آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عدم تشدد کے پرچارک باچا خان کے نام پر چارسدہ میں قائم کردہ یونیورسٹی میں اگلے روز دہشت گردی کا جو بہیمانہ واقع رونما ہوا ، اس نے امریکی صدر باراک اوباما کے بیان کو چیلنج کرنے کی ہماری پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے ۔ امریکی صدر نے کچھ دن پہلے یہ پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان اور افغانستان سمیت دنیا کے کئی ممالک اور خطے آئندہ کئی دہائیوں تک عدم استحکام کا شکار رہیں گے ۔ کیا پاکستان واقعی آئندہ کئی عشروں تک بدامنی اور خونریزی کی آگ میں جلتا رہے گا ؟اب وقت آ گیا ہے کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کے داخلی حالات کا معروضی تجزیہ کیا جائے اور ان حقائق کو تسلیم کر لیا جائے ، جو شرمندگی یا مخصوص مفادات کی وجہ سے ہم تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ممتاز امریکی مورخ اور مصنف پال کینیڈی نے اپنی کتاب ’’ 21 ویں صدی کے لیے تیاری ‘‘ میں بہت پہلے ہی یہ پیش گوئی کر دی تھی کہ21 ویں صدی چین اور بھارت کی صدی ہو گی ۔ یہ دونوں ممالک سپر پاورز کی حیثیت سے ابھریں گی اور اپنی بڑی معیشتوں کی بنیاد پر عالمی سیاست پر اثر انداز ہوں گی ۔ پال کینیڈی کی پیش گوئی درست ثابت ہو رہی ہے ۔ ہمیں یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ پاکستان کے مشرق میں دو سپر پاورز اپنے علاقائی اور عالمی ایجنڈے کے ساتھ اپنی ’’ مسل پاور ‘‘ ( Muscle

Power ) کا بھی اظہار کرنے لگی ہیں ۔ اس وقت دنیا کی آبادی تقریباً 7 ارب 40 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے ۔ اس میں سے چین کی آبادی ایک ارب 40 کروڑ اور بھارت کی آبادی ایک ارب 30 کروڑ ہے ۔ اس طرح دنیا کی 2 ارب 70 کروڑ ( 36.48 فیصد ) آبادی صرف ان دو ملکوں میں رہتی ہے ۔ اتنی بڑی آبادی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دونوں ملکوں نے صنعت کاری کو ترجیح دی ہے اور اب انہیں اپنی صنعتی پیداوار کے لیے پوری دنیا کو اپنی منڈی بنانا ہے ۔ سستی لیبر کی وجہ سے مغرب بھی اپنی صنعتیں یہاں منتقل کر رہا ہے ۔ اس سے مغربی ممالک کو دو فائدے ہوں گے ۔ ایک تو ان ممالک میں ماحولیات کو نقصان نہیں پہنچے گا اور دوسرا آبادی کا دباؤ ان کی طرف نہیں ہو گا ۔ چین اور بھارت دونوں کے لیے پاکستان ایک راہداری ہے ، جہاں سے وہ وسطی ایشیاء ، مشرق وسطیٰ اور آگے کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ نئی سامراجی طاقتیں ہیں ، جن کا قدیم اور روایتی سامراجی طاقتوں کے ساتھ ’’ مخاصمانہ دوستی ‘‘ کا رشتہ قائم رہے گا کیونکہ ایک طرف یہ دونوں ممالک کثیر القومی کمپنیوں کی ’’ لیبر کالونیاں ‘‘ ہیں اور دوسری طرف وہ قدیم سامراجی طاقتوں کی بالادستی کو ایشیا اور بحر الکاہل میں چیلنج بھی کر رہے ہیں ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے ، جہاں سے امریکا اور اس کے حواری چین کو کسی حد تک قابو ( Contain ) کر سکتے ہیں ۔ ان کی لازمی طور پر یہ خواہش ہو گی کہ چین اور بھارت کی راہداری پاکستان میں عدم استحکام رہے ۔ پاکستان کے مغرب میں روس ایک بار پھر عالمی طاقت کے طور پر ایک نئے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور وہ نئی صف بندیوں کے لیے کوشاں ہے ۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں والی ریاستیں بھی نئی صف بندیوں میں دلچسپی لے رہی ہیں ۔ ایران اس معاملے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ ہمارے مغرب میں ہونے والی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے بھی پاکستان اور افغانستان میں بدامنی کی آگ نہیں بجھنے دی جائے گی ۔پاکستان کے جنوب مغرب میں کچھ خلیجی ممالک کی معیشتوں کا انحصار بھی پاکستان میں عدم استحکام پر ہے کیونکہ انہیں پاکستان سے نہ صرف سستی لیبر میسر آتی ہے بلکہ پاکستان سے ’’ برین ڈرین ‘‘ بھی ہوتا ہے اور اس خطے کی تجارت ان خلیجی ممالک کی بندرگاہوں سے ہوتی ہے ۔ اہم اور بہترین جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان عدم استحکام کے حقیقی اور بڑے خطرات سے دوچار ہے ۔ ’’ اے روشنی طبع تو برمن بلاشدی ‘‘ ۔ امریکی صدر باراک اوباما نے پیش گوئی کو ان علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو بہت خوف ہوتا ہے ۔ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات میںاب ہمیں یہ درد ناک حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ عدم استحکام پاکستان کا ’’ جینیاتی ‘‘ مسئلہ ہے ۔ سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان امریکی سینٹرل کمان کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا رہا ہے اور پاکستان کی فرنٹ لائن فورس نسلی ، فرقہ وارانہ اقلیتی انتہا پسند گروہ بنے رہے ،جو پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان کی اکثریتی آبادی کی تہذیبی ، ثقافتی اور جغرافیائی حقیقتوں کے خلاف کام کرتے رہے اور پاکستان کے عوام پر مسلط رہے ۔ ان گروہوں نے پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو پنپنے نہیں دیا اور تاریخی ارتقائی عمل میں رکاوٹیں پیدا کیں ۔ان گروہوں نے باچا خان کی سوچ کے خلاف کام کیا ۔ یہ گروہ لوگوں کو ان کے ’’ نیوکلئیس ‘‘ سے دور ہٹاتے رہے اور اس خطے کا وہ قدرتی سکیورٹی حصار توڑ دیا گیا ، جو لوگوں نے اپنی تہذیب وثقافت اور معیشت کے دفاع کے لیے بنا رکھا تھا ۔ پاکستان میں سیاسی ، سماجی اور داخلی انتشار کی تاریخ نائن الیون سے شروع نہیں ہوتی ہے ، جس طرح اس خطے کی تاریخ پاکستان بننے کے بعد سے شروع نہیں ہوتی ہے ۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہماری عدم استحکام کی تاریخ قیام پاکستان سے ہی شروع ہوتی ہے ۔ آج بھی اس افسوس ناک حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ ہماری ریاست ان اقلیتی گروہوں پر اپنی ’’ ناگزیر انحصاریت ‘‘ کو کم کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والی کارروائیوں کا تجزیہ کرنے اور ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ سرد جنگ کا زمانہ نہیں ہے ۔ پرانی سامراجی طاقتیں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو ایک نئی شکل دے رہی ہیں اور وہ دنیا کو تباہ کن مصنوعی جنگوں میں الجھا کر رکھنا چاہتی ہیں تاکہ دنیا میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور غربت کے باعث حقیقی تضادات کوئی دوسرا رخ اختیار نہ کر سکیں ۔ یہ طاقتیں اب اپنے مقاصد ریاستوں کی بجائے براہ راست غیر ریاستی جنگجو اور انتہا پسند گروہوں سے حاصل کر رہی ہیں ۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں عدم استحکام کے عذاب سے نجات حاصل کریں تو ہمیں اپنی جینیاتی مسئلے سے نجات حاصل کرنا ہو گی ۔ پاکستان کی ریاست کو اپنی ’’ ڈاکٹرائن ‘‘ تبدیل کرنا پڑے گی اور عوام کے ساتھ ساتھ حقیقی عوامی قومی جمہوری قوتوں پر اپنا انحصار بڑھانا پڑے گا ۔تلخ حقائق میں یہ تلخ فیصلہ کرنا پڑے گا ۔ پاکستان کو ایران اور بعض عرب حکومتوں کی طرح دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں اپنی بہت زیادہ ’’ انگیجمنٹ ‘‘ (Engagement ) کو بھی کم کرنا پڑے گا ۔ پاکستان کی موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت ماضی کی پالیسیوں سے بہت حد تک ہٹ کر کام کر رہی ہیں ،جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن اس سے بھی زیادہ آگے جانے کی ضرورت ہے ۔ماضی میں جو ہوا ، سو ہوا ۔ بچوں کی لاشیں اٹھانا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ ماضی اور حال کی تباہ کاریوں پر اتنا دکھ نہیں ہوتا ، جتنا اپنے مستقبل کا جنازہ اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ یہ کالم تحریر کرتے ہوئے ہمارے دوست تاج گوپانگ کا ایک ایس ایم ایس موصول ہوا ، جس میں انہوں نے پابلو نرودا کی نظم ’’ میں چند چیزوں کی وضاحت کر رہا ہوں ‘‘ کی آخری سطور تحریر کی ہوئی تھیں ۔ ’’ ۔۔۔ اور تم پوچھو گے کہ میری شاعری خوابوں کی بات کیوں نہیں کرتی ہے اور میری دھرتی پر بڑے بڑے آتش فشاں کیوں پھٹاتی ہے ۔۔۔ آؤاور گلیوں میں خون دیکھو ۔۔۔ آؤ اور گلیوں میں خون دیکھو ۔۔۔ آؤ اور گلیوں میں خون دیکھو‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں