آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
27دسمبر کو ماسکو میں ایک عجیب و غریب قسم کی کانفرنس ہوئی۔ موضوع تھا ’’داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ اور افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال‘‘۔ اس سہ فریقی اجتماع میں روس، چین اور پاکستان کے نمائندے شامل تھے اور جس ملک کے بارے میں اظہار تشویش کیا جا رہا تھا، اس کا دور دور تک نشان نہیں تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہی مدعا لیکر روس، چین اور پاکستان دو مرتبہ پہلے بھی میٹنگز کر چکے ہیں اور ان میں بھی افغانستان کو شامل کرنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی۔ پہلے دو رائونڈز کو تو ویسے بھی خفیہ رکھا گیا تھا۔ ہو سکتا تھا کہ تیسرا رائونڈ بھی پردہ اخفا میں رہتا، مگر خطہ بالخصوص افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے کانفرنس والوں کو مجبور کر دیا کہ وہ معاملے کو اوپن کریں اور زیادہ سے زیادہ ریاستوں کو اعتماد میں لیں۔ یو این میں روس کے مستقل مندوب نے پچھلے ہفتے سلامتی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام اور عراق سے بھاگنے والے عسکریت پسند افغانستان میں پناہ لے رہے ہیں جو منظم ہو کر دہشت گردی کی کارروائیوں کو روس تک پھیلا سکتے ہیں۔ ایسے میں پاک، چین، روس فورم کو بڑھاوا دینے کی ضرورت ہے اور ماسکو چاہے گا کہ شام اور عراق کے ساتھ ساتھ ترکی اور ایران کو بھی اس میں شامل کرلیا جائے۔ کیونکہ داعش سب کی مشترکہ دشمن ہے اور اس کے خلاف

جنگ بھی مشترکہ ہونی چاہئے، جو سب کے مفاد میں ہے۔
ایسے میں افغانستان کا لہجہ تلخ ہے تو کچھ غیر فطری نہیں۔ مقام حیرت کہ سارا معاملہ جس ملک کے گرد گھوم رہا ہے، وہی اس سے باہر ہے۔ دریں حالات کابل قیادت نے اگر ناراضی کا اظہار کیا ہے اور ماسکو کانفرنس کو افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے تو کچھ غلط نہیں کیا۔ ماسکو کانفرنس میں طالبان کے حوالے سے دی گئی آبزرویشنز پر کابل کے ساتھ ساتھ واشنگٹن نے بھی اظہار تشویش کیا ہے۔ اور وہ ماسکو کے اس موقف سے بھی متفق نہیں کہ ’’امریکہ اور اس کے اتحادی تمام کوشش کے باوجود طالبان کو ختم کرنا تو کجا، کمزور کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ البتہ اتحادیوں کے عسکری جبر کا یہ نقصان ضرور ہوا کہ افغانستان کے بعض علاقے حکومتی عملداری سے نکل گئے اور ایک طرح کا خلا پیدا ہوگیا جس کے باعث داعش کو پائوں جمانے میں آسانی رہی۔ اور اب طالبان، داعش کے خلاف مصروف پیکار ہیں۔ جو افغانستان اور امریکہ کیلئے باعث اطمینان ہونا چاہئے۔‘‘
اس کے برعکس واشنگٹن اور کابل کا موقف یہ ہے کہ روس ایک سازش کے تحت طالبان کو پروموٹ کر رہا ہے اور ان کے سافٹ امیج کی بات کر رہا ہے۔ جبکہ یہ وہی طالبان ہیں، جنہوں نے خطہ کا امن تہہ و بالا کیا اور جن کی حکومت امریکہ نے کوئی 15برس قبل ختم کی تھی اور جن سے نمٹنے کیلئے آج بھی 10ہزار کے لگ بھگ امریکی سپاہ افغانستان میں موجود ہے، وہی طالبان جو اب بھی افغان سپاہ کے خلاف پوری قوت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور جن کے ہاتھوں 5500 افغان فوجی2016 کے ابتدائی آٹھ مہینوں میں مارے جا چکے ہیں، وہی طالبان جن کے بارے میں صدر اشرف غنی پچھلے ہی مہینے دہائی دے چکے ہیں کہ اقوام متحدہ ان پر پابندیاں مزید سخت کرے۔ اس حوالے سے افغانستان میں مقیم امریکی سپاہ کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کا اظہار تشویش بھی لائق توجہ ہے جن کے نزدیک ’’ماسکو اور اس کے حواریوں کی جانب سے طالبان کے وجود اور ان کے فعال کا دفاع کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ افغان قیادت بھی کسی بھی طرف سے طالبان کے حوالے سے نرم گوشے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ایسی تمام کوششوں کو وہ افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف سمجھتی ہے۔ کابل ایک سے زیادہ بار برملا اظہار کر چکا ہے کہ اس کے بارے میں کسی اور کو فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ پاکستان پر بھی ترت الزام لگا کہ اس کی تو پہلے ہی طالبان اور حقانی گروپ کے ساتھ گاڑھی چھنتی ہے۔
26دسمبر کی ماسکو کانفرنس اور اس سے پہلے والے دو عدد سہ مملکتی اجتماعات ماضی کا حصہ بن چکے۔ جن کے حوالے سے شکوے شکایتیں اپنی جگہ۔ مگر منتظمین نے بھی تو یہ سب کچھ نہ کچھ سوچ کر اور کسی حکمت عملی کے تحت کیا ہوگا۔ اب اسپیڈ ورک ہوچکا، تو اس فورم کو وسعت دینے کی ضرورت ہوگی جس پر کام کا آغاز پہلے ہی ہوچکا ہے۔ کابل کی بات میں وزن ہے کہ افغانستان کی بات افغانستان کے بغیر کیسے ہو سکتی ہے؟ دیگر عالمی طاقتوں کی اہمیت بھی اپنی جگہ۔ اور پھر دہشت گردی بنی نوع انسان کی مشترکہ دشمن ہے، جو ایشیا اور افریقہ سے نکل کر یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا تک پھیل چکی۔ جب دشمن سانجھا ہے تو مقابلہ بھی سب کو مل کر کرنا ہوگا۔ بعض سفارت کاروں سے بات ہوئی تو وہ ماسکو کانفرنس کو ایک نئی سردجنگ کا نکتہ آغاز خیال کرتے ہیں اور روس جس انداز میں خطہ میں آپریٹ کر رہا ہے، اسے اس پر گواہ ٹھہراتے ہیں کہ نئی صف بندی کا آغاز ہوچکا۔ بڑی طاقتوں کی چوہدراہٹ اپنی جگہ مگر فی الحال اسے بیک برنر پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دہشت گردی کی شکل میں درپیش خطرے کو لائٹ نہیں لیا جا سکتا۔ پہلے اس سے نمٹ لیں باقی عیاشیاں پھر سہی۔




.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں