آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سب سے پہلے سانحہ واہگہ بارڈر کے شہدا کے لئے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد ازجلد صحت یابی کی دعا ۔ ویسے تو بازار میں کافی دنوں سے ایک روپے سے کم مالیت کے سکے نظر نہیں آرہے ۔ اسٹیٹ بینک کے اعلان سے کہ چھوٹے سکوں کی قانونی حیثیت یکم اکتوبر سے ختم ہوجائے گی لوگوں نے پہلے ہی سے ان کو غائب کرنا شروع کردیا تھا سکوں کی بندش ایک بڑا معاشی مسئلہ ہے ۔ اس کے گونا گوں اثرات ہوتے ہیں ۔ اگر صحیح اقدام نہیں کیا جائے تو اس سے عوام متاثر ہوسکتے ہیں ۔ آئیے اس موقعے پر سکوں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تاکہ اس کے مفید ومضر اثرات واضح ہوسکیں۔
دنیا میں سکوں کا رواج بہت پرانا ہے یہ قدیم یونان، روم، مصر، چین وغیرہ میں صدیوں سے رائج ہیں۔ سکہ اقتدار کی علامت سمجھا جاتا ہے اس لئے ہرحاکم مسند نشین ہوتے ہی اپنے نام کا سکہ ڈھلوانا شروع کردیتا ہے، اسلامی عہد میں حضرت عمرؓ نے دینارو درہم کے سکے جاری کئے تھے جن پر کلمہ طیبہ درج تھا ، رنجیت سنگھ کے سکے پر فارسی کا ایک شعر درج تھا ۔ برطانوی دور سے پہلے برصغیر میں چالیس ٹکسالیں تھیں جہاں مقامی حاکم سونا چاندی لے کرجاتے اور سکے ڈھلوالیا کرتے تھے ، ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر سراقتدار آکر ان سب ٹکسالوں کو بند کردیا اور کلکتہ ، ممبئی اور مدراس میں اپنی ٹکسالیں کھولیں ۔ اور دوسری جنگ عظیم میں

لاہور میں بھی ایک ٹیکسال کھولی ، صرف نظام حیدرآباد کو ریاستی سکے بنانے کی اجازت تھی ۔ بر صغیر کا عام سکہ روپیا کہلاتا تھا بعد میں یہی نام پاکستان بھارت ماریشس ،سری لنکا ، نیپال اور انڈونیشیا میں اختیار کیا گیا ۔
برطانوی راج میں برصغیر کا سب سے چھوٹا سکہ پائی تھا ، تین پائی کا ایک پیسہ ہوتا تھا یہ ڈاک خانوں ، بینکوں کے حساب کتاب میں استعمال ہوتا تھا ، ڈاک کا پوسٹ کارڈ تین پائی کا ہوتا تھا ، دوسرے سکوں میں دھیلا (آدھاپیسہ) ادھنا( دوپیسہ) اکنی (چارپیسہ) دونی (پیسہ) چونی( 16پیسہ) اٹھنی(32پیسہ)روپیہ (64پیسہ )یا 192پائی کا ہوتا تھا ۔
آزادی کے بعد بھارت کو تو کرنسی کا جمع جمایا نظام مل گیا مگر پاکستان کے پاس کچھ نہ تھا تقسیم ہند کے گورنرجنرل نے 14اگست1947کو ’’ دی پاکستان ( مانیٹری اینڈ ریزروبینک) آرڈر1947جاری کیا جس کے مطابق ریزروبینک آف انڈیا کے 30ستمبر تک جاری کردہ نوٹ اور سکے پاکستان کے زر قانونی باور کئے جائیں گے ۔ بینک کے جاری کردہ نوٹوں پر انگریزی میں گورنمنٹ آف پاکستان اور نیچے حکومت پاکستان درج ہوگا معیاد میں30جون1948تک توسیع کردی گئی ۔
اسی دوران پاکستانی سکوں کے ڈیزائن تیار کئے گئے ، اندازہ لگایا گیا کہ ملک کو چھ مالیتوں کے44.7 ملین سکے درکار ہونگے ۔ پاکستانی سکوں کا پہلا سیٹ1948میں آیا جو ایک روپیہ اٹھنی ، چونی ، دونی، اکنی، ادھنے ، ایک پیسہ اور ایک پائی پر مشتمل تھا ، پھر وقتاً فوقتاً ان میں ردو بدل ہوتا رہا پہلا ایک پائی والا سکہ واپس لیا گیا۔ 1950میں کلکتہ کی ٹکسال میں چونی ، دونی اور اکنی کے سکوں میں طلوع ہونے والے چاند کی شکل کے بجائے غروب ہونے والا چاند دکھایا گیا ۔ نشان دہی پر یہ سکے واپس لے لئے گئے ۔
1961پاکستان نے اعشاری نظام اختیار کرلیا 64پیسے والا روپیہ سوپیسوں کا ہوگیا اب ٹیڈی پیسہ ، 5 , 10 ,25اور 50پیسے کے سکے جاری ہوتے رہے ، آہستہ آہستہ تمام چھوٹےسکے غیر سرکاری طور پر بازار سے مہنگائی کی بنا پر غائب ہوتے رہے ، پھر اسٹیٹ بینک نے ایک روپے سے کم مالیت کے سکوں کو یکم اکتوبر 2014سے غیر قانونی قرار دے دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک روپے کا سکہ سب سے چھوٹا سکہ بن گیا اور اس کی حیثیت پرانے پیسے کے مانند ہوگی۔ یعنی اب معمولی سے معمولی شے جیسے پودینے، کوتھ میر کی گڈی کے لئے بھی ایک روپیہ دینا ہوگا اس وقت میں بازار ایک روپیہ ، دو روپے اور پانچ روپے کے سکے مستعمل ہیں ۔
قانونی طور پر تو چھوٹے سکے ختم ہوگئے مگر عملی طور پر وہ موجود ہیں اور خود حکومت اس کی ذمے دار ہے ، پیڑولیم کی مصنوعات ، ایلو پیتھک دوائیں، سگریٹ اور سرکار کی جانب سے بعض اشیائے خوردنی اور سبزیوں کے نرخ اس بات کا ثبوت ہیں مثلاً یکم نومبر کو ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 94.11روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت87.12روپے مقرر کی گئی۔ اگر ایک شخص اپنے اسکوٹر میں ایک لیٹر پیڑول ڈلواتا ہے اور پمپ والے کو سو روپے کا نوٹ دیتا ہے تو اس کو 5روپے واپس ملتے ہیں یعنی اس کو 95روپے میں ایک لیٹرملا ۔ یہی صورت مٹی کے تیل میں ہوگی جہاں خریدار کو 88روپے ادا کرنا ہونگے پمپ والے کو علی الترتیب 89اور88پیسے کا فائدہ ہوگا اور یہ رقم ہزاروں میں ہوجائے گی جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا اور نہ اس پر انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا ، یہی صورت ان تمام اشیا کی خریداری پرپیش آئے گی جن کی قیمتوں اور نرخوں میں پیسے شامل ہیں ۔ اور یہ رقم صارف کی جیب سے جائے گی ۔ اگر صارف (عوام) کواس نقصان سے بچانا ہے تو پیڑولیم کی مصنوعات ، دوائوں ، سگریٹ خوردنی اشیا کی قیمتیں سالم روپے میں مقرر کی جائیں اور فروشندوں کو بے جا منافعوں سے روک دیا جائے ۔ چھوٹےسکوں کا رواج سے ہٹنا خود مہنگائی کا بولتا ثبوت ہے۔ کیا حکومت اس مسئلے پر غور کرنے کی زحمت کرے گی ۔ سرکار کے نزدیک چھوٹے سکوں کاغیاب معاشی ترقی کی علامت ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں