قوموں کی زندگی کا سفر طویل ہوتا ہے اور راستے میں کئی پڑائو آتے ہیں لیکن کچھ مقامات اتنے اہم ہوتے ہیں کہ وہ نشان منزل بن جاتے ہیں۔ علامہ اقبال کا الٰہ آباد کا خطبہ دسمبر1930ءبھی تحریک پاکستان کا ایک ایسا ہی پڑائو تھا جو نشان منزل بن گیا۔ یاد رہے نشان منزل اپنے آپ میں منزل نہیں ہوتا وہ صرف منزل کی جانب اشارہ اور رہنمائی کرتا ہے۔ بلاشبہ خطبہ الٰہ آباد میں ایک آزاد مسلمان ریاست کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی1930ءمیں ایک الگ آزاد اسلامی ریاست کے مطالبے کا تصور کیا جاسکتا تھا۔ یوم اقبال پر الٰہ آباد ایڈریس کے حوالے سے ابہام پھیلانے والے تحریک پاکستان کے محرکات سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ پس منظر کے طور پر یاد کیجئے کہ لکھنو پیکٹ (1916ء)کا فسوں ٹوٹ چکا تھا، قائد اعظم کانگریس کے ناگپور سیشن(دسمبر1920ء) سے بطور احتجاج واک آوٹ کرکے کانگریس سے الگ ہوچکے تھےاور نہرو رپورٹ (1928ء)نے جداگانہ حق رائے دہی سے انکار کرکے نہ صرف ہندو عزائم بے نقاب کردئیے تھے بلکہ یہ عندیہ بھی دے دیا تھا کہ وہ اکثریت کے بل بوتے پر ہندو راج مسلط کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اسی لئے قائد اعظم نے اسے راستوں کی جدائی(Parting of ways)قرار دیا تھا۔ اس سے قبل مسلمان قیادت ہندوستان کی سیاسی زندگی میں درپیش خطرات سے عہدہ برآ ہونے کیلئے سیاسی سمجھوتے کرتی رہی تھی اور ان میں ہندو مسلمان مصالحت ڈھونڈتی رہی تھی لیکن اب وہ سیاسی حل سے آگے نکل کر آئینی حل کیلئے جدوجہد کررہی تھی تاکہ آئین میں تحفظات حاصل کرکے مسلمانوں کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔ لندن میں گول میز کانفرنس ہورہی تھی جس میں قائد اعظم اپنے چودہ نکات کے ذریعے ہندو مسلم مسئلے کے حل پر گفتگو کررہے تھے، چنانچہ ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ واشگاف انداز میں آزاد مسلمان آزاد یا اسلامی ریاست کا مطالبہ کیا جاتا۔اصول بیان کئے جاسکتے تھے، بنیاد رکھی جاسکتی تھی، اشارہ دیا جاسکتا تھا اور یہی اقبال کے خطبہ الٰہ آباد کا طرہ امتیاز اور مرکزی خیال تھا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ اس دور میں ہندو مسلمان مسئلے کے حل کیلئے بہت سی اسکیمیں اور تجاویز گردش میں تھیں جن میں عبدالحلیم شرر، خیری برادران ،سردار گل محمد، مولانا حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر، سرعبداللہ ہارون، چوہدری رحمت علی اور مولانا مرتضیٰ کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ عام طور پر یہ تجاویز انتظامی نوعیت کی تھیں اور انہیں انفرادی حیثیت میں پیش کیا گیا تھا لیکن علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد اسلئے تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور نشان منزل کا درجہ رکھتا ہے کہ اول تو اسے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پیش کیا گیاتھا جو مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔ گویا منصوبہ کسی فرد کی طرف سے نہیں بلکہ جماعت کی جانب سے پیش کیا جارہا تھا۔ دوم علامہ اقبال نے اپنے تصور کو ایک نظریاتی اساس فراہم کی، ایک نظریاتی ریاست کا مطالبہ کیا جسے مسلمان اکثریتی علاقوں پر ہندوستان کے اندر یا باہر معرض وجود میں آنا تھا۔ اس مطالبے کا جواز پیش کرتے ہوئے علامہ اقبال نے واضح کیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی بقاء اور اسلام کو زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے ایک مخصوص علاقے میں مرکزیت اور اقتدار حاصل ہو۔ علامہ اقبال کا فرمان تھا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ’’ہندوستان میں اسلام بحیثیت تمدنی قوت کے زندہ رہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرسکے.....میں صرف ہندوستان اور اسلام کی فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کررہا ہوں‘‘ (تاریخ آل انڈیا مسلم لیگ، آزاد بن حیدر صفحہ 472) خطبہ الٰہ آباد کے حوالے سے عام طور پر علامہ اقبال کے ان الفاظ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ذرا ان کی گہرائی اور گیرائی پر غور کیجے تو آپ کو علامہ کا مدعا اورمقصود بھی سمجھ میں آجائیگا اور اس تصور کی جھلک بھی نظر آجائے گی جو علامہ اقبال کے ذہن میں تھا لیکن جو سطحی انداز سے پڑھنے والوں کو نظر نہیں آتی۔’’میری خواہش ہے کہ پنجاب ، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ہی ریاست میں ملادیا جائے، خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومتی خود اختیار ی حاصل کرے خواہ اس کے باہر۔ (Within or without)مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی‘‘۔ (بحوالہ آزاد بن حیدر ایضاً)ظاہر ہے کہ علامہ اقبال کی بصیرت بالآخر جو اسلامی ریاست ابھرتے اور قائم ہوتے دیکھ رہی تھی وہ وہی تھی جسے بعدازاں پاکستان کا نام دیا گیا۔ الفاظ پر غور کیجئے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی ،یہ الفاظ ایک حتمی فیصلے اور واضح منزل کا پتہ دیتے ہیں جسے شاعر مشرق کی بصیرت افروز آنکھ دیکھ رہی تھی لیکن جسے فی الحال وہ ہندوستان کی فیڈریشن کے اندر یا باہر تجویز کررہے تھے، اگرچہ اپنے خطبے کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ اقبال نے انگریز دانشور ایڈورڈ تھامسن اور مولانا راغب حسن دونوں کو لکھا کہ ان کا مقصد ہندوستان کی فیڈریشن کے اندران مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک اسلامی ریاست کے قیام کا ہے لیکن علامہ نے اندر Withinکے ساتھ(Without)کا لفظ استعمال کرکے مستقبل کے امکانات کا واضح اشارہ دے دیا تھا۔ (بحوالہ زندہ رود ، جاوید اقبال صفحات 83۔476)ظاہر ہے کہ1930ءکے خطبہ الٰہ آباد میں 1940ءکی قرار داد کو تلاش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تاریخ کے ارتقائی عمل اور قومی زندگی کے سفر میں ابھی وہ اسٹیج نہیں آئی تھی کہ علامہ اقبال بحیثیت منتخب صدر مسلم لیگ واضح طور پر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ایک مکمل آزاد اسلامی ریاست کا مطالبہ کرکے انگریز حکومت کے عتاب اور کانگریس سے تصادم کا جواز پیدا کرتے۔ یہ تو اس منزل کی راہ میں ایک پڑائو تھا جس کا مطالبہ 23مارچ 1940ءکو قرار داد کے ذریعے کیا جانا تھا۔ اسی لئے خطبہ الٰہ آباد نشان منزل بن گیا۔ رہی قرار داد لاہور(قرار داد پاکستان) تو اس کیلئے کانگریس کے ڈیڑھ سالہ (39۔1937ء)دور حکومت نے راہ ہموار کی جب انتخابات کے بعد کانگریس کو آٹھ صوبوں میں حکومتیں بنانے کا موقع ملا اور کانگریس نے نہ صرف مسلمانوں پر ملازمتوں ،کاروبار اور ترقی کے دروازے بند کردئیے بلکہ تعلیمی اداروں میں مسلم دشمن ترانہ بندے ماترم کا گانا اور مہاتما گاندھی کے بت کی پراتھنا بھی لازمی قرار دے دی۔ تب مسلمان عوام کی آنکھیں کھلیں کہ اگر انگریزوں کے اقتدار کے باوجود کانگریس کا یہ رویہ اور سلوک ہے تو پھر انگریزوں کی ہندوستان سے رخصتی کے بعد کیا ہوگا؟یہ ساری سیاسی اور فیصلہ کن پیش رفت 1935ءکے بعد کی ہے جبکہ علامہ اقبال نے اپنا خطبہ دسمبر1930ء میں پیش کیا تھا ۔ جب ابھی ہندوستان کی فیڈریشن کے اندر رہ کر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے راہیں تلاش کی جارہی تھیں اور انگریزوں کے ہندوستان سے جانے کا کوئی امکان دور دور تک موجود نہیں تھا۔ جنگ عظیم دوم سے انگریز کے اقتدار کو شدید دھچکا لگا اور اس نے انگریز کو معاشی طور پر کھوکھلا کردیا لیکن یہ بھی نو برس بعد کا حادثہ ہے۔ اس کے باوجود علامہ اقبال کی دور بین نگاہ اور روحانی بصیرت نے چشم تصور سے کچھ دیکھ کر ہندوستان کے اندر کیساتھ ساتھ ہندوستان سے باہر کے ا لفاظ استعمال کئے تھے۔ خطبہ الٰہ آباد کی اہمیت گھٹانے کی جسارت کرنے والے اور اس حوالے سے ابہام پھیلانے والے سطحی نظر سے مطالعے کے عادی ہیں اور سنسنی خیز بات کرکے توجہ حاصل کرنے(Rating)کے متمنی ہیں اس لئے انہیں وہ امکانی قوتیں اور مستقبل کی صورت گری کرنے والے محرکات نظر نہیں آئیں گے جنہیں علامہ کی باطنی نگاہ دیکھ رہی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد بغور پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ علامہ نے مطالبہ پاکستان کی بنیاد اور اصول واضح کردیا تھا اور وہ تھا اسلامی تمدن کو زندہ رکھنے کیلئے مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک اسلامی ریاست کا قیام اور یہی وہ اصول تھا جس کی بنیاد پر قرار داد پاکستان تشکیل دی گئی اور منظور کی گئی۔ علامہ اقبال کے خطبے میں بنگال کا ذکر نہیں تھا لیکن اگر اس اصول کو مان لیا جاتا تو ظاہر ہے کہ اس کا اطلاق بنگال کے مسلمان اکثریتی علاقوں پر بھی ہوتا، یہی وجہ ہے کہ علامہ نے اسلامی ریاستوں کا ذکر کیا۔ خطبہ الٰہ آباد میں جہاں علامہ اقبال نے اسلامی ریاست کے الفاظ استعمال کرکے اپنے تصور کو واضح کیا ہے وہاں مذہب اور سیاست کی علیحدگی کو بھی اسلامی زندگی کے دائرے سے خارج کردیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ مغرب کا فلسفہ ہے کہ’’مذہب کا معاملہ ہر فرد کی ذات تک محدود ہے مذہب اسلام کی رو سے خدا اور کائنات ، کلیسا اور ریاست اور روح اور مادہ ایک ہی کل کے اجزا ہیں‘‘۔اس لئے اسلام میں مذہب کو سیاست یا ریاست سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
قائد اعظم کے کردار اور بصیرت کا اعتراف ان کے دشمن بھی کرتے ہیں۔ ہمارے دانشوروں کو خطبہ الٰہ آباد میں اسلامی ریاست کا عکس نظر نہیں ا ٓتا جبکہ قائد اعظم اس حوالے سے فرماتے ہیں’’اقبال ا یک عظیم شاعر اور مفکر ہوتے ہوئے کسی سیاستدان سے کم نہ تھے۔ اسلام کے اصولوں پر ان کے پختہ عقیدے اور ایمان کی بدولت وہ ان چندہستیوں میں سے ایک تھے جس نے ہندوستان کے شمال مشرقی خطوں، جو مسلمانوں کے تاریخی اوطان ہیں، میں ایک اسلامی ریاست کے ممکنہ انعقاد پر غور کیا‘‘۔ قائد اعظم کے اس فرمان کے بعد کیا اس حقیقت میں کوئی شک و شبہ رہ جاتا ہے کہ علامہ اقبال کاخطبہ الٰہ آباد ایک روشن نشان منزل تھا۔ علامہ اقبال نے دسمبر1930ءمیں الٰہ آباد کے خطبے میں تو ہندوستان کی فیڈریشن کے اندر یا باہر ایک اسلامی ریاست کے قیام کی بات کی تھی لیکن تیسری گول میز کانفرنس کے موقع پر6دسمبر1933ءکو انہوں نے دل کی بات کھل کر بیان کردی جو دراصل1930ءکے خطبے ہی کاشاخسانہ تھی۔ انہوں نے نہرو کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا’’ہندوستان کے مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ ملک کو مذہبی، تاریخی اور تمدنی بنیادوں پر تقسیم کردیا جائے‘‘۔ (بحوالہ اقبال کی تقاریر بیانات (انگریزی) مرتبہ اے آر طارق صفحہ116)۔(نوٹ:بلوچستان کے ممتاز صحافی لعل محمد شاہین جگر ٹرانسپلانٹ کیلئے شفا اسپتال اسلام آباد میں زیر علاج ہیں، مخیر حضرات سے مدد کی اپیل ہے رابطہ