• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہسپانیہ یعنی اسپین کاستین،کتالان اورباسک سمیت بہت سی قدیم قوموں کا ملک ہے۔مغرب کی جانب یہ پرتگال،جنوب میں جبل الطارق اور مراکش جبکہ شمال مشرق میں انڈورا اور فرانس سے ملتا ہے۔سلطنت رومہ والے اس ملک کو ہسپانیہ کہتے تھے کہ یہ جرمن قوم اندلس سے موسوم ہے۔معروف بحری مہم جو کرسٹوفر کولمبس جس نے 15ویں صدی میں امریکہ کو دریافت کیا اسی ملک میں قثتالوی عیسائی حکمرانوں کی ملازمت میں رہا۔ویسے تو کولمبس 1451میں اٹلی میں پیدا ہوا لیکن ملکہ ازابیل اور فرڈینینڈ نے اسے چھوٹے جہاز دئیے جس سے کولمبس نے 1492میں امریکہ دریافت کیا ۔کولمبس نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ ان کو امریکہ میں دفن کیا جائے لیکن 1506میں امریکہ میں کوئی خاطر خواہ چرچ موجود نہیں تھااس لئے ان کو ابتدائی طور پر اسپین میں دفنا دیا گیا تھا۔اس کے بعد ان کی لاش کو سیول میں دفنایا گیا۔1542میں کولمبس کی لاش کو ایک بار پھر نکالا گیا اور اور ڈومینکن ریپبلک میں دفن کیا گیا۔ستر ہویں صدی میں جب اسپین کے کچھ حصوں بشمول ڈومینکن ریپبلک پر فرانس کا قبضہ ہوگیا تو کرسٹوفر کی لاش کو نکال کر کیوبا لایا گیا۔جب کیوبا نے آزادی حاصل کی تو کولمبس کی لاش کو 1898میں سیول کے کتھیڈرل میں دفنایا گیا۔یہاں تک تمام تاریخ دان متفق ہیں مگر ڈومینکن ریپبلک میں کولمبس کی یادگار میں ایک بکس پڑا ہوا ہے جس میں ہڈیاں ہیں اور ان پر لکھا ہوا ہے کرسٹوفر کولمبس۔سائنسدانوں نے سیول میں جو لاش گئی اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ کولمبس کے بھائی ڈی ایگو کی لاش ہے۔لیکن ڈومینکن ریپبلک میں لاش کا ڈی این اے کبھی نہیں کیا گیا۔لیکن اس تمام تاریخ سے قطع نظر آج بھی بارسلونا کے مشہور مقام پر کولمبس کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جو ہر سیاح کو کولمبس کی یاد دلاتا ہے۔اور ہسپانوی اس مجسمے کے ذریعے کولمبس سے اپنی قربت کا اظہار کرتے ہیں۔
اسپین میں ملک کا سربراہ بادشاہ ہے ۔اس ملک میں پارلیمانی نظام حکومت ہے ۔جس کے دو ایوان سینیٹ اور کانگریس ہیں۔ملک کے تمام انتظامی معاملات وزیراعظم چلاتا ہے ۔جس کو ہسپانوی زبان میں (Presidente del Gobierno)یعنی حکومت کا سربراہ کہتے ہیں۔اس ملک کو انتظامی لحاظ سے 17خودمختارعلاقوں اور 2خودمختار شہروںمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ہر علاقے کی ایک علاقائی پارلیمنٹ،ہائی کورٹ اور علاقائی حکومت ہے۔علاقائی مجالس ہر چار سال بعد عوامی انتخابات کے ذریعے اپنے ممبران کا انتخاب کرتے ہیں۔جو کہ علاقائی حکومت کے سربراہ کا چناؤ کرتی ہیں۔یہ وہ ملک ہے جس پر مسلمانوں نے 800سو سال تک حکومت کی۔19جولائی711کو مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد نے بادشاہ راڈرک کو شکست دے کر اس ملک پر قبضہ کیا تھا۔جی ہاں 711سے 1492تک مسلمانوں کا اس خطے پر راج رہا مگر آج بدقسمتی ہے کہ اسپین کی کسی تاریخی نصاب میں ان 800سالوں کا ذکر تک نہیں ہے۔مسجد قرطبہ جس میں نماز ادا کرنے کے لئے علامہ اقبال نے اس وقت کے ہسپانوی بادشاہ سے خصوصی اجازت نامہ لیا تھا اسی ملک میں واقع ہے۔مسلمانوں کی 800سو سالہ تاریخ کو اسپین کے ارباب و اختیار نے مسخ کردیا ہے۔اب شاید ہی کوئی ہسپانوی جانتا ہو کہ ماضی میں مسلمان یہاں پر حکمران رہیں ہیں۔اس ملک پر مسلمانوں کے طویل عرصے تک حکومت کرنے کی صرف ایک وجہ تھی کہ ہم علوم میں دنیا سے بہت آگے تھے اور مسلمانوں میں اتحاد و یگانگت موجود تھا۔آج جب اسپین کو دیکھتا ہوں تو مسلمانوں میں نہ ہی اتفاق و اتحاد ہے اور نہ ہی علوم۔اب بھی اسپین بالخصوص بارسلونا میں مسلمانوں اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے مگر آج ماضی کے حکمران مسلمان در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ہر شخص نے اپنی دو انچ کی مسجد بنائی ہوئی ہے۔پاکستانی کمیونٹی ایک بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود متحد نہیں ہے۔جو ایک افسوسناک امر ہے۔لیکن پھر بھی اسپین میں چوہدری اقبال جیسے پاکستانی موجود ہیں ۔جن کی زندگی کا مقصد ہی مصیبت میں پھنسی پاکستانی کمیونٹی کو سہارا دینا ہے۔ یورپین پاک فرینڈشپ فیڈریشن کے سربراہ چوہدری پرویز لوہثر نے بتا یا کہ پورے اسپین میں پاکستانی کمیونٹی کو کہیں بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو یہ فرشتہ صفت انسان اپنے طبقے کے شانہ بشانہ نظر آتا ہے۔لیکن گزشتہ رات چوہدری اقبال بھی مجھ سے متفق ہوگئے کہ اس ملک میں پاکستانیوں کی زبوں حالی کی وجہ نااتفاقی ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسپین کے مشہور شہر بارسلونا میں قیام کا اتفاق ہوا۔تین دہائیوں کے دوران ترقی پانے والا بارسلوناآج کسی بھی طور پر دنیا کے کسی ترقی یافتہ شہر سے پیچھے نہیں ہے۔1992میں اولمپکس کرانے کا شرف اس شہر کو حاصل ہوا تو اس کی تیاری کے لئے حکومت نے پورے بارسلونا کا نقشہ ہی بدل دیا اور آج وہی جدید بارسلونا دنیا کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔بارسلونا میں قیام کے دوران پاکستانی کمیونٹی کے بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔بارسلونا میںگزشتہ کئی عرصے سے مقیم چوہدری امتیاز آکیہ میرے پاس ہوٹل تشریف لائے تو پاکستان ائیرلائن (پی آئی اے) کی بارسلونا سے جانے والی آخری پرواز کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے کہ حکومت پاکستان نے بارسلونا سے پی آئی اے کی پروازوں کا سلسلہ بند کردیا ہے۔جو تارکین وطن یہاں فوت ہوجاتے تھے یہ قومی ائیر لائن انہیں مفت پاکستان پہنچاتی تھی اور اب 10سے15لاکھ روپے کا نجی ائیر لائن کا خرچہ ایک غریب پاکستانی کیسے برداشت کرے گا۔چوہدری امتیاز آکیہ تو چلے گئے مگر میں سوچوں میں گم بارسلونا کے مشہور ہوٹل ہلٹن کی لابی میں آیا تو قومی ائیر لائن کے ایک درجن سے زیادہ مرد و خواتین ملازم خوش گپیوں میں مگن تھے اور ایک گھنٹے کے دوران 200یورو کا آرڈر کرچکے تھے۔میں نے خاموشی سے ویٹر کو بلا کر پوچھا یہ کون ہیں ۔ویٹر نے کہا کہ پی آئی اے کے ملازم ہیں اور ہلٹن(بارسلونا کا مہنگا ترین ہوٹل)میں ہی رہتے ہیں۔یہ عاجز اٹھا اور استقبالیہ پر کھڑی خاتون کے پاس چلا گیا اور پوچھا کہ پی آئی اے کے جو ملازم یہاں قیام پذیر ہیں ان کا بل کون ادا کرتا ہے۔جس پر خاتون مسکرائی اور بولیںObviously PIA Administration & Govt. of Pak))۔خاتون کی بات سن کر بوجھل بوجھل قدموں کے ساتھ دوبارہ لابی میں آگیا کہ دنیا کی اور کسی ائیر لائن کے ملازموں کو اپنے ملک کے غیور عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ایسے اڑاتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا یہ لوگ کررہے ہیں۔بے حسی کی حد ہوتی ہے۔میرے غریب شہری بات با ت پر ٹیکس دیتے ہیں اور یہ اس پیسے کو دنیا کے مہنگے ہوٹلوں میں اڑادیتے ہیں۔مسئلہ پی آئی اے کے افسران کے مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرنے کا نہیں ہے مسئلہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کو اڑانے کا ہے۔اگر ان افسران کو اتنا ہی شوق ہے تو اپنی جیب سے ایسے پوش فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہیں تو پتہ چلے۔جب بارسلونا میں قومی ائیر لائن کے ملازموں کے یہ ناز ونخرے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ وقار جھنگوی،مختیار سونی ،چوہدری اقبال اور امتیاز آکیہ سمیت دیگر پاکستانی کمیونٹی کے افراد کو کیسے سمجھاؤںکہ جب مہینے کا 60لاکھ کے قریب بل صرف ایک ہوٹل کا بنے گا جس میں پی آئی اے کے نواب ٹھہرتے ہیں جبکہ ائیر لائن کی بچت صرف20لاکھ روپے ہوگی تو بھلا قومی پرواز کیسے اڑے گی۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا دشمن کوئی اور نہیں ہے۔ہم خود اپنے ساتھ دشمنی کررہے ہیںلیکن شاید ابھی ہم سمجھنے کو تیار نہیں ہیں۔
تازہ ترین