آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ذیقعد 1441ھ 3؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بورڈ آف انویسٹمنٹ نے دوسری بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کیا جس کا افتتاح وزیراعظم میاں نواز شریف نے کیا۔ دو روزہ کانفرنس میں 29ممالک کے 141غیر ملکی کمپنیوں کے620مندوبین نے شرکت کی جن میں غیر ملکی سفیر، بیرونی سرمایہ کار، پرائیویٹ سیکٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہان شامل تھے۔ مجھے بھی خصوصی طور پر اس سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا تھا جبکہ اس میں بیرونی مندوبین کے علاوہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے ممتاز لیڈرز اور فیڈریشن و چیمبرز کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس میں 7سیکٹرز کو فوکس کیا گیا تھا جس میں ایگریکلچر، آئل اینڈ گیس، کان کنی، انرجی سیکٹر، اسپیشل اکنامک زونز، پاک چائنا اکنامک کاریڈور اور گوادر پورٹس شامل تھے۔کانفرنس میں چاروں صوبوں کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سربراہان نے اپنے اپنے صوبے کے پوٹینشل پر پریذ نٹیشن دیں۔ اسکے علاوہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کارپوریٹ سیکٹر کے سربراہان جن میں جنرل الیکٹرک (GE)کے چیف ایگزیکٹو بھی شامل تھے، نے اپنی کمپنیوں کی پاکستان میں کامیابی کو کانفرنس کے مندوبین سے شیئر کیا۔
میں ان دنوں فیڈریشن کے الیکشن کے سلسلے میں یو بی جی کی قیادت کے ساتھ لاہور، بہاولپور، ملتان، اسلام آباد، پشاور کے دورے پر تھا اور ان شہروں میں بے شمار قارئین ملاقات کیلئے آئے جن کا میں تہہ دل سے مشکور ہوں۔ کانفرنس کی اہمیت کےپیش نظر ہم نے دورہ مختصر کرکے ٹی ڈیپ کے سی ای او ایس ایم منیر، یو بی جی کے چیئرمین افتخار ملک، فیڈریشن کے صدر میاں محمد ادریس، ایس ایم نصیر، سمیع خان، ملک سہیل حسین کے ہمراہ سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کیساتھ دفاع اور پانی و بجلی کے وزیر خواجہ محمد آصف، پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے وزیر شاہد خاقان عباسی، پلاننگ و ڈویلپمنٹ کے وزیر احسن اقبال اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین مفتاح اسماعیل بھی شریک تھے۔ سرمایہ کاری کانفرنس "Vibrant Pakistan" کے بروشر میں پہلی بار پاکستان کے سوفٹ امیج کو منفرد انداز میں پیش کرنے کیلئے ملک کے مایہ ناز چہروں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی، فزکس کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام اور آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کو پیش کیا گیا تھا۔ پاکستان کے اہم محل وقوع اور 19 کروڑ کی آبادی جس میں سے 27 فیصد 20 سے39 سال کے افراد اور 45% مڈل کلاس ہے، کو پرکشش مارکیٹ کی حیثیت سے سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا گیا۔ اسکے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 13سالوں کے دوران پاکستان کے 100 ارب ڈالر سے زائد معاشی، 75000سے زائد جانی نقصان اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو بیرونی مندوبین کے سامنے بیان کیا گیا جسے نہایت سراہا گیا۔ آج میں اپنے قارئین سے کانفرنس کی اہم معلومات شیئر کرنا چاہونگا۔وزیراعظم پاکستان نے بتایا کہ موجودہ حالات میں 3 وجوہات کی بناء پر پاکستان دنیا میں سرمایہ کاری کیلئے ایک پرکشش ملک بن گیا ہے۔ پہلے نمبر پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کی کامیابی ہے۔ نیٹو اور ایساف کی افواج 14 سالوں میں دہشت گردی کے خلاف وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکیں جو ہماری افواج نے اپنے محدود وسائل سے صرف ڈیڑھ سال میں حاصل کرکے دنیا کو دکھائی۔ کراچی میں امن و امان کی بہتر صورتحال خطے کے لوگوں کو دوبارہ اس معاشی و کمرشل حب میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کررہی ہے۔ دوسرے نمبر پر پاکستان کی بہتر معاشی کارکردگی ہے جس میں زرمبادلہ اور بیرونی ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ، افراط زر اور بجٹ خسارے میں نمایاں کمی، روپے کے قدر میں استحکام جیسے مثبت معاشی اشارے شامل ہیں جن کی بنیاد پر انٹرنیشنل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کی ریٹنگ کو بڑھاکر مستحکم قرار دیا ہے اور تیسرے نمبر پر پاک چائنا معاشی راہداری کے 46 ارب ڈالر کے منصوبے جو دنیا کیلئے پیغام ہیںکہ مستقبل میں پاکستان خطے میں ایک اہم کردار ادا کریگا اور معاشی راہداری کے انرجی، انفراسٹرکچر، پورٹس اور ہائی ویز کے منصوبے تکمیل کے بعد خطے میں خوشحالی کا پیغام لائینگے۔ چین نے خطے کے ممالک کو آپس میں ملانے کیلئے اپنی ون بیلٹ ون روڈ پالیسی کا آغاز سب سے پہلے پاکستان سے کیا ہے جو پوری دنیا کیلئے ایک مثبت پیغام ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے گوادر سے کاشغر 2400کلومیٹر تجارتی راہداری میں 25اسپیشل اکنامک زونز قائم کئے جائینگے جس میں سرمایہ کاروں کو ڈیوٹی اور انکم ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہوں گی جس کی وجہ سے وسط ایشیائی ممالک کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک بھی ان منصوبوں میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ دفاع، بجلی اور پانی کے وزیر خواجہ آصف نے بتایا کہ 2017-18ء تک حکومت ملک میں لوڈشیڈنگ ختم کردے گی۔ ملک میں نئے آنے والے پروجیکٹس میں کوئلے، ایل این جی، شمسی، ہوا کے متبادل انرجی کے منصوبے شامل ہیں جن سے 3500 میگاواٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی۔ ملک میں فرنس آئل سے تقریباً 64% اور ہائیڈرو سے 33% بجلی پیدا کی جاتی ہے جبکہ متبادل توانائی سے سستی بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے جس سے ہماری بجلی کی اوسط پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کے نرخ نہ بڑھانے کی وجہ سے حکومت نے 2012-13ء میں 776 ارب روپے، 2013-14ء میں 430ارب روپے اور 2014-15ء میں 221 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے اور ہمارا سرکولر ڈیٹ دوبارہ 300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ملک میں کوئلے سے سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے برآمدی کوئلہ استعمال کرنے کے بجائے مقامی تھرکول کا استعمال کیا جائے گا جس کیلئے پاکستان کے پہلے تھرکول منصوبے کی رواں سال مالی سرمایہ کاری مکمل ہونے کی توقع ہے۔ بجلی کی قلت سے پاکستان میں بجلی کا فی کس استعمال خطے کے ممالک کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ مثلاً بھارت میں بجلی کا فی کس سالانہ استعمال 952 کلوواٹ، چین میں 4000 کلوواٹ، جرمنی میں 7200 کلوواٹ، امریکہ میں 13000 کلوواٹ جبکہ پاکستان میں بجلی کا فی کس سالانہ استعمال صرف 495 کلوواٹ ہے۔ پیٹرولیم و معدنی وسائل کے وزیر شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ پاکستان میں دنیا کے شیل گیس کے ساتویں بڑے ذخائر 586TCF پائے جاتے ہیں اور 2012ء کی پیٹرولیم پالیسی کے تحت روس اور چین پاکستان میں شیل گیس کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایل این جی کی امپورٹ سے 600میگاواٹ نئی بجلی پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ انہوں نے پاک ایران گیس پائپ لائن، ترکمانستان گیس پائپ لائن اور روس کیساتھ حالیہ کراچی لاہور گیس پائپ لائن کے منصوبوں کی تکمیل کے بارے میں بھی بتایا۔ کانفرنس کے دوسرے روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات پرویز رشید، وزیر تجارت خرم دستگیر خان اور دیگر وزراء نے بھی خطاب کیا۔
قارئین! اگر ہم پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کا ایک جائزہ لیں تو پاکستان میں سب سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری 5.2 ارب ڈالر 2007-08ء میں آئی جس میں 1.3 ارب ڈالر امریکہ، دوسرے نمبر پر برطانیہ اور تیسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری تھی جس میں 1.86 ارب ڈالر بینکنگ سیکٹر اور 1.63 ارب ڈالر ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹرز میں ریکارڈ سرمایہ کاری تھی لیکن 2014-15ء میں بیرونی سرمایہ کاری گھٹ کر صرف 851 ملین ڈالر رہ گئی جس میں امریکہ کی صرف 209 ملین ڈالر اور چین کی 255 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ پاکستان کے کیپٹل مارکیٹ کی بہتر کارکردگی کے نتیجے میں اسی دوران پاکستان میں پورٹ فولیو انویسٹمنٹ (اسٹاک ایکسچینج) میں بیرونی سرمایہ کاری 1.77 ارب ڈالر اور مقامی سرمایہ کاری 35.75 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ میری نظر میں ملک کے سوفٹ امیج پیش کرنے اور مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرنے کیلئے پاکستان انویسٹمنٹ کانفرنس کا بروقت انعقاد حکومت کی ایک اچھی حکمت عملی تھی جس کے مستقبل میں مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔