آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
2016 امن نوبل انعام کے حقدار کولمبیاکے 32 ویں صدر یو آن مینوئیل سانتوس کولمبیا میں خانہ جنگی ختم کرانے کی مستقل کوششوں کی وجہ سے قرار پائے۔
جنوبی امریکہ میں مضبوط اور قابض قوتوں کے خلاف جدوجہد کا آغاز امریکہ کی دریافت 1492 ہی سے اسپین اور پرتگال کے جبری تسلط کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔ یہ تحریکیں گواٹے مالا ایکوٹرور، وینزویلا اور بیشتر لاطینی امریکی ممالک میں اسپینش زبان ،مذہبی استحصال اور جبر کے خلاف صدیوں سے جاری ہیں۔ مقامی قدیم باشندے صدیوں سے برقرار سیاسی اور فوجی برتری کے خلاف اپنی زبان، ثقافت اور تہذیب کے تحفظ کے لئے کمزور ہونے کے باوجود برسرپیکار ہیں۔
کولمبیا میں پیپلز آرمی گوریلا تحریک کی شکل میں 1964ء سے منظم ہے۔ امپیریل ازم کے خلاف یہ کمیونسٹ تحریک 13 سے 18 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ جس کا صرف کولمبیا میں پانچ لاکھ مربع کلو میٹر جنگلات پر اثرورسوخ ہے۔ ان کے اتحاد میں کیوبا، سویت یونین اور آئرش ریپبلک آرمی مختلف ادوار میں شامل رہی ہیں، جبکہ پیرو، وینزویلا، برازیل، پناہ اور ایکوٹرور FARC-UP کے نظریاتی حامی ہیں۔ 1985ء میں لیفٹ اور کمیونسٹ قوتوں UNION PATRIOTICA (UP) ہمراہ FARC نے آئینی۔ سوشل اور معاشی اصلاحات کے ذریعے مرکزی دھارے میں شریک ہونے کی کوشش کی۔ یہ ریفارمز حکومت کے بے تحاشہ قوت کے خلاف تھیں۔ 1986ء

میں UP نے کولمبیا کی تاریخ کے مثالی انتخابات جیتے مگر یہ کامیابی ملٹری جنتا کو پسند نہیں آئی۔ اور UP کے صدر JAIME PAPADO اور 4 سے 6 ہزا ر کارکنوں کو قتل کردیا گیا۔ یہاں تک کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے والے 70 فیصد صدارتی امیدواروں کو ہلاک کردیا۔ 1990-98ء کے دوران حکومتی سطح پر FARC-UP اور دوسری مسلح تنظیموں سے مذاکرات جاری رہے لیکن آرمی نے بغیر کسی اطلاع کے اس کے نیشنل سیکریٹریٹ پر حملہ کر دیا۔ جس سے مذاکرات کا تمام عمل سبوتاژ ہو گیا۔ اس عرصے میں فریق قوتوں نے اغواء برائے تاوان، ماورائے عدالت قتل ، گیس سلنڈر مارٹرز، بھتہ، جنسی اور جسمانی تشدد اورڈرگ جیسے تمام ناجائز ذرائع استعمال کئے۔نئی صدی کے آغاز سے مذاکرات کا سلسلہ بنتا ٹوٹتا رہا۔ گوریلا تنظیموں نے کسانوں، مزدوروں، طالب علموں اور سوشلسٹ تنظیموں سے اپنے تعلقات انتہائی مضبوط کر لئے۔ 1994ء سے 2009ء تک نوبل امن یافتہ یو آن سینوٹل سانٹوس نے اپنے اعلیٰ تعلیمی کیریئر کی وجہ سے بطور وزیر تجارت، معاشیات اور نیشنل ڈیفنس سیاست میں اپنا کردار نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔سانٹوس نے تعلیمی اعتبار سے ماہر معاشیات لیکن بطور پیشہ صحافت کو اختیار کیا۔ 1981ء میں ELTIMEMPO نامی اخبار کے ڈائریکٹر رہے۔ یونیورسٹی اور کنساس سے گریجویشن کے بعد کافی پیدا کرنے والی آرگنائزیشن کی جانب سے لندن میں مشیر مقرر ہوئے۔ اس قیام کے دوران لندن اسکو ل آف اکنامکس سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ ہارورڈ کیینڈی کالج سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔
2005ء میں سانٹوس نے سوشلسٹ پارٹی برائے قومی اتحاد قائم کی اور لبرل کنورویٹو پارٹی کے ساتھ سوشل ریفارمز کی راہ ہموار کی۔ 2006ء میں آلائنس کو ALVER URIBE کی صدارت میں حکومت تشکیل دینے کا موقع مل گیا۔ جس میں سانٹوس نے نیشنل ڈیفنس منسٹر کی حیثیت سے FARC اور دوسری گوریلا تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کئے۔ 2008ء میں وینزویلا کے صدر ہیوگو شیواز نے FARC-UP کو تحریک آزادی کی تحریک کے طور پر تسلیم کرلیا۔ اس عمل کو لاطینی امریکہ میں بہت پذیرائی ملی۔ فروری 2008ء میں کولمبیا کے صدر مقام بوگوٹا میں FARC-UP کے خلاف ملین مارچ ہوا۔ مغربی ممالک میں ان تحریکوں کو دہشت گرد تنظمیں قرار دیا جا چکا تھا۔ لیکن لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک انہیں تحریک آزادی کی تحاریک قرار دیتے تھے۔
2007 ءسے 2010ءتک FARC-UP اپنی قوت کے اظہار کی وجہ سے نقطہ عروج پر تھی۔
7 ؍اگست 2010ء کو سانٹوس مرحلہ وار انتخابات میں کامیاب ہو کر کولمبیا کے 32 ویں صدر منتخب ہوئے۔ اب وہ امن مذاکرات کو با آسانی کامیاب بنا سکتے تھے۔ صدر سانٹوس نے 2011ء میں تسلیم کرلیا کہ FARC-UP اور کولمبین حکومت کے درمیان تنازعہ موجود ہے۔ جسے طاقت کی بجائے مذاکرات سے حل کیا جانا چاہئے۔ سانٹوس نے وینزویلا کے صدر HUGO CHAVEZ سے مصالحتی کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ سابق صدر ALVER URIBE نے ان تمام کوششوں پرسخت تنقید کی اور اسے کولمبیا کے لئے سخت نقصان دہ قرار دیا۔اقوام متحدہ کے ماہرانہ اندازوں کے مطابق کولمبیا میں 12 فیصد ہلاکت کی ذمہ دار FARC-UP ہے۔ جبکہ 80 فیصد ہلاکت خیزی کی ذمہ دار پیرا ملٹری اور ملٹری ٹروپس ہیں۔ حکومت کے ملوث ہونے کے کوئی واضح شواہد نہیں ملے۔سانٹوس کو احساس تھا کہ پچھلی حکومتوں سے جنگ بندی کے حصول میں بے شمار غلطیاں ہوئی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر مزاکرات کے دوران ملٹری اور گوریلا تنظمیں اپنے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے سرگرم رہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرسکیں۔
FARC-UP اور کولمبین حکومت نے کیوبا ہوانا میں ایک تجزیاتی معاہدے پر دستخط کئے۔ 5 اکتوبر کو اوسلو ناروے میں دیہی ترقی، معاشی اور معاشرتی ریفارمز، سیکورٹی اور متاثرین کے تعاون کیلئے ٹائم ٹیبل کا ڈرافت تیارہوا۔ FARC-UP نے اغواء برائے تاوان کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی اور اسلحہ بندی کے ساتھ کچھ فوجی اور پولیس افسران کو بطور خیرسگالی رہا کردیا۔
2014ء میں بہت سی چھوٹی تنظیموں نے گفت و شنید کے ذریعے ہتھیار بندی کا اعلان کردیا جس سے FARC کی قوت کمزور ہونا شروع ہوگئی۔ان تمام مراحل میں اقوام متحدہ نے بل کلنٹن اور کوفی عنان کو بطور مبصر اور معاون تمام مذاکرات میں شامل رکھا اور ان معاہدوں کی افادیت کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اپنا پلیٹ فارم مہیا کیا۔جون 2016ء میں فریقین نے ایک مستقل جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ جسے ایک عوامی ریفرنڈم کے فیصلے سے مشروط کر دیا گیا۔ اس معاہدے کی تاریخی حیثیت یہ تھی کہ اس کے ذریعے 50 سالہ تنازع کے ختم ہونے کے آثار نظر آنے لگے۔ جس کی وجہ سے 2 لاکھ بیس ہزار جانیں ضائع گئیں اور 6 ملین افراد کو جان بچانے کے لئے دربدر ہونا پڑا۔2 اکتوبر کو ریفرنڈم میں کولمبین عوام نے یہ معاہدہ 50.24% کی برتری سے رد کردیا۔ کولمبین حکومت فلسطین کے علیحدہ ریاستی حق کو مڈل ایسٹ مسئلے کا بہترین حل تصور کرتی ہے۔ اس کے باوجود ورلڈ جیوشن کانگریس کی طرف سے سانتوس کو SHALOM انعام سے نوازا گیا۔
10 ؍دسمبر 2016ء کو یو آن مینوئیل سانتوس اوسلو کے ٹائون ہال میں امن نوبل انعام سرٹیفکٹ اور ملحقہ رقم حاصل کریں گے جو یقینا کولمبیا کے پُرامن مستقبل پر اثر انداز ہوگا۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں