• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علماء کی ردالفساد کی حمایت،حافظ سعید کی نظر بندی کے خاتمہ کا مطالبہ

اسلام آباد ( خصوصی نامہ نگار ،آن لائن ) وفاقی دارالحکومت کی مختلف مساجد سے ایک سو سے زائد علماء و خطباء نے آپریشن ردالفساد کی مکمل حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلا تفریق و مسلک اور سیاسی وابستگی کے بغیر ملک میں فسادکرنے والوں کے خلاف آپریشن کیا جائے ، دہشت گردی کی حالیہ لہر اور دھماکوںکیخلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں ہونیو الی تخریب کاری اور دہشت گردی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں۔ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے‘ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ  حافظ محمد سعید و دیگر رہنمائوں کی نظربندی فی الفور ختم کی جائے۔ جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام جامع مسجد قبا ء آئی ایٹ مرکز میں ہونے والے ’’علماء کنونشن ‘‘ میں وفاقی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زائد علماء نے شرکت کی  جن میں جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا سیف اللہ خالد، مولانا نصر جاوید، مولانا سعید طیب بھٹوی ، حاجی جاوید الحسن ، مولانا ابو محمد سلفی، شفیق الرحمن ،پروفیسر عبدالستا ربھٹی ، قاری محمود الرحمن،مولانا مفتی ابو زید، پروفیسر شاہد ترمذی،عبداللہ حنیف و دیگر  شامل ہیں ۔ اس موقع پرعلماء کنونشن کا اعلامیہ جاری کیا گیا ،علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سیف اللہ خالد نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور بم دھماکوںمیں بھارت سمیت دیگر دشمن قوتیں ملوث ہیں۔ تخریب کاری اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ملک سے بیرونی قوتوں کی مداخلت ختم کی جائے۔ جہاد کے نام پر قتل و غارت کرنے والے اسلام کے نمائندے نہیں ہیں ۔اس موقع پر حافظ محمد سعید نے سال 2017 ء کو کشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیا۔ مولانا سعید طیب بھٹوی ، حاجی جاوید الحسن ، مولانا ابو محمد سلفی، شفیق الرحمن و دیگرنے کہا کہ توہین رسالت کے قانون پر عملدرآمد کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔  
تازہ ترین