان نے چاند کو تسخیر کرلیا ہے۔ نیل آرمسٹرانگ کے ننھے سے قدم کو انسانیت کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔ ہمیں دنیا والوں کا یہ انداز بہت پسند آیا کہ انہوں نے صرف ہمارے کہنے پر یقین کر لیا کہ ہم چاند پر پہنچ گئے۔ ٹیلی ویژن پر چلائی گئی فلموں کے سوا کسی نے بھی انسان کو چاند پر اترتے نہیں دیکھا لیکن ہماری کہی ہوئی بات کو بڑھانے والوں نے اس انداز سے سراہا کہ ساری دنیا کے اذہان میں یہ بات بیٹھتی گئی کہ انسان نے چاند کو فتح کرلیا ہے۔ جن لوگوں نے اس سلسلے میں قصّے تخلیق کئے، واقعات گھڑے یا نظمیں تحریر

کیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری کہی ہوئی باتوں کو فوری تسلیم کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے لئے تاویلیں دیتے رہے اور بتاتے رہے کہ چاند کا قصّہ ایک گھڑی ہوئی کہانی ہے۔ چاند پر جانے کی بات 40؍سال سے اوپر کی کہانی ہے۔ اس کے بعد اب ہم نے پھر لوگوں کو آزمانے کے لئے مریخ پر جانے کی بات کہی ہے۔ وہ لوگ اچھے نہیں جو پوچھتے ہیں کہ چاند پر گئے پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ ہم تو اور لوگوں سے بھی کہتے ہیں کہ یہ چاند یہ ستارے، یہ سارے ہیں تمہارے، جائو تم بھی جائو۔ ہم نے بھارت سے کہا کہ چڑھ جابیٹا مریخ پہ، رام بھلی کرے گا۔ چنانچہ بھارت نے مریخ پر جانے کی بات شروع کردی۔ اگر کبھی ہم کہیں کہ ہم سورج پرجا رہے ہیں تو ذہن میں ذرّہ بھر شک نہ لانا اور کسی کی بات نہ ماننا، بس ہماری ماننا کہ جو ہم کہتے ہیں وہی صحیح ہے اور یہی نئی دنیا کی بات ہے۔
نئی صدی آئی تو ہم نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارات سے جہاز ٹکرانے اور ان ٹاورز کو تباہ کر کے گرانے کی بات کی اور ہم نے یہ بھی کہا کہ اس عمارت کو القاعدہ نام کی ایک تنظیم نے گرایا ہے۔ ہماری اس بات کو دنیا کے لوگوں نے فوری طور پر سچ تسلیم کرلیا۔ یہ لوگ ہماری اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ چند لڑکوں نے جہاز اغواء کیا اور پھر اس کو 110 ؍منزلہ عمارات سے ٹکرادیا اور اس کے نتیجے میں یہ عمارات بیٹھ گئیں۔ اس کے بعد ہماری اس بات کو ساری دنیا نے تسلیم کرلیا کہ یہ ساری منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی چنانچہ اس کا بدلہ افغانستان سے لیا جائے۔ ہماری بات اقوام متحدہ نے بھی مان لی، ہماری بات دنیا کے ہر پیارے انسان نے مان لی۔ یہی صحیح بات تھی اور یہی ہم چاہتے تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری کسی بات پر کوئی سوال نہ کیا جائے، کوئی سوچ بچار نہ کی جائے، بس جو ہم کہیں اس کی تائید میں خبریں تخلیق کی جائیں، مضامین لکھے جائیں اور عام گفتگو میں اسے سراہا جائے اور اس کو یقین کا درجہ دیا جائے اور جو لوگ ہماری بات کو سچ نہ مانیں ان کو برا سمجھا جائے، کم علم، کم عقل گردانا جائے اور ان کا مذاق اڑایا جائے۔
ہم نے کہا کہ ہم نے اسامہ بن لادن کا پتہ لگا لیا کہ اس نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو گرانے کی منصوبہ بندی کی تھی پھر ہم نے اس کے خفیہ ٹھکانے پر رات میں حملہ کیا۔ اس کو مقابلے میں ہلاک کر دیا اور پھر اس کی لاش کو رات کی تاریکی میں سمندر میں ڈبودیا۔ جو لوگ صحیح الفکر تھے انہوں نے فوری طور پر ہماری بات کو صحیح تسلیم کیا، خوب خبریں دیں، مضمون لکھے، فیچر لکھے، انہوں نے اسامہ بن لادن کے ہلاک ہونے کے شواہد بھی طلب نہ کئے۔ جو لوگ غلط سوچ کے حامل ہیں وہ اس طرح کے سوال اٹھاتے رہے کہ قذافی اور صدام حسین کی لاشوں کی نمائش کرتے ہوئے کون سی پالیسی اپنائی گئی تھی۔ ہم ایسی منفی سوچ رکھنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور پسند کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کو جو ہماری ہر بات کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کے تائیدی قصیدے لکھتے رہیں۔
ہم نے کہا پاکستان کے علاقے سوات میں ایک لڑکی نے پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی تحریک چلائی۔ وہ بے چاری اپنی تحریک مغربی میڈیا اور انٹرنیٹ پر چلا رہی تھی لیکن اس پر قاتلانہ حملہ کر دیا گیا تاہم اس نے تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پھر اس لڑکی کی جدوجہد کو ہم نے سراہا، اس پر انعامات کی بارش کر دی۔ ہم نے کہا کہ یہ ہے وہ لڑکی جو پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی ہر رکاوٹ کو توڑنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ہماری بات مانی وہی صحیح لوگ ہیں۔ اس لڑکی کی جدوجہد کے حامی صحیح لوگ ہیں۔ یہ لوگ ہماری بات مان رہے ہیں اور جو لوگ ان سے کہتے ہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کے ہزاروں اسکول ہیں، کالج ہیں، یونیوسٹیوں میں لڑکیاں ٹاپ کرتی ہیں، میڈیکل کالجوں میں لڑکیوں کی بڑی تعداد پڑھتی ہے بلکہ سوات میں بے شمار اسکول اور گرلز کالج کئی سال سے قائم ہیں، ان لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور یہ ہیں ہی اس قابل کیونکہ یہ ہماری کہی ہوئی بات کو سچ نہیں مانتے۔ امن کے نوبل انعام کی حق دار بنانے کیلئے ہم نے جو کچھ کہا دنیا کو اسے سچ تسلیم کرنا ہے۔ اس سے پہلے ہم نے کہا تھا کہ افغانستان، عراق اور مسلم دنیا پر حملے کروا کر اوباما نے جو امن کی خدمت کی ہے اس پر اسے امن کا نوبل انعام ملنا ہی چاہئے تھا۔ ہماری اس بات کو بھی سب نے تسلیم کیا اور اب جو ہم کہتے ہیں کہ اس لڑکی ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے جو جدوجہد کی ہے وہ قابل تعریف ہے تو اس بات کو سب کو ماننا ہو گا۔ اس پر نظمیں لکھیں، مضمون لکھیں، خبریں تخلیق کریں اور اگر کوئی کہے کہ ڈرون حملوں میں جو بے شمار بچیاں ماری گئیں اور مدرسوں میں جو بچیاں جلا دی گئیں ان پر کس سے بات کی جائے تو ایسے شخص کی بات پر ذرا توجّہ نہ دی جائے۔ بس جو ہم کہیں اسے مانو، اس کو ہی صحیح جانو اور سچ تسلیم کرو۔ یہی فرمان امروز ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں