آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آج سلسلہ کلام دو واقعات سے شروع کرتے ہیں:
8 جولائی میری بیٹی امل کی سالگرہ کا دن ہے۔ مجھے اس کو تحفہ دینے کے لئے ایک ’’گرافک ٹیبلٹ‘‘ (GRAPHIC TABLET) کی تلاش تھی۔ اسی سلسلے میں گلبرگ لاہور میں واقع سب سے بڑی کمپیوٹر مارکیٹ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ TABLET تو مل گیا مگر دکاندار نے جو قیمت بتائی وہ خاصی زیادہ تھی۔ اتنے پیسے جیب میں نہیں تھے۔ میں نے دکاندار سے پوچھا کہ کیا آپ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے قیمت وصول کر لیں گے۔ دکاندار نے کہا کہ نہیں ہم نے کریڈٹ کارڈ کی مشینیں اٹھا دی ہیں، ’’کیوں‘‘ میں نے پوچھا ۔ دکاندار نے کہا، جناب اس پوری چھ منزلہ عمارت میں کسی ایک دکاندار کے پاس بھی کریڈٹ کارڈ مشین نہیں، سب نے متفقہ فیصلہ کر کے بنکوں کو مشینیں واپس کردی ہیں اور CASH پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے! خیر دوسرے دن CASH لے کر گیا۔ اپنی مطلوبہ چیز خریدی تو دکاندار نے جورسید دی وہ بغیر کسی نام پتے کے تھی۔ ایک کونے میں ایک چھوٹا سا LOGO بنا ہوا تھا۔ پوچھا کہ آپ یہ کیسی رسید دے رہے ہیں جس پر دکان کا نام تک درج نہیں، یہ سن کر دکان والے نے کیلکولیٹر اٹھایا، کچھ حساب کیا اور کہنے لگا۔ اگر آپ کو پکی رسید چاہئے تو ٹیکس شامل کرنے سے آپ کے TABLET کی قیمت چھ ہزار روپے بڑھ جائے گی۔ لوگ TAX دینا نہیں چاہتے، ہم لینا نہیں چاہتے۔ TAX قیمت میں شامل کریں گے تو

مہنگی ہو جائے گی۔ ہم مہنگا بیچیں گے تو گاہگ ہمارے پاس کیوں آئے گا!
میں دکاندار کی اس منطق پر کھڑا اس کا منہ دیکھتا رہ گیا!
دوسرا واقعہ ایک دوست نے سنایا۔ کہنے لگا میرا ایک کزن گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس کا کام کرتا ہے۔ وہ گزشتہ تین سال سے NTN نمبر لینے اور ٹیکس ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ مگر وہ اچھا شہری بننے کی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
’’کیوں؟‘‘ میں نے استفسار کیا۔
جس پر دوست نے کہا! محکمہ انکم ٹیکس کے ایک افسر کے خیال میں اگر اس کے کاروبار کی مالیت 50 لاکھ ہے تو دوسرا اس کی تشخیص 2 کروڑ کرتا ہے۔ ہر سال بات پندرہ بیس ہزار پرختم ہو جاتی ہے۔ یہ رقم محکمے کے کسی نہ کسی اہلکار کی جیب میں چلی جاتی ہے۔
دونوں واقعات بیان کرنے کا مقصد اس ملک میں ٹیکس دینے والوں اور ٹیکس وصول کرنے والوں کے رویوں کی نشاندہی کرناہے۔ چارٹرڈ اکائونٹنٹ وزیر خزانہ صاحب نے ٹیکس نہ دینے والوں پر بنکوں سے لین دین پر 0.3 فیصد WITHHOLDING ٹیکس تو لگا دیا (جو ایک ہزار پر 3 روپے اور ایک لاکھ پر تین سو روپے بنتا ہے) مگر تاجروں نے بنکوں سے لین دین ختم کرتے ہوئے، کاروبار کیش میں کرنا شروع کردیا ہے۔ بات بہت سیدھی سی ہے۔ ایک لاکھ روپیہ جب روزانہ دس دفعہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جائے گا تو ہردفعہ 0.3 فیصد کٹنے کے بعد مجموعی ٹیکس کٹوتی تین ہزار ہو جائے گی۔ پاکستان کی بلیک اکانومی، ہماری وائٹ اکانومی سے کم از کم دوگنا ہے۔ ٹیکس نہ دینے والے بینکوں سے روزانہ اربوں روپے کا لین دین کرتے ہیں۔ وہ کیوں بینکوں کے ذریعے لین دین کر کے ٹیکس بھی دیں اور اپنی دولت اور آمدنی کی تفصیلات کو بھی بنک کھاتوں کے ذریعے سرکار تک پہنچائیں!
لوگوں کو ٹیکس دینے پر مجبور کرنے کی یہ کوشش نئی نہیں ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے 30 سال قبل جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر محبوب الحق کو امریکہ سے بلا کر وزیر خزانہ بنایا تو اپنے پہلے بجٹ میں انہوں نے یہ تجویز رکھی کہ 50 ہزار سے زیادہ کا کوئی لین دین نقد نہیں بذریعہ بنک چیک ہوگا۔ تاجروں کے احتجاج کے سامنے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حکومت بھی نہ ٹھہر سکی اور کاروبار بذریعہ چیک کی تجویز واپس لے لی گئی۔ تاجر ٹیکس NET میں نہیں آنا چاہتے تھے، نہ آئے!
مگراب یہ بیماری بہت بڑھ چکی ہے!
جس رفتار سے لوگ امیر ہورہے ہیں، حکومت اتنی ہی غریب ہورہی ہے، خزانے میں پیسہ اکٹھا کرنے کے چند موٹے موٹے طریقے یہ ہیں۔
-1 لوگ رضا کارانہ طور پر ٹیکس دیں، جس کے لئے کوئی شخص تیار نہیں۔ لوگوں کو پیسے سے پیار اور حکومت پر عدم اعتبار ہے!
-2 کوئی دوسرا ملک آپ کو اللہ واسطے امداد دیتا رہے! مگر جو اللہ واسطے امداد دیتا ہے وہ ساتھ میں آپ کو اپنا ایجنڈا بھی سونپ دیتا ہے۔ امریکہ سے امداد کا خمیازہ ہم آج تک دہشت گردی اور خلیجی ممالک کی امداد کا عذاب فرقہ واریت کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔
-3 تیسری صورت’نجکاری‘ ہے کہ حکومت اپنی جائیدادیں بیچ کر پیسہ اکٹھا کرے۔ نجکاری کے نام پر ماضی میں جو لوٹ مچی، کراچی میں بجلی کی نجکاری اس کی ایک بڑی مثال ہے، لوگ بجلی بحران کی وجہ سے مرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ بینکوں اور فیکٹریوں کی فروخت میں جو خوردبرد ہوئی ، الامان! یقین نہ آئے تو NAB میں زیر تفتیش کیس دیکھ لیجئے!
-4 پیسہ اکٹھا کرنے کی چوتھی صورت عالمی بینکوں اور ساہوکاروں سے ان کی شرائط پر قرض لینا ہے۔ ہمارے وزیر خزانہ اسی نسخے پر عمل پیرا ہیں۔ قرضے لے لے کر انہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر تو اٹھارہ ارب سے اوپر پہنچا دیے مگر ملک کے اندر رعایتیں ختم کر کے انہوں نے مہنگائی کا الائو جلا دیا ہے!
صورت حال جس نہج پر پہنچ چکی ہے۔ لگتا ہے کہ شاید اب یہاں کوئی ’’معاشی ضرب عضب‘‘ ہو۔ دہشت گردی اور کرپشن کا صفایا تو اپنی جگہ .... لیکن ٹیکس نہ دینے والوں اور ٹیکس وصولی میں خیانت کرنےوالے سرکاری اہلکاروں کو بھی سیدھا کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے! فوج والوں کا عزم اور کوششیں اپنی جگہ، مگر ٹیکس چوری کے حوالے سے حکومت کے اقدامات تو اس سادہ لوح ماں کی طرح ہیں جس نے اپنی بیٹی سے کہا
’’بیٹی ..... میری دعا ہے کہ ہمیں تیری شادی کے لئے کوئی بہت نیک، شریف، خاندانی، پرہیزگار، دین دار اور نماز روزے کا پابند لڑکا مل جائے!
بیٹی نے جوا ب دیا
’’امی جی.... ایسے لڑکے سے آپ نے میری شادی کرانی ہے یا میرے لئے پانی دم کرانا ہے؟‘‘
تو صاحبو ..... اب ترلے، منتوں اور دم درود کا وقت گزر گیا، ٹیکس وصولی کے لئے کچھ اور کرنا ہوگا!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں