پشاور(جنرل رپورٹر)خیبرپختونخواکے سب سے بڑے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آرایچ) میں روزانہ 15سے18ہزارتک مریض آتے ہیں جن کیلئے ہسپتال انتظامیہ نئے قانون کے تحت بہترین خدمات فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے تاہم طبی عملے کی کمی، لوگوں کے بے پناہ رش اوربعض قانونی وجوہات کی وجہ سے لوگوں کواب بھی مشکلات کاسامناہے جس کیلئے عنقریب حکمت عملی بناکر ان مسائل پر قابو پالیا جائیگاان خیالات کااظہارپشاورپریس کلب میں خیبریونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام ’’روبرو‘‘کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایل آرایچ پشاورکے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر مختیارزمان نے کیا۔اس موقع پر کے ایچ یو جے کے صدر سیف الاسلام سیفی، نائب صدر عزیزبونیری اور ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین اعجازآفریدی بھی موجودتھے۔ڈاکٹرمختیارزمان نے کہاکہ گزشتہ سال ہسپتال کیلئے7 کروڑکی ادویات خریدی گئی تھیں، اس سال 40 کروڑکی ادویات خریدی جائیں گی جن میں سے14 کروڑکی خریدی جاچکی ہیں اسی طرح 40 کروڑروپے مالیت کے مختلف آلات جراحی سے متعلق مشینری بھی خریدی جائیگی اس مقصد کیلئے 17کروڑروپے جاری کئے جاچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے برعکس ہسپتال میں دو سی ٹی سکین مشینیں کام کررہی ہیں تیسری مشین کی تنصیب عنقریب مکمل ہوجائیگی اسی طرح بہت جلد دوایم آرآئی مشینیں بھی مریضوں کے علاج کیلئے نصب کی جائیں گی۔ڈاکٹرمختیارزمان نے کہاکہ دوسال قبل لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا بجٹ صرف دو ارب روپے تھاجس کو بڑھاکرچارارب روپے کیاگیاہے گزشتہ سال ہسپتال میں علاج کیلئے 23لاکھ سے زائد مریض آئے تھے جن میں سے ایک لاکھ چوالیس ہزار کو داخل اور چوالیس ہزار کے آپریشن کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہرمریض کو ایک بسترکی سہولت میسرہوگی اسی طرح ہسپتال میں ماضی کے برعکس طبی عملے کا استعدادکاربھی بڑھادیا گیا ہے اس وقت ہسپتال کیلئے 173ہائوس آفیسرز،450سے زائد ٹی ایم اوزاور132نرسزبھرتی کی گئی ہیں اورمزید120نرسزکو عنقریب بھرتی کیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ ادارہ جاتی پریکٹس کے تحت اکتوبرمیں1650مریضوں نے ایل آرایچ کارخ کیاماضی میں لیڈ ی ریڈنگ ہسپتال ڈبگری گارڈن میں ڈاکٹروں کے نجی کلینکس کو چلاتی تھی اب ڈبگری گارڈن کے نجی کلینکس لیڈی ریڈنگ ہسپتال کوچلائینگے۔ دل کے آپریشن کیلئے اس وقت مختلف لوگوں کو 2017ء کے اوقات کار دئیے گئے ہیں جس کی بنیادی وجہ آپریشن تھیٹرزکیساتھ انستھیزیاکے ڈاکٹروں کی کمی ہے ہسپتال کیلئے طبی عملے کے نئی بھرتی میں ماہرین انستھزیاکیلئے خصوصی مراعات رکھی گئی ہیں اسی طرح اوپی ڈی چٹ کے حصول کیلئے بھی عنقریب نیاطریقہ کار متعارف کیاجائیگا۔ڈاکٹرمختیارزمان نے کہاکہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ کے بعد ہسپتال میں بنیادی تبدیلیوں کا دورہوچکاہے اس وقت 30کروڑروپے مالیت کے گیارہ ترقیاتی منصوبوں پرکام ہورہاہے جواگلے سال مارچ تک مکمل ہوجائینگے۔