آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
(گزشتہ سے پیوستہ)
وردی تبدیل کرنے سے کہیں بہتر ہوتا اگر آئی جی پنجاب تھانہ کلچر اور پولیس کا نظام بدلنے کی مخلصانہ کوششیں کرتے۔ پنجاب میں پولیس کا نظام انتہائی ابتری کا شکار رہا ہے۔ پولیس کا محکمہ جبر و تشدد، لاقانونیت اور کرپشن میں ناکوں ناک دھنسا ہوا ہے، یہاں تک کہ مقامی تھانوں کے چھوٹے سے بڑے سب اہلکار جرائم میں براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔ پولیس اصل مجرموں کو بچانے اور بے گناہوں کو پھنسانے کیلئے دکانداریاں لگاکر بیٹھی ہے۔ تفتیشی عمل اتنا غیر اخلاقی ہے کہ کوئی بھی شریف آدمی پولیس کے نام سے خوف کھاتا ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان میں کہیں اگر تھانہ کلچر کسی حد تک تبدیل ہوا ہے تو وہ صرف خیبر پختونخوا میں ہوا ہے۔ اس کے بعد بلوچستان میں بھی جرائم کی شرح خاصی قابو میں ہے۔ سب سے خوفناک تھانہ کلچر پنجاب اور سندھ میں پایا جاتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ تھانوں پر سیاسی لوگوں کا تسلط اور پولیس میں سیاسی بھرتیاں ہیں۔ اس تھانہ کلچر کی جڑیں برطانوی سامراج میں جانکلتی ہیں۔ آج پنجاب اور سندھ میں ہمیں جس پولیس سے واسطہ پڑتا ہے، اصل میں وہ انڈین امپیریل پولیس ہی کی ایک شکل ہے جس میں وقت کیساتھ ساتھ مزید قباحتیں پیدا ہوئی ہیں۔ بھارت میں تو 1948ء میں امپیریل پولیس کو انڈین پولیس سروس میں تبدیل کرکے اس میں

زمینی حقائق کے مطابق خاطر خواہ اصلاحات لائی گئیں مگر پاکستان میں پولیس کے محکمہ کو جوں کا توں رکھا گیا اور ہر علاقہ میں اسے وڈیروں، چوہدریوں، خانوں اور سرداروں کا دم چھلا بناکر حکومتیں اپنے مقاصد و مفادات حاصل کرتی رہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پنجاب پولیس کی وردی تبدیل کرنے کے بجائے حکمران اگر پولیس آرڈر 2002ء ہی کو اپنی اصل شکل میں بحال کردیتے تو تھانہ کلچر کا خاتمہ یقینی تھا۔ جدید کمیونٹی پولیسنگ کیلئے فرنٹ ڈیسک کے قیام، کیمرہ مانیٹرنگ، پولیس انٹیلی جنس سسٹم کیلئے جدید سافٹ ویئرز کی دستیابی اور پولیس اہلکاروں اور افسروں کے پرسنل اینڈ سروس ڈیٹا کو آن لائن کئے جانے جیسے اہم اقدامات بھی زیرو ہیں اگر پولیس کی ذہنیت تبدیل نہیں ہوگی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک صوبے میں پولیس یونیفارم کی تبدیلی انتہائی تلخ تجربہ ثابت ہوسکتا ہے جو لسانی آزادی کو غلط رنگ دے گا۔ یہ کام صوبوں کو نہیں بلکہ وفاق کو صوبوں کی مشاورت سے کرنا چاہئے تھا اور اگر ضروری ہی تھا تو چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی علاقہ جات میں بھی ایک ہی طرح کی پولیس یونیفارم متعارف کروائی جاتی جسے بیرونی دنیا پاکستان پولیس کے نام سے پہچانتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت اس فیصلہ پر فی الفور نظر ثانی کرے اور وردی کے بجائے تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے ورنہ پنجاب پولیس کیساتھ ساتھ پنجاب حکومت کی بھی مفت میں جگ ہنسائی اور سبکی ہوگی۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں