• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب کوئٹہ ”قوئٹہ“ بنا دیا گیا,,,,قصہ مختصر…عظیم سرور

پاکستان میں دو شہر یعنی پاکستان میں ایک کراچی اور دوسرا کوئٹہ۔ دونوں شہروں کے دامن میں بڑی وسعت ہے دونوں شہروں نے اپنی باہنوں کو سب کے لئے کشادہ کیا ہے۔ کوئٹہ شہر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے باشندے کم از کم 6 زبانیں بولتے اور سمجھتے ہیں اردو، پشتو، بلوچی، براہوی، فارسی اور پنجابی کے علاوہ کئی لوگ انگریزی بھی جانتے ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے بلوچستان واحد صوبہ تھا جہاں کی دفتری اور عدالتی زبان اردو تھی۔ کوئٹہ محبتوں اور خلوص کا شہر ہے امن کے اس شہر میں ایک زمانے میں محبت کی بولی کے سوا کوئی بولی نہ تھی۔ کوئٹہ میں 14/اگست بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا، پورے شہر میں چراغاں ہوتا تھا جناح روڈ پر حاجی فتح خان کے شوز کے آگے قوالی کی محفل جمتی تھی اور سارے لیڈر یہاں آتے تھے۔
کوئٹہ یاد آتا ہے سنڈیمن اسکول کی دسویں جماعت کے طالب علم معراج محمد خان کی تقریروں کی بڑی پذیرائی ہوتی وہ ہر مقابلہ جیتا کرتا تھا۔ سنڈیمن اسکول اس وقت مالی باغ والی عمارت میں تھا مالی باغ کے لان میں میلے ہوتے تھے یہاں خان عبدالغفار خان، عبدالصمد اچکزئی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے جلسے بڑے کامیاب رہتے تھے۔ 50 کی دھائی میں 14/اگست کے دن رند قبیلے کے سردار تاج محمد رند کی شادی ہوئی اس دن سردار خیر محمد مری کی بھی شادی ہوئی۔ تاج محمد رند کے دوست رؤف ہاشمی نے ان کو یہ کہہ کر مبارکباد دی کہ سردار صاحب آپ کی شادی پر پورے کوئٹہ کیا پورے پاکستان نے چراغاں کیا ہے۔
گرمیوں میں کوئٹہ کی کشادگی میں اضافہ ہو جاتا۔ بہاولپور ہاؤس میں مشہور مصنف رئیس احمد جعفری کا ڈیرہ ہوتا تھا وہ بیوی بچوں اور کاتب کے ساتھ قیام کرتے اور یہاں کتابیں تحریر کیا کرتے تھے۔ مخدوم طالب المولیٰ بھی گرمیوں میں کوئٹہ آتے شام کو جناح روڈ پر وہ خاکی قمیض شلوار میں ملبوس چہل قدمی کرتے اور پھر فرح ہوٹل میں چائے پیتے تھے۔ کوئٹہ کے جناح روڈ پر آنے والوں میں الجزائر کا مجاہد آزادی محمد بن بیلہ بھی تھا۔ یہاں برطانوی شہزادی مارگریٹ کا دوست پیٹر ٹاؤئنسٹینڈ بھی آیا۔ کوئٹہ میں عراق کے نوجوان شاہ فیصل بھی آئے تھے اور برطانیہ کی ملکہ جب پاکستان آئیں تو ان کو کوئٹہ بھی لایا گیا تھا کوئٹہ محبتوں اور امن کا شہرتھا۔
1957ء میں کوئٹہ میں ریڈیو اسٹیشن قائم ہوا تو اس شہر میں پورے صوبے کے دانشور اور فنکار آنے لگے۔ریڈیو پاکستان کی عمارت میں بلوچستان اور پاکستان کے تمام رنگ اپنا حسن بکھیرنے لگے۔ میں نے نواب اکبر بگٹی کو پہلی بار وزیر مملکت برائے دفاع کی حیثیت سے مکران ہاؤس میں قائم ریڈیو پاکستان میں آتے دیکھا اور ان کی تقریر کی اناؤنسمنٹ کی۔ نواب اکبر بگٹی کا درباری گلوکار مرید بگٹی اس دن خوشی سے پھولا نہ سما رہا تھا وہ کوئٹہ ریڈیو کا باقاعدہ ملازم تھا۔ کوئٹہ ریڈیو پر تقریر کرنے کے لئے سینئر مسلم لیگی لیڈر جعفر خان جمالی بھی آیا کرتے تھے اور قائد اعظم کے ساتھی قاضی عیسیٰ بھی ان کی بیگم سعیدہ قاضی عورتوں کے پروگرام میں تقریر کیا کرتی تھیں۔ نامور بلوچ شاعر اور ادیب میرگل خان نصیر بھی ریڈیو سے وابستہ تھے، صادقین کے بڑے بھائی کاظمین نقوی نیوز ایڈیٹر تھے اور سیما غزل اور زبیر عباسی کے والد شعیب حزیں کوئٹہ ریڈیو کے اسکرپٹ رائٹر تھے۔ مکران کے امان اللہ گچکی کوئٹہ ریڈیو پر بلوچی کے اسکرپٹ رائٹر تھے۔ میر عبدالباقی بلوچ باقاعدگی سے ریڈیو آیا کرتے تھے جب انہوں نے مغربی پاکستان کی اسمبلی کے لئے انتخاب میں حصہ لینا چاہا تو زرضمانت کے 5 ہزار روپے ریڈیو میں ان کے دوست افسروں بشیر احمد بلوچ اور عبدالمالک بلوچ نے دیئے تھے۔ عبدالمالک بلوچ بعد میں سینیٹ کے وائس چیئرمین بھی بنے تھے۔جب مارشل لاء لگا تو اس دن ریڈیو پاکستان کے گیٹ پر بندوق برداروں کو دیکھ کر جھرجھری سی آئی۔ ڈیوٹی روم میں بھی ایک بندوق بردار تھا۔ اسٹوڈیو میں پہنچا تو وہاں کرسی پر ایک بندوق بردار بیٹھا ہوا تھا۔ میرے بوتھ کے پیچھے شیشے کے پار کنٹرول روم تھا وہاں بھی ایک بندوق والا مستعدی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ یکایک مجھے یہ احساس ہوا کہ جیسے میں قید ہوگیا ہوں۔ ”قید“ اور ”قیدی“ کے الفاظ میرے ذہن میں گونجنے لگے۔ اور جب شام کے 5 بجے تو میں نے اناؤنسمنٹ اس طرح سے کی۔”یہ ریڈیو پاکستان قوئٹہ ہے“
اس زمانے میں ریڈیو کا ایک ایک لفظ سنا جاتا تھا اور غلط الفاظ گرفت میں آتے تھے ڈیوٹی آفیسر فوراً اسٹوڈیو میں آگیا۔ اس نے کہا ”تم نے کوئٹہ کو قوئٹہ کیوں کہا؟“ مجھ سے جواب نہ بن پڑا۔ مجھے احساس ہی نہ تھا کہ میرے اعصاب پر قید کا ”ق“ کس طرح سے سوار ہو گیا ہے بعد میں مجھ سے تحریری جواب طلبی کی گئی۔ میں نے معافی مانگی اور ڈائریکٹر جناب کے جی علی نے مجھے معاف کردیا۔
مجھے یاد ہے اسکندر مرزا اور ایوب خان کے مارشل لاء سے ایک شام پہلے ٹاؤن ہال کوئٹہ کے لان میں حسین شہید سہرودی کا انتخابی جلسہ تھا۔ اس جلسے پر حملہ کروایا گیا۔ اسٹیج پر اینٹیں پھینکی گئیں۔ سہروردی اسی شام کوئٹہ سے چلے گئے اور جب وہ سبّی پہنچے تو ان کو معلوم ہوا کہ ملک میں مارشل لاء لگ گیا ہے۔ 2 ہفتے بعد میں نے لٹن روڈ پر سرکٹ ہاؤس کے اندر جاتی ایک کار کی پچھلی نشست پر اسکندر مرزا کو دیکھا جس کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔ صدر کو معزول کر کے پہلے کوئٹہ لایا گیا تھا بعد میں وہ لندن گئے اور پھر وہیں کے ہو گئے۔
ایوب خان ملک کے صدر بن گئے پھر فیلڈ مارشل بھی بنے۔ نواب اکبر خان بگٹی کو قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی پھر ایوب خان نے ان کو معاف بھی کردیا۔ ان کا خیال تھا کہ اب نواب بگٹی ان کا حامی ہو جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا ایوب خان کوئٹہ آئے تو انہوں نے ریس کورس گراؤنڈ میں جلسہ کیا اس جلسے کو سننے کے لئے سردار خیر بخش مری اپنی چھوٹی سے فوکسی کار میں آئے تھے۔ جلسہ گاہ سے باہرسڑک کے کنارے کار کھڑی کر کے وہ ایوب خان کی تقریر سن رہے تھے میں نے بھی اپنی سائیکل وہاں ایک درخت کے نیچے روکی سردار خیر بخش مری کا چہرہ تاثرات سے خالی تھا لیکن جب ایوب خان نے نواب اکبر بگٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ” میں جس کو معاف کر سکتا ہوں اس کو دوبارہ بھی سزائے موت دے سکتا ہوں“۔ تو سردار خیر بخش مری زور سے ہنس دیئے۔
نامور بلوچی شاعر عطا شاد میرے کلاس فیلو تھے۔ گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں جناب سرور خان اور چوہدری عطا محمد کے بعد کرار حسین صاحب پرنسپل بنے۔ گورنر بلوچستان بننے والے سردار گل محمد جوگیزئی ہم سے سینئر تھے ان سینئرز میں مشہور کرکٹ امپائر محبوب شاہ بھی تھے۔ 1959ء میں، میں نے سید فصیح اقبال کے اخبار زمانہ میں رپورٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے کام شروع کیا تو وہاں اکثر نواب غوث بخش رئیسانی سے ملاقات ہوتی۔ وہ فصیح اقبال صاحب کے دوست اور پاکستان کے عاشق تھے کوئٹہ میں لال کباب میں کھانا کھاتے ہوئے ہم اس بات پر فخر محسوس کیا کرتے تھے کہ قائد اعظم کو لال کباب کے کباب اور کھانے بہت پسند تھے۔
میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ کوئٹہ محبتوں کا شہر کیوں اور کس طرح خوف کا شہربن گیا۔ ایوب خان نے یہاں خوف کو انٹری دی، بھٹو صاحب کے پورے دور میں یہاں ایکشن ہوتا رہا اور پورا شہر ساری رات دھماکوں سے گونجتا رہتا تھا پھر مشرف نے آکر اس ایکشن کو دوبارہ جاری کیا۔ ”قاف“ لیگ کے ذریعے ایک بار پھر بلوچستان کو قید کیا اور پاکستان کے حامی اکبر بگٹی کو ہلاک بھی کردیا۔ میں اکثر سوچتا ہوں، کوئٹہ کوقید کر کے ”قوئٹہ“ کیوں بنا دیا گیا؟ مجھے کوئٹہ ریڈیو کی 7/ اکتوبر کی شام یاد آ جاتی ہے وہ ریڈیو جس پر اکبر بگٹی کا درباری گلوکار مرید بگٹی محبت کا گیت گایا کرتا تھا،کس طرح قیدی بنا دیا گیا تھا۔
بیا بیا مٹی دلبر رہیر بیتگاں
اس تئی دوست در دان فقیر بیتگاں
(اے دوست آجا کہ تیرے فراق میں پریشان ہوں اور تیری محبت کے درد نے مجھے فقیر بنا دیا ہے)
تازہ ترین