آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جغرافیے کے ظلم نے پاکستان پر بہت بھاری بوجھ لاد دئیے ہیں۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی سیکورٹی سوچ اور تخمینوں پراثر پڑا ہے بلکہ ملک کے لئے مستقل سیکورٹی مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ پاکستان کی مشکلات سے پُرتاریخ اورمشرقی ومغربی دونوں محاذوں پر ملنے والے متنازع سرحدوں کے نوآبادیاتی ورثے کا مطلب ہے کہ پاکستان کئی سال سے بیک وقت دومحاذوں پر الجھنے سے بچنے کی کوشش کرتارہا ہے۔ یعنی مشرقی سرحدوں پر بھارت سے اور مغربی سرحد پر افغانستان سے۔اسوقت جب پاکستانی فوج مغربی محاذ پر مصروف ہے اوراپنی سرحدوں کے اندرعسکریت پسندی سے نبرد آزما ہے،ایسے میں لائن آف کنٹرول پر تازہ کشیدگیوں اورورکنگ باؤنڈری پرفائرنگ اس سیکورٹی مخمصے کی بالکل تازہ ترین مثال ہے۔ماضی میں پاکستان نے اس مشکل صورتحال سے مختلف طریقوں سے نکلنے کی کوشش کی۔ افغانستان پرروسی قبضے کے وقت مغربی سرحد پر ملک کی گزشتہ طویل ترین مشغولیت کے دوران وہ اس چیلنج سے مختلف طریقوں سے نکلا تھا۔ لیکن وہ معروف ترین تجربہ ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہمیں یہاں نہیں پھنسنا۔زیادہ اہم تین فرق ہیں جو حال کو ماضی سے ممتازکرتے ہیں۔ اول،تقریباًً ایک دہائی سے پاکستانی فوجی دستوں کا خاصہ بڑا حصہ تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار اہلکاریا نصف سے زائد فوج مغربی سرحد پر تعینات

ہے،جس میں سے بڑی تعداد قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کو شکست دینے کے لئے آپریشن میں مصروف ہے۔ یہ محض فوجی دستوں کی ازسرنو تعیناتی یا نئی سمت بندی کا معاملہ نہیں۔اس کا نتیجہ کئی سال تک پاکستان کی روایتی صلاحیتوں میں کمی کی صورت برآمد ہوا ہے۔دوم، افغانستان پرروسی قبضے کے وقت روس نواز کمیونسٹ حکومتوں کے لئے بھارت کی مدد مجموعی طور پرسفارتی و سیاسی حمایت تک محدود تھی۔ لیکن آج بھارت نے افغانستان میں نہ صرف سیکورٹی شعبے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ خود کو کابل کا فوجی اتحادی بنانے کی بھی کوشش کی ہے۔
بھارت نے2011 میں کابل اور دہلی کے درمیان ہونے والے معاہدے اسٹریٹجک پارٹنرشپ ایگریمنٹ کے ذریعے فوجی معاون کا کرداربھی حاصل کرلیا ہے۔اس معاہدے کے تحت بھارت افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز (اے این ایس ایف) کی تربیت،انہیں مسلح کرنےاورصلاحیتیں بہتربنانے کے پروگراموں میں معاونت کرنے کا پابند ہے۔اب افغان افسران کی اچھی خاصی تربیت کی جارہی ہے۔ تیسرے فرق کا تعلق اسلام آباد کے موقف سے ہے کہ بھارت شورش زدہ صوبےبلوچستان میں بلوچ باغیوں کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں مزید تیز کرنے کے لئے افغانستان میں اپنی موجودگی کو استعمال کررہا ہے،یہاں تک کہ فاٹا میں بعض جنگجوعناصرکی بھی حمایت کررہاہے۔اسلام آباد نےدونوں ملکوں کی انٹیلی جنس سروسز کے مابین پاکستان مخالف گٹھ جوڑ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس پس منظراورعسکریت پسندی کے خلاف پاکستان کی اندرونی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے افغانستان کے حوالے سے جائزتحفظات اوراہم سیکورٹی مفادات ہیں جن کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ حلف اٹھانے کے بعد صدر اشرف غنی کی پہلی تقریرمیں کرائی گئی یقین دہانی کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونےدیا جائے گا،کا پاکستان میں خیر مقدم کیا گیا۔ یہ یقین دہانی دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات دورکرنے اور ایک دوسرے کے مفادات اور سرخ لکیروں کا احترام کرنے کے لئے نئے آغاز کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
ممکن ہے کہ کابل میں آنے والی نئی حکومت اسلام آباد کے تحفظات دور کرنے کیلئے ناقابل اعتبار حامد کرزئی کی بہ نسبت زیادہ بہترہو۔ بالخصوص اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ کی اتحادی حکومت کی جانب سے ملنے والے ابتدائی مثبت اشاروں کو سامنے رکھتے ہوئے یقیناً اسلام آباد میں یہ ایک عملی مفروضہ ہے۔ نئی افغان حکومت کے بیان کردہ عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے شمالی وزیرستان میں پاکستان کے جاری آپریشن نے کابل و اسلام آباد میں اور زیادہ قریبی تعاون کی عمدہ بنیاد قائم کردی ہے۔ دونوں ممالک سرحدی سیکورٹی اور دونوں اطراف محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ یہ مشترکہ مقاصد ہیں جنھیں مشترکہ کوششوں کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئے۔2014 کے بعد پاکستان کی اولین ترجیح اپنی سرحد کو محفوظ بناناہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا مقصد فاٹا میں مختلف عسکریت پسندوں کا آخری ٹھکانہ بھی ختم کرنا تھا۔ اس آپریشن کے ذریعے وہاں جنگجوؤں کا انفرااسٹرکچرتباہ کیا جاچکا ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحدی ایس او پیز پر جلد از جلد ایک معاہدہ ہونے کی توقع کرے گا تاکہ تعاون کے لئے درکار فریم ورک حاصل ہو اور ایساف، افغانستان و پاکستان کے درمیان قائم سہ فریقی ایس او پیز کو تبدیل کیا جاسکے۔2014 کے بعد استحکام کے لئے آگے کی طرف دیکھتے ہوئے اور افغانستان پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کیا رخ کرتے ہیں،اس حوالے سے دونوں کے لئے یہ اہم ہوگا کہ افغانستان پرمکالمے کااہتمام کریں تاکہ ایک دوسرے کے نقطہ نظراورسرخ لکیروں و بنیادی نکات کے تبادلے کا موقع ملے۔ چونکہ ہر فریق یہ سمجھتا ہے کہ دوسرا افغانستان میں اس کے مفادات کے برخلاف کام کررہا ہے اس لئے اس طرح کی بات چیت کا نتیجہ بالآٓخر کچھ لواور کچھ دو کی صورت نکل سکتا ہے،تاہم ابتدائی طور پر کم از کم ایک دوسرے کے تحفظات کے بارے میں بہتر تفہیم تو پیدا ہوگی۔لیکن اس طرح کا مکالمہ تعلقات کی مجموعی صورت حال سے صرف نظر کرکے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سردست تعلقات ایسے ہیں کہ کوئی مذاکرات کے موڈمیں نہیں۔ دہلی کی جانب سے خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات کو اچانک منسوخ کرنے سے تعلقات معمول پرلانے کےعمل کو دھچکا لگا ہے اور افغانستان کے تناظر میں بہت غلط موقع پر ایسا ہوا ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت کو کسی تیسرے ملک کے بارے میں معنی خیزبات چیت کرنا پڑے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم ان کے باہمی مذاکرات بحال ہوں اور دوطرفہ بہترماحول دستیاب ہو۔ یہ سوچنا ہی بیکار ہے کہ دونوں ملک ایسی صورت حال میں افغانستان پر بات کرسکتے ہیں جب بھارت نے پاکستان کے خلاف نئی جارحانہ حکمت عملی کے تحت اسلام آباد سے مذاکرات نہ کرنے کی ضد پکڑی ہوئی ہو۔بھارت کے پاس اس حوالے سے انتخاب کے مواقع موجود ہیں۔ تاہم ان کا انتخاب کرنے سے پہلے کچھ سوالات سامنے رکھنے ہوں گے؟ اول،کیا ماضی میں بھارت کو پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز انداز میں بات کرنے یا دھونس کی سفارت کاری کا کوئی فائدہ ہوا ہےاور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملی ہے؟ دوئم، کیا مکالمے کا کوئی متبادل موجود ہے؟ اور سوئم، اگر اس پر اتفاق ہوجاتا ہے کہ سفارتی رابطے کا کوئی معقول متبادل نہیں، تو کیا یہ رابطہ پیشگی شرائط یا صرف بھارت کی شرائط کی بنیاد پر ہوسکتا ہے۔جس وقت دوطرفہ بات چیت بحال ہوگئی، افغانستان پرغیررسمی مکالمے کا امکان حقیقت بن جائے گا۔ پاکستان بھارت کشیدگی میں کمی اور موجودہ تلخ ماحول کو بہتر بنائے بغیر علاقائی معاشی تعاون میں کوئی حقیقی پیش رفت بعید از امکان ہے۔ لینڈ لاک(خشکی سے گھرے) افغانستان سے سرحد ملنے کی وجہ سے جب پاکستان سےٹرانزٹ اور دیگر سہولتوں کے مطالبات کئے جاتے ہیں تو وہ بھی فطری طور پر اس بات کی توقع کرتا ہے کہ اس کے اہم مفادات کا احترام کیا جائے۔
افغانستان میں بھارت کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی موجودہ سوچ میں کئی عناصر پائے جاتے ہیں جن کا اعادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا اورسب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ، پاکستان افغانستان میں بھارت کے ترقیاتی اورمعاشی معاون کردارکو ناقابل اعتراض سمجھتا ہے کیونکہ کابل کو اپنی معیشت کی ترقی کیلئے ہر ممکن مدد کی ضرورت ہے۔ تاہم اسلام آباد چاہے گا کہ اس حوالے سے مزید شفافیت لائی جائے۔اسلام آباد کو دراصل افغانستان میں بھارت کے فوجی یا سیکورٹی کردار پر تحفظات ہیں۔
2011 کے اسٹریٹجک پارٹنرشپ ایگریمنٹ (ایس پی اے) نے اسلام آباد میں غلط فہمیوں کو جنم دیا اگرچہ ان کا اس وقت کھلے عام اظہار نہیں کیا گیا۔ کرزئی حکومت نے اکثر و بیشتر دہلی سے اسلحہ اوربھاری ہتھیارمانگنے کےلئے ایس پی اے استعمال کیا،نیزبھارت پرافغانستان میں2014 کے بعد پیدا ہونے والے کسی سیکورٹی خلاء کو پر کرنے کے لئے بھی زوردیا ۔حال ہی میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں بی جے پی کے ترجمان نے ان خبروں کی تصدیق کی کہ بھارت نے روس سے افغانستان کو اسلحہ فراہم کرنے کے لئے کہا ہے جس کی ادائیگی بھارت کرے گا۔ لیکن ایک دوسرے سمپوزیم میں ایک سینئر سابق بھارتی عہدیدار نے اس کی تردید کی۔ اس معاملے میں ابہام ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے پاکستان پرواضح اثرات پڑیں گے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بناءپرافغانستان میں بھارت کا فوجی کردارپاکستان کے ممکنہ گھیراؤ سے متعلق اسلام آباد کے خدشات کو تقویت دے گا۔ پاکستان کو اس سے قطعی کوئی مسئلہ نہیں کہ کابل کسی تیسرے ملک کے ساتھ کس طرح کے تعلقات رکھتا ہے،لیکن بھارت کے ساتھ فوجی تعاون کے پہلو جن سے پاکستان پر سیکورٹی اثرات مرتب ہوں گے قدرتی طورپر بے چینی کو جنم دیتے ہیں اور کوئی بھی ملک دیگر ریاستوں کے مابین کسی ایسے فوجی انتظام پر لازمی اعتراض کرتا ہے جس سے اس کی سلامتی پر اثرات پڑتے ہوں۔اب جب کہ افغانستان ایک نئے اور زیادہ استحکام والے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، تو تاریخ کے بعض اسباق کی یاد دہانی مفید رہے گی۔ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ افغانستان میں گریٹ گیم کے مختلف الٹ پھیراور ماضی کی جنگوں سے افغانستان اور ان گیم وارز میں شامل کسی بھی فریق کو سوائے دکھوں کے کچھ نہ ملا۔ اپنی تاریخ کے مختلف مواقع پر افغان گروپس نے بھی بیرونی مداخلت کو دعوت دی ہے۔کوئی بھی ملک خاص طور پر پاکستان تو بالکل ہی نہیں چاہے گا کہ یہ گیمز دوبارہ شروع ہوں اورعلاقائی دشمنیاں پھر سے جنم لیں۔ لہٰذا افغانستان میں عدم مداخلت اوروہاں کھیل کے اصولوں پر حقیقی علاقائی اتفاق رائے ہونا بہت ضروری ہے۔ افغانستان میں کسی بھی ملک کیلئے غالب کردار وہاں پرانے گیمز کی ہی ایک تبدیل شدہ قسم ہوگا جس کے نتائج ماضی سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں