• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
عظیم الشان، مرزا غالب کا یہ مصرع کالج کے زمانے سے طالبعلم کو حیران اور مسحور رکھتا ہے، چھوٹے سے اس مصرعے میں معانی اور نئے معنوں کے امکانات کی لامحدود دنیا نظر آتی ہے، اسلامی تصوف کے دور اول میں صوفیوں کے قافلے کے تین رہنما، ایک وقت، ایک شہر، ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔ دل کے رازوں کو جاننے والے باطن میں جھانکتے، ایک دوسرے کی نیت اور مقدر پر نظر ڈالتے ہوئے، ایک دوسرے سے یوں ٹکراتے جوں بجلی کے بڑے گرڈ اسٹیشن سے نکلی ہوئی موٹی تاریں اچانک ننگی ہو کر ایک دوسرے کو چھو جائیں تو پھر تیز روشنی کی چکاچوند، شعلے اور دھماکے بھی، جو تار تھوڑی کمزور ہے، وہی پگھل کے بہہ جائے گی۔ تصوف کے اس بجلی گھرمیں جنیدبغدادیؒ، شبلی ؒ، اور حسین ابن منصور حلاج ایسی ننگی تاریں ایک دوسرے کو چھو گئی تھیں مگر آج تک یہ فیصلہ نہ ہو سکا، ان بھڑکتے شعلوں میں کون جلا، کون بچ رہا مگر یہ ہوا کہ اس دن سے تصوف اور فقر کا رستہ دو شاخوں میں بٹ گیا، تب سے آج تک یہ لکیریں ریل کی پٹری کی طرح متوازی چلی آتی ہیں، تصوف کی گاڑی انہی پٹریوں پر چلتی ہے، مگر یہ آپس میں ملتی ہیں نہ پوری طرح جدا ہوتی ہیں۔ ایک بھید تھا، سینوں میں چھپا، جیسے زیرزمین کھولتا ہوا لاوا، جو کمزور سطح زمین کو پھاڑ کے باہر نکل پڑے، جسے ہم آتش فشاں کہتے ہیں۔ یہاں پر یہ ہوا کہ جس فقیر کی تہہ کمزور تھی وہ پھٹ گئی اور ’’انا الحق،، کا لاوا پھوٹ پڑا ؎
تو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا، سینہ کائنات میں
منصور حلاج کا بیٹا حسین، بھید تو پا گیا لیکن راز نہ رکھ سکا، حضرت اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ ؎
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
منصور حلاج کے بیٹے نے بھی تو بھری بزم میں بھانڈا پھوڑ دیا، راز کہہ دینے میں کچھ بھگتنا تو ہوتا ہے مگر کس کو؟ یہ سوال اب بھی باقی ہے۔ ویسے یہ راز کوئی ایسا بھی راز نہ تھا، جنید بغدادی آگاہ تھے، شبلی بھی اور حسین ابن منصور کی بڑی بہن برسوں سے اس بھید میں رازدان تھیں، ابن منصور نے یہ رازاپنی بہن سے پایا، اس کے بچ رہنے والی ’’دردِ تہہ جام،، کے چکھ لینے سے سینے کے اندھیروں میں تیز روشنی کا ایک کوندا، اس میں جو کچھ نظر آیا وہ ابن منصور کی حد اور جسارت سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ بادشاہ بھڑک اٹھا، جنیدؒ نے خشک لکڑی کی نوید سنائی، شبلی ؒ خاموش رہا، اس نے زبان کھولی نہ گواہی دی، تین روشن ضمیر مردوںمیں چوتھی حسین ابن منصور حلاج کی بہن، سب ہی ایک دوسرے کی نیت اور مقدر کو پڑھتے ہوئے، جنیدؒ نے جب خشک لکڑی کا ذکر کیا تو حسین ابن منصور نے کہا، تب آپ بھی فقر کی دستار اتار کر قصا کا ’’جبہ،، پہن لو گے، اور شبلی ؒ خاموش ان کی رازدارانہ گفتگو پر ہونٹوں کی جنبش کے بغیر مسکراتا رہا۔ لکڑی کے ذکر میں ابن منصور کیلئے پھانسی کا ڈراوا تھا تو قضا کے ’’جبے،، میں جنیدؒ کی آنے والی ناگوار فیصلے کی تائید اور شرکت کی اطلاع تھی۔ پھر وہی ہوا، ابن حلاج ’’انا الحق،، کے جرم میں معتوب ٹھہرا تو جنیدؒ قاضی کے لباس میں فتوے کی تائید پر مجبور، سولی پر چڑھائے جانے سے پہلے اس کا ایک ایک عضو کاٹا گیا، ہاتھ، پائوں، ناک، کان، ہاتھ کٹے تو اس نے خون بہتے ٹنڈ منڈ بازوئوں کو اپنے منہ پر پھیرا تو تازہ لہو سے چہرہ گلنار ہو گیا، بولا بے وضو نماز نہیں اور نماز عشق کیلئے اپنے لہو سے اچھا وضو کہاں؟ تماشائیوں نے اسے دین کا گنہگار سمجھ کر پتھر مارے تو برستے پتھروں میں ایک پھول بھی تھا، جو شبلی ؒ کی طرف سے پھینکا گیا تھا، تب ابن حلاج نے کہا، پتھروں کی کوئی ضرب ناگوار نہیں مگر اس پھول نے مجھے گھائل کیا کہ ؎
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
کہتے ہیں یہ سزا نہیں، دعویٰ ’’انا الحق،، کیلئے آزمائش تھی، بڑی آزمائش لیکن غالب کے مصرعے پر غور کرتے ہوئے ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے، یہ کس کی آزمائش تھی، حلاج کی؟ یا اس بہن کی، جس نے بھید پانے کے باوجود اپنے پیالے سے گھونٹ پینے دیا، جنیدؒ کی جس نے لکڑی کے راز کو جانتے ہوئے اپنے شاگرد کو روکا نہ اس کے خلاف فیصلے میں شرکت سے باز رہ سکا، یا شبلیؒ کی جو ہاتھ میں پھول لئے بے رحم تماشائیوں کے بیچ یہ دردناک منظر دیکھنے کو موجود رہا، نہیں شاید یہی مقدر ہے لوح ازل پر لکھا، کوئی بھی اس سے بچ سکا نہ کوئی بھاگ پائے گا، جنیدؒ و شبلی ؒ بدل سکتے تھے نہ بہن کا اضطراب روکنے پر قادر تھا، سب نے اپنے لکھے کو پورا کیا، پھر بھی کھل نہ سکا کہ یہ آزمائش کس کی تھی؟ کیا ہمارے باپ خلیل اللہ ابراہیم ؑ کو آگ سے آزمایا گیا تھا؟ یا آگ کو ابراہیم ؑ سے کہ آگ کو اپنی ازلی فطرت کو بدلنا پڑا، ابراہیم ؑ کیلئے اور فطرت کو بدل لینا کیا آسان رہا ہوگا۔ کیا منصور کے بیٹے کو موت سے آزمایا جا سکتا تھا، جو ہمیشہ اپنی روح دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کی پوروں کے درمیان لئے پھرتا تھا اس کو لوٹانے میں دیر نہ ہو جائے، جوں شبنم کا قطرہ سورج کی کرن کے ساتھ بیتابی سے پرواز کرتا اپنے سمندر کی طرف قطرے سے سمندر بننے کو یا سورج کی کرن شام ڈھلتے ہی مہر تاباں کے بوسے کو پلٹتی ہے، شاید یہ سولی کے تختے اور پھانسی کے پھندے کی آزمائش تھی جو مجرموں ، باغیوں، گناہ گاروں کیلئے بنائے گئے کہ وہ انہیں اذیت کے ساتھ دردناک موت کا مزہ چکھائیں لیکن ایک دن ابراہیمؑ خلیل اللہ کی آگ کی طرح خود منصور کے ہاتھوں درد و اذیت کا شکار ہوئے، بارہ (12) طویل صدیاںگزرنے پر بھی منصور تو آج بھی زندہ ہے، ہر مذہب و فکر کے کروڑوں انسانوں کی دعائوں اور یادوں میں ہنستا مسکراتا ہوا۔ اب حلاج کا بیٹا ہے نہ جنیدؒ او رشبلیؒ مگر مقدر کا کھیل اور آزمائش کی کی گھڑیاں۔ یہ نہ ختم ہونے والا ازلی سلسلہ ہے، جسے ابد تک رہنا ہے، ایک مرتبہ پھر آزمائشوں کے پھندے لگے ہیں لیکن اب کے بار پلڑے میں تلنے والا پیر، پیغمبر ہیں نہ درویش او رصوفی، اب کے یہ گھڑی مملکت خداداد پر اتری ہے، جس نے خود کو پاک لوگوں کی سرزمین کہا،صدیوں بعد مسلمانوں کی آرزوئوں کی تکمیل کا عہد باندھا، وعدہ تو کیا اپنے خدا سے۔ پھر طویل خاموشی، خاموشی کو ایک دن ٹوٹنا ہی تھا۔ قیامت سے پہلے کا روز حساب، آزمائشوں کی گھڑیاں فیصلوں کے دن۔ اللہ کی دی پاک زمین پر بندوں کو بھنبھوڑنے اور لوٹ کھانے والوں کا یوم حساب، پاناما کے دو ر سمندر سے اٹھی لہر پاکستان کے ساحل سے آن ٹکرائی ہے، مجرم نامی ہیں، جرم سنگین، تختے کرم خوردہ، پھندے بوسیدہ، بڑے جرم کے بھاری مجرم بوجھ اٹھا پائیں گے یا ان کی بوسیدگی زمانے کے استہزا کا باعث بنے گی؟ ملک کے نظام اور اداروں کی حالت دیکھتے ہوئے خیال آتا ہے، آج پاناما کے پردے میں جو راز نمایاں اور جرم ہویدا ہیں، اس میں کون کون کس طرح آزمایا جائے گا۔ ریاست کے سب ادارے، سارے ستون آزمائے گئے، فوج اور عدلیہ کسوٹی پر کسے ہیں، باقی سب کرم خوردہ لکڑی کی طرح بودے اور کھوکھلے نکل آئے، ذرا بھی بوجھ نہ سہارا ، دھم سے آن گرے۔ پارلیمنٹ، ایف آئی اے، نیب نہ ایف بی آر، سب نے سپریم کورٹ کے روبرو سچ بتایا کہ ہم ریاست کے اخراجات پر پلنے والے ذاتی ملازم ہیں، جنہیں عوام کو لوٹنے کی اضافی سہولت بھی میسر ہے۔ ہمیں جس آقا نے دفتر دیا اس کے مفاد کا تحفظ کریں گے، مفادات کی حدود اور تفصیلات وہی ہوں گی ، جو آقائے ولی نعمت خود طے کریں۔ آج کسی فقیر کے ذریعے نہیں، ایک دولت مند حکمران کے ذریعے، عدل، نظام عدل، ریاست، عوام اور اداروں کی آزمائش ہے۔ نیب، پارلیمنٹ، ایف آئے اے، ایف بی آر، رائے عامہ کے بڑے ادارے مکھیوں کی طرح زہریلے ’’گڑ،، پر منڈلاتے ہیں اپنی ہلاکت سے بے خبر، اس لئے کہ میٹھا جو ہے!


.
تازہ ترین