• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیاری کا ڈان، موت کا سوداگر، بابالاڈلا انجام کو پہنچ گیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)رینجرز نے لیاری میں خوف کی علامت گینگ وار سرغنہ بابا لاڈلا ،سکندر عرف سیکو سمیت 3کمانڈرزکوشدید مزاحمت اور مقابلے کےبعدہلاک کردیا ،دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ سند ھ رینجرز نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بابا لاڈلہ کی ہلاکت جرائم پیشہ افرار کیلئے پیغام ہے، تینوں دہشتگردوں کی لاشیں  قانو نی کارروائی کے بعد  سرد خانے منتقل کر دی گئیں ، تر جمان  سندھ رینجرز کے مطابق  با با لاڈلا 74واقعات میں پولیس کو مطلوب تھا، بابا لاڈلہ سمیت تینوں دہشت گرد 100سے زائد افراد کے قتل پولیس اہلکاروں کے قتل دستی بم حملوں منشیات فروشی سمیت مخالف کمانڈر ارشد پپو کے اغوا اور قتل میں بھی ملوث تھے ،تفصیلات کے مطابق رینجرز کو مصدقہ اطلاع ملی تھی  کہ لیاری پھول پتی لین میں  گینگ وار کابدنام زمانہ  اور انتہائی مطلوب دہشت گرد  نو ر محمد عرف بابا لاڈلہ اپنے 2کمانڈروں سکندر عرف سیکو اور یاسین ماما کے ہمراہ موجودہے اور لیاری پر قبضے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے ،دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی رینجرز نے پھول پتی لین کا محاصرہ کرلیا اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کی جانب پیش قدمی شروع کردی جس کو دیکھ کر دہشت گردوں نے رینجرز پر جدید ترین ہتھیاروں اور دستی بموں سے حملہ کردیا ، دہشتگرد 35منٹ تک رینجرز سے مقابلے میں مصروف رہے ،بعد ازاں رینجرز نے شدید مزاحمت کے باوجود مقابلے میں تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے جدید ترین اسلحہ اور بم برآمد کرلیے،دہشت گردوں کی لاشیں سول اسپتال منتقل کی گئیں جہاں سے کارروائی کے بعد لاشوں کو سرد خانے منتقل کردیا گیا ،رینجرز ترجمان کے مطابق نور محمد عرف بابالاڈلہ لیاری میں خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا اور اس نے لیاری میں درجنوں ٹارچر سیل بنائے ہو ئے تھے جہاں پر مخالفین کو اغوا کے بعد بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا ،ترجمان نے مزید کہا کہ با با لاڈلہ 74واقعات میں پولیس کو مطلوب تھا جبکہ درجنوں افراد کے قتل میں بھی ملوث تھا ،یکم ستمبر 2010کو ملا لطیف نامی شخص کو قتل کیا ،اپریل 2012میں پولیس پر حملہ کرکے 2اہلکار ہیڈ کانسٹیبل فیاض اور سپاہی طفیل کو قتل کیا ،ڈالمیا میں مخالف کمانڈر حاجی اسلم کو بیٹوں سمیت 5افراد کو قتل کیا ،عزیر بلوچ کے ساتھ مل کر اس نے مخالف کمانڈر ارشد پپو سمیت 3افراد جن میں یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کو ڈیفنس سے اغوا کیا لیاری میں لاکر بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے لاش کو آگ لگادی تھی ۔مارچ 2013میں اس نے 3افراد کو اغوا کے بعد قتل کیا ،سکندر عرف سیکو کے حوالے سے ترجمان کا کہناہے کہ دہشت گرد 15واردا توں میں پولیس کو مطلوب تھا جو کہ بابا لاڈلہ کا خاص کارندہ سمجھا جاتا تھا ۔اپریل 2012میں اس نے ایس ایچ او فواد کو قتل کیا ،2012میں ہیڈ کانسٹیبل آصف،جون 2013میں 2افراد کو قتل کیا ،جبکہ اسلحہ ترسیل میں بھی ملوث تھا ،یاسین عرف ماما کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھا ،کچھی رابطہ کمیٹی کے افراد کے اغوا اور قتل میں بھی شامل رہا ،جبکہ لیاری میں منشیات فروشی کا نیٹ ورک بھی چلاتا تھا ۔دوسری جانب مقابلوں میں ہلاک ہو نے والے دہشت گردوں کی لاشیں ورثا نے ایدھی سرد خانے سے وصول کرلی ہیں، دریں اثنا  سندھ رینجرز نے کہا ہے کہ لیاری پھول پتی لین میں مقا بلے میں  ہلاک ہونے والا لیاری گینگ وارسرغنہ  بابا لاڈلہ منشیات فروشی اغوابرائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھااور اس کی ہلاکت ان  تمام نوجوانوں  جو بابالاڈلہ سے متاثرہوکر جرائم میں ملوث یا اس سے منسلک ہیں ان کے لیے ایک پیغام ہے وہ قانون کی گرفت سےبچ  نہیں سکتے،  پا کستا ن رینجرزسندھ  نے مزید کہا کہ جر ائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت اورفوری کارروائی جاری رہے گی۔  
اہم خبریں سے مزید